ٹیگ کے محفوظات: ذائقہ

تم نہ ملتے خدا نہیں ملتا

نینا عادل ۔ غزل نمبر 6
بندگی کا صلہ نہیں ملتا
تم نہ ملتے خدا نہیں ملتا
چاٹ لیتی ہے استخواں آتش
راکھ کو ذائقہ نہیں ملتا
پوچھ تو اپنے خالی ہاتھوں سے
کیا جہاں میں بھلا نہیں ملتا؟
خواب بھی انتقام لیتے ہیں
نیند کا در کھلا نہیں ملتا
عشق قیدی قفس سے کرتا ہے
جب کوئی آشنا نہیں ملتا
اک ترے اعتبار کا لمحہ
لاکھ سمجھیں ملا! نہیں ملتا
میں تو میں ہوں مرا تصّور بھی
خود پرستوں سے جا!، نہیں ملتا
موج ساحل پہ سر پٹکتی ہے
تشنگی کا سِرا نہیں ملتا
کیا غرض انتظارِ پیہم کو
یار ملتا ہے یا! نہیں ملتا
نینا عادل

اور ایک شور سا خیموں میں ہے بپا کیسا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 15
رُکا ہوا ہے یہ صحرا میں قافلہ کیسا
اور ایک شور سا خیموں میں ہے بپا کیسا
اسیر کس نے کیا موج موج پانی کو
کنارِ آپ ہے پہرا لگا ہوا کیسا
ابھی سیاہ، ابھی سیم گوں، ابھی خوُنبار
اُفق اُفق ہے یہ منظر گریز پا کیسا
اذان ہے کہ علم کیا بلند ہوتا ہے
یہ جل رہا ہے ہوا میں چراغ سا کیسا
یہ لوگ دشت جفا میں کسے پُکارتے ہیں
یہ بازگشت سناتی ہے مرثیہ کیسا
گلوئے خشک میں سوکھی پڑی ہے پیاس کی نہر
خبر نہیں کہ ہے پانی کا ذائقہ کیسا
وہ مہربان اجازت تو دے رہا ہے مگر
یہ جاں نثار ہیں مقتل سے لوٹنا کیسا
یہ ایک صف بھی نہیں ہے، وہ ایک لشکر ہے
یہاں تو معرکہ ہو گا، مقابلہ کیسا
سلگتی ریت میں جو شاخ شاخ دفن ہوا
رفاقتوں کا شجر تھا ہرا بھرا کیسا
یہ سرُخ بوُند سی کیا گھل رہی ہے پانی میں
یہ سبز عکس ہے آنکھوں میں پھیلتا کیسا
کھڑا ہے کون اکیلا حصارِ غربت میں
گھرا ہوا ہے اندھیروں میں آئنہ کیسا
یہ ریگِ زرد ردا ہے برہنہ سر کے لیے
اُجاڑ دشت میں چادر کا آسرا کیسا
سیاہ نیزوں پہ سورج اُبھرتے جاتے ہیں
سوادِ شام ہے منظر طلوع کا کیسا
تجھے بھی یاد ہے اے آسماں کہ پچھلے برس
مری زمین پہ گزرا ہے سانحہ کیسا
عرفان صدیقی