ٹیگ کے محفوظات: د

چین ملتا ہے تو یاد آتے ہیں غم دِلّی کے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 284
کتنے دِلدار تھے اَربابِ ستم دِلّی کے
چین ملتا ہے تو یاد آتے ہیں غم دِلّی کے
کتنی بھولی ہوئی یادوں نے سنبھالا دِل کو
جیسے پردیس میں ہوں دوست بہم دِلّی کے
جانے کیوں کوئی سندیسہ نہیں لاتی پچھوا
کیا ہمیں بھول گئے اہلِ کرم دلّی کے
چاہے جس شہر میں رہ آئیں، مگر رہتے ہیں
زندگی دِلّی کی، دِل دِلّی کا، ہم دِلّی کے
یوُں تو بُت خانہ ہے یہ شہر بھی لیکن عرفانؔ
آج تک پھرتے ہیں آنکھوں میں صنم دِلّی کے
عرفان صدیقی

ساقیا! ہلکی سی لا اِن کے لئے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 39
تند مے اور ایسے کمسِن کے لئے
ساقیا! ہلکی سی لا اِن کے لئے
جب سے بلبل تُو نے دو تن کے لئے
ٹوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لئے
ہے جوانی خود جوانی کا سنگھار
سادگی گہنا ہے اس سِن کے لئے
ساری دنیا کے ہیں وہ میرے سوا
میں نے دنیا چھوڑ دی جن کے لئے
وصل کا دن اور اتنا مختصر
دن گنے جاتے تھے اس دن کے لئے
باغباں! کلیاں ہوں ہلکے رنگ کی
بھیجنی ہیں ایک کمسِن کے لئے
کون ویرانے میں دیکھے گا بہار
پھول جنگل میں کھلے کن کے لئے
سب حسیں ہیں زاہدوں کو نا پسند
اب کوئی حور آئے گی اِن کے لئے
صبح کا سونا جو ہاتھ آتا امیر
بھیجتے تحفہ موذِّن کے لئے
امیر مینائی