ٹیگ کے محفوظات: دیے

یا اُن سے کوئی بات ہو جھگڑا کیے بغیر

ممکن نہیں خموش رہوں لب سیے بغیر
یا اُن سے کوئی بات ہو جھگڑا کیے بغیر
انصاف کا اصولِ توازن یہ خوب ہے
دیتے نہیں وہ حق بھی مرا کچھ لیے بغیر
لگتا ہے تیرے ساتھ ملی زندگی ہمیں
گویا کہ اِس سے پہلے جیے ہم جیے بغیر
ناصح کریں گے تیری نصیحت پہ ہم عمل
ہو آئے اُس گلی سے جو تُو دل دیے بغیر
اب اُس کی ہوش مندی کی دینی پڑے گی داد
شیشے میں جس نے تجھ کو اُتارا پیے بغیر
باصر کاظمی

چل نکلتے جو مے پیے ہوتے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 216
میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں
چل نکلتے جو مے پیے ہوتے
قہر ہو یا بلا ہو جو کچھ ہو
کاشکے تم مرے لیے ہوتے
میری قسمت میں غم گر اتنا تھا
دل بھی یا رب کئی دیے ہوتے
آ ہی جاتا وہ راہ پر غالب
کوئی دن اور بھی جیے ہوتے
مرزا اسد اللہ خان غالب

پھرتے ہیں ہم بھی ہاتھ میں سر کو لیے ہوئے

دیوان اول غزل 611
ظالم کہیں تو مل کبھو دارو پیے ہوئے
پھرتے ہیں ہم بھی ہاتھ میں سر کو لیے ہوئے
آئوگے ہوش میں تو ٹک اک سدھ بھی لیجیو
اب تو نشے میں جاتے ہو زخمی کیے ہوئے
جی ڈوبتا ہے اس گہرتر کی یاد میں
پایان کار عشق میں ہم مرجیے ہوئے
سی چاک دل کہ چشم سے ناصح لہو تھمے
ہوتا ہے کیا ہمارے گریباں سیے ہوئے
کافر ہوئے بتوں کی محبت میں میرجی
مسجد میں آج آئے تھے قشقہ دیے ہوئے
میر تقی میر

نالوں نے میرے ہوش جرس کے اڑا دیے

دیوان اول غزل 562
محمل کے ساتھ اس کے بہت شور میں کیے
نالوں نے میرے ہوش جرس کے اڑا دیے
فصاد خوں فساد پہ ہے مجھ سے ان دنوں
نشتر نہ تو لگاوے تو میرا لہو پیے
عشق بتاں سے نبض مری دیکھ کر حکیم
کہنے لگا خدا ہی ہو اب تو تو یہ جیے
صوت جرس کی طرز بیاباں میں ہائے میر
تنہا چلا ہوں میں دل پر شور کو لیے
میر تقی میر

کچھ نصیبوں نے بھی دیے ہیں سانپ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 243
کچھ تلاش آپ ہی کیے ہیں سانپ
کچھ نصیبوں نے بھی دیے ہیں سانپ
گفتگو زہر سے بھری ہی نہیں
سر پہ دستار بھی لیے ہیں سانپ
چھاؤں کو ڈس رہے ہیں شاخوں سے
دھوپ کے سرخ زاویے ہیں سانپ
شام ہوتے ہی چاٹتے ہیں دل
بس وہ دوچار ثانیے ہیں سانپ
پھر کہا خواب سے سپیرے نے
اور اب کتنے چاہیے ہیں سانپ
بھر گیا زہرِ غم سے اپنا دل
یعنی یادوں کے بھی دیے ہیں سانپ
منصور آفاق