ٹیگ کے محفوظات: دیں

لفظ میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 112
مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
لفظ میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گے
لوگ تھرا گئے جس وقت منادی آئی
آج پیغام نیا ظلِ الہٰی دیں گے
جھونکے کچھ ایسے تھپکتے ہیں گلوں کے رخسار
جیسے اس بار تو پت جھڑ سے بچا ہی لیں گے
ہم وہ شب زاد کہ سورج کی عنایات میں بھی
اپنے بچوں کو فقط کور نگاہی دیں گے
آستیں سانپوں کی پہنیں گے گلے میں مالا
اہلِ کوفہ کو نئی شہر پناہی دیں گے
شہر کی چابیاں اعدا کے حوالے کر کے
تحفتاً پھر انہیں مقتول سپاہی دیں گے
پروین شاکر

سلوٹیں روشنی میں اُبھریں گی

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 81
دستِ شب پر دکھائی کیا دیں گی
سلوٹیں روشنی میں اُبھریں گی
گھر کی دیواریں میرے جانے پر
اپنی تنہائیوں کو سوچیں گی
اُنگلیوں کو تراش دوں ، پھر بھی
عادتاً اُس کا نام لکھیں گی
رنگ و بُو سے کہیں پناہ نہیں
خواہشیں بھی کہاں اماں دیں گی
ایک خوشبو سے بچ بھی جاؤں اگر
دُوسری نکہتیں جکڑ لیں گی
خواب میں تتلیاں پکڑنے کو
نیندیں بچوں کی طرح دوڑیں گی
کھڑکیوں پر دبیز پردے ہوں
بارشیں پھر بھی دستکیں دیں گی
پروین شاکر

سیلاب کی سماعتیں ، آندھی کو رہن تھیں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 10
کیا ڈوبتے ہَوؤں کی صدائیں سمیٹتیں
سیلاب کی سماعتیں ، آندھی کو رہن تھیں
کائی کی طرح لاشیں چٹانوں پہ اُگ گئیں
زر خیزیوں سے اپنی پریشان تھی زمیں
پیڑوں کا ظرف وہ کہ جڑیں تک نکال دیں
پانی کی پیاس ایسی کہ بجھتی نہ تھی کہیں
بچوں کے خواب پی کے بھی حلقوم خشک تھے
دریا کی تشنگی میں بڑی وحشتیں رہیں
بارش کے ہاتھ چُنتے رہے بستیوں سے خواب
نیندیں ہوائے تُند کی موجوں کو بھا گئیں
ملبے سے ہر مکان کے ، نکلے ہوئے تھے ہاتھ
آندھی کو تھامنے کی بڑی کوششیں ہوئیں
تعویذ والے ہاتھ مگر مچھ کے پاس تھے
تہہ سے ، دُعا لکھی ہُوئی پیشانیاں تھیں
موجوں کے ساتھ سانپ بھی پھنکارنے لگے
جنگل کی وحشتیں بھی سمندر سے مل گئیں
بس رقص پانیوں کا تھا وحشت کے راگ پر
دریا کو سب دھنیں تو ہَواؤں نے لکھ کے دیں
پروین شاکر

غالباً کچھ تو ہوا ہے مری تسکیں کا خیال

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 61
یاں کے آنے میں نہیں ان کو جو تمکیں کا خیال
غالباً کچھ تو ہوا ہے مری تسکیں کا خیال
کفِ افسوس مَلے سے بھی پڑے ہاتھ میں نقش
بس کہ ہے دل میں مرے دستِ نگاریں کا خیال
گو مجھے عاشقِ مفلس وہ کہیں طعنے سے
تو بھی کیوں کر نہ رکھوں ساعدِ سیمیں کا خیال
تعزیت کو مری وہ آئے تو کیا ذلت ہے
اہلِ ماتم کو نہیں بزم کی تزئیں کا خیال
کیوں نہ ہو دستِ مژہ ماتمیوں کا رنگیں
مرتے دم تھا مجھے اس پنجۂ رنگیں کا خیال
سخنِ عشق ہے پتھر کی لکیر اے پرویز
دلِ فرہاد سے کیوں کر مٹے شیریں کا خیال
کیا مسلمان ہیں ہم شیفتہ سبحان اللہ
دل سے جاتا نہیں دم بھر بتِ بے دیں کا خیال
مصطفٰی خان شیفتہ

ہر کہیں کس دن نہ تھا میں، ہر کہیں تو کب نہ تھا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 23
میں پریشاں گرد اور محفل نشیں تو کب نہ تھا
ہر کہیں کس دن نہ تھا میں، ہر کہیں تو کب نہ تھا
یاں سبک حرفِ ملامت، واں گراں عرضِ نیاز
سخت جاں میں کب نہ تھا اور نازنیں تو کب نہ تھا
ناصح و واعظ کے مطعوں اے صنم ہم کب نہ تھے
آفتِ جان و بلائے عقل و دیں تو کب نہ تھا
انتہا کی بات ہے یاں ابتدائے عشق ہے
ہم نہ تھے کب عجز گستر، خشمگیں تو کب نہ تھا
جستجو میں سرمۂ تسخیر کی ہم کب نہ تھے
چشمِ افسوں ساز سے سحر آفریں تو کب نہ تھا
تجھ کو شک الفت میں اپنی، ہم کو وہمِ ربطِ غیر
بدگماں ہم کب نہ تھے اور بے یقیں تو کب نہ تھا
نا شکیبا، مضطرب، وقفِ ستم، ہم کب نہ تھے
بے مروت، بے وفا، مصروفِ کیں تو کب نہ تھا
تیری ان باتوں پہ ہم طعنے اٹھاتے کب نہ تھے
اے ستم گر شیفتہ کا ہم نشیں تو کب نہ تھا
مصطفٰی خان شیفتہ

جز درد اب نہیں ہے پہلونشیں ہمارا

دیوان پنجم غزل 1547
پہلو سے اٹھ گیا ہے وہ نازنیں ہمارا
جز درد اب نہیں ہے پہلونشیں ہمارا
ہوں کیوں نہ سبز اپنے حرف غزل کہ ہے یہ
وے زرع سیرحاصل قطعہ زمیں ہمارا
کیسا کیا جگر خوں آزار کیسے کھینچے
آساں نہیں ہوا دل اندوہگیں ہمارا
حرف و سخن تھے اپنے یا داستاں جہاں میں
مذکور بھی نہیں ہے یا اب کہیں ہمارا
کیا رائیگاں بتوں کو دے کر ہوئے ہیں کافر
ارث پدر جو اب تھا یہ کہنہ دیں ہمارا
لخت جگر بھی اپنا یاقوت ناب سا ہے
قطرہ سرشک کا ہے دُرثمیں ہمارا
کیا خاک میں ملایا ہم کو سپہر دوں نے
ڈھونڈا نشان تربت پاتے نہیں ہمارا
حالت ہے نزع کی یاں آئو کہ جاتے ہیں ہم
آنکھوں میں منتظر ہے دم واپسیں ہمارا
اک عمر مہر ورزی جن کے سبب سے کی تھی
پاتے ہیں میر ان کو سرگرم کیں ہمارا
میر تقی میر

کہ افشاں کیجے خون اپنے سے اس کے دامن زیں کو

دیوان دوم غزل 931
ملا یا رب کہیں اس صید افگن سربسر کیں کو
کہ افشاں کیجے خون اپنے سے اس کے دامن زیں کو
گئے وے سابقے سارے خصوصیت رہے پیارے
کبھو در تک تو آ بارے ہمارے دل کی تسکیں کو
پیے جاتے نہیں بس اب لہو کے گھونٹ یہ مجھ سے
بہت پی پی گیا ڈر سے ترے میں اشک خونیں کو
نہ لکھیں یار کو محضر ہمارے خون ناحق کا
دکھا دیویں گے ہم محشر میں اس کے دست رنگیں کو
بجز حیرت نہ بن آوے گی کوئی شکل پھر اس سے
دکھایا ہم نے گر چہرہ ترا صورت گرچیں کو
ابھر کر سنگ کے تختے سے پھر دیکھا کیا اودھر
محبت ہو گئی تھی کوہکن سے نقش شیریں کو
ہم اس کے چاند سے منھ کے ہیں عاشق مہ سے کیا ہم کو
سر اپنا کبک ہی مارا کرے اس خشت سیمیں کو
ہوئے کیا کیا مقدس لوگ آوارہ ترے غم میں
سبک پا کر دکھایا شوخ تونے اہل تمکیں کو
بہت مدت ہوئی صحرا سے مجنوں کی خبر آئے
نہیں معلوم پیش آیا ہے کیا اس یار دیریں کو
لیے تسبیح ہاتھوں میں جو تو باتیں بناتا ہے
نہیں دیکھا ہے واعظ تونے اس غارت گر دیں کو
گیا کوچے سے تیرے اٹھ کے میر آشفتہ سر شاید
پڑا دیکھا تھا میں نے رہ میں اس کے سنگ بالیں کو
میر تقی میر

ہم چھوڑی مہر اس کی کاش اس کو ہووے کیں بھی

دیوان اول غزل 440
یکسو کشادہ روئی پرچیں نہیں جبیں بھی
ہم چھوڑی مہر اس کی کاش اس کو ہووے کیں بھی
آنسو تو تیرے دامن پونچھے ہے وقت گریہ
ہم نے نہ رکھی منھ پر اے ابر آستیں بھی
کرتا نہیں عبث تو پارہ گلو فغاں سے
گذرے ہے پار دل کے اک نالۂ حزیں بھی
ہوں احتضار میں میں آئینہ رو شتاب آ
جاتا ہے ورنہ غافل پھر دم تو واپسیں بھی
سینے سے تیر اس کا جی کو تو لیتا نکلا
پر ساتھوں ساتھ اس کے نکلی اک آفریں بھی
ہر شب تری گلی میں عالم کی جان جا ہے
آگے ہوا ہے اب تک ایسا ستم کہیں بھی
شوخی جلوہ اس کی تسکین کیونکے بخشے
آئینوں میں دلوں کے جو ہے بھی پھر نہیں بھی
گیسو ہی کچھ نہیں ہے سنبل کی آفت اس کا
ہیں برق خرمن گل رخسار آتشیں بھی
تکلیف نالہ مت کر اے درد دل کہ ہوں گے
رنجیدہ راہ چلتے آزردہ ہم نشیں بھی
کس کس کا داغ دیکھیں یارب غم بتاں میں
رخصت طلب ہے جاں بھی ایمان اور دیں بھی
زیر فلک جہاں ٹک آسودہ میر ہوتے
ایسا نظر نہ آیا اک قطعۂ زمیں بھی
میر تقی میر

آشنا شکل ہر حسیں کی ہے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 36
تیری صورت جو دلنشیں کی ہے
آشنا شکل ہر حسیں کی ہے
حسن سے دل لگا کے ہستی کی
ہرگھڑی ہم نے آتشیں کی ہے
صبحِ گل ہو کہ شامِ مے خانہ
مدح اس روئے نازنیں کی ہے
شیخ سے بے ہراس ملتے ہیں
ہم نے توبہ ابھی نہیں کی ہے
ذکر دوزخ، بیانِ حور و قصور
بات گویا یہیں کہیں کی ہے
اشک تو کچھ بھی رنگ لا نہ سکے
خوں سے تر آج آستیں کی ہے
کیسے مانیں حرم کے سہل پسند
رسم جو عاشقوں کے دیں کی ہے
فیض اوجِ خیال سے ہم نے
آسماں سندھ کی زمیں کی ہے
فیض احمد فیض

وہ ہم سے کہہ رہا ہے کیا مجھے بیمار کردیں گے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 285
سو ہم نذرِ فراموشی یہ سب اشعار کردیں گے
وہ ہم سے کہہ رہا ہے کیا مجھے بیمار کردیں گے
وہی سچ ہے جو آنکھوں سے ہویدا ہوتا رہتا ہے
اگر ہونٹوں سے پوچھو گے تو وہ انکار کردیں گے
بدن کی ریت پر اب تک اسی وعدے کا سایہ ہے
اب آئیں گے تو تیرے دشت کو گلزار کردیں گے
بتانِ شہر سے یہ دل تو زندہ ہو نہیں سکتا
بہت ہو گا تو میری خواہشیں بیدار کر دیں گے
قیامت استعارہ ہے اشارہ میرے قاتل کا
کہ ہم ابرو ہی کیا سارا بدن تلوار کردیں گے
انہیں دیوارِ جاں ہی سے الجھنے دو کہ وحشی ہیں
اگر چھیڑا تو دیوارِ جہاں مسمار کردیں گے
کسی کو شہر میں سیلِ بلا کی زد پہ آنا ہے
چلو یہ کام بھی میرے در و دیوار کردیں گے
عرفان صدیقی

ہم تمہارے نہیں! خدا حافظ

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 202
حسنِ خلدِ بریں! خدا حافظ
ہم تمہارے نہیں! خدا حافظ
موت کا وار کامیاب ہوا
خنجرِ آستیں! خدا حافظ
جسم پر بار اب ہے زہرِ مگس
شہد کی سرزمیں! خدا حافظ
دل مچلتاہے سجدہ کرنے کو
سرکشیدہ جبیں! خدا حافظ
بھوک ہے قحط ہے، تمہارا بھی
پرورِ عالمیں! خدا حافظ
ہم نے انگشتری بدل لی ہے
آسماں کے نگیں! خدا حافظ
ہم اِدھر بھی نہیں اُدھر بھی نہیں
اے چناں اے چنیں! خدا حافظ
خوش رہو تم جہاں رہو ساتھی
کہہ رہے ہیں ہمیں! خدا حافظ
چھوڑدی پوجا آفتابوں کی
دینِ مہرِ مبیں! خدا حافظ
ہم حصارِ نظر سے باہر تھے
دیدہِ دل نشیں! خدا حافظ
اس کو دیکھا بھی ہے ٹٹولا بھی
صحبتِ بے یقیں! خدا حافظ
آرہا ہے قیام کو کوئی
اے غمِ جا گزیں! خدا حافظ
ہے لبِ یار پر تبسم سا
سوزِ طبعِ حزیں! خدا حافظ
زندگی سے لڑائی کیا کرنی
اے کمان و کمیں! خدا حافظ
تم مخالف نہیں حکومت کے
حلقۂ مومنیں! خدا حافظ
شاخ کی طرح خالی ہونا تھا
اے گلِ آخریں! خدا حافظ
چھوڑ آئے ہیں ہم بھرا میلہ
نغمۂ آفریں! خدا حافظ
یاد کے دشت نے پکارا ہے
چشمۂ انگبیں! خدا حافظ
آگ تم سے بھی اب نہیں جلتی
اے مئے آتشیں! خدا حافظ
تم کو بالشتیے مبارک ہوں
رفعتِ ملک و دیں! خدا حافظ
یہ تعلق نہیں ، نہیں منصور
تم کہیں ، ہم کہیں! خدا حافظ
منصور آفاق

مسافروں کے ارادے بدل نہ جائیں کہیں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 24
یہ آگ آگ ہوائیں یہ سرخ سرخ زمیں
مسافروں کے ارادے بدل نہ جائیں کہیں
ترے بغیر نظر کا یہ حال ہے جیسے
تمام شہرکی شمعیں کسی نے گل کر دیں
ہزار کروٹیں لیتی ہے ایک پل میں حیات
جو ایک بار نگاہیں ہٹیں تو پھر نہ ملیں
ترے خیال میں گم ہو گئے ہیں دیوانے
ترے سوا کوئی اب تیری انجمن میں نہیں
اسی کا نام تو دیوانگی نہیں باقیؔ
کہ اپنے آپ سے ہنس ہنس کے ہم نے باتیں کیں
باقی صدیقی