ٹیگ کے محفوظات: دیگر

ناامید اس زندگانی کرنے سے اکثر ہے اب

دیوان چہارم غزل 1357
کیا کریں تدبیر دل مقدور سے باہر ہے اب
ناامید اس زندگانی کرنے سے اکثر ہے اب
جن دنوں ہم کافروں سے ربط تھا وے ہوچکے
وہ بت بے مہر اپنی اور سے پتھر ہے اب
دور تک رسوا ہوا ہوں شہروں شہروں ملک ملک
میرے شعر و شاعری کا تذکرہ گھر گھر ہے اب
وہ طبیعت ہی نہیں ہے میری اے مشفق طبیب
کر دوا جو طبع میں آوے تری بہتر ہے اب
بے خود اس مست ادا و ناز بن رہتے ہیں ہم
عالم اپنا دیکھیے تو عالم دیگر ہے اب
وہ سپاہی پیشہ لوگوں ہی میں رہتا ہے گھرا
گرد پیش اس دشمن احباب کے لشکر ہے اب
گفتگو انسان سے محشر میں ہے یعنی کہ میر
سارا ہنگامہ قیامت کا مرے سر پر ہے اب
میر تقی میر

چلے آتے تھے چاروں اور سے پتھر جہاں میں تھا

دیوان سوم غزل 1081
جنوں میں ساتھ تھا کل لڑکوں کا لشکر جہاں میں تھا
چلے آتے تھے چاروں اور سے پتھر جہاں میں تھا
تجلی جلوہ اس رشک قمر کا قرب تھا مجھ کو
جلے جاتے تھے واں جائے ملک کے پر جہاں میں تھا
گلی میں اس کی میری رات کیا آرام سے گذری
یہی تھا سنگ بالیں خاک تھی بستر جہاں میں تھا
غضب کچھ شور تھا سر میں بلا بے طاقتی جی میں
قیامت لحظہ لحظہ تھی مرے دل پر جہاں میں تھا
چبھیں تھیں جی میں وے پلکیں لگیں تھیں دل کو وے بھوویں
یہی شمشیر چلتی تھی یہی خنجر جہاں میں تھا
خیال چشم و روے یار کا بھی طرفہ عالم ہے
نظر آیا ہے واں اک عالم دیگر جہاں میں تھا
عجب دن میر تھے دیوانگی میں دشت گردی کے
سر اوپر سایہ گستر ہوتے تھے کیکر جہاں میں تھا
میر تقی میر

کچھ مزاج ان دنوں مکدر تھا

دیوان اول غزل 107
دل جو زیرغبار اکثر تھا
کچھ مزاج ان دنوں مکدر تھا
اس پہ تکیہ کیا تو تھا لیکن
رات دن ہم تھے اور بستر تھا
سرسری تم جہان سے گذرے
ورنہ ہر جا جہان دیگر تھا
دل کی کچھ قدر کرتے رہیو تم
یہ ہمارا بھی ناز پرور تھا
بعد یک عمر جو ہوا معلوم
دل اس آئینہ رو کا پتھر تھا
بارے سجدہ ادا کیا تہ تیغ
کب سے یہ بوجھ میرے سر پر تھا
کیوں نہ ابر سیہ سفید ہوا
جب تلک عہد دیدئہ تر تھا
اب خرابہ ہوا جہان آباد
ورنہ ہر اک قدم پہ یاں گھر تھا
بے زری کا نہ کر گلہ غافل
رہ تسلی کہ یوں مقدر تھا
اتنے منعم جہان میں گذرے
وقت رحلت کے کس کنے زر تھا
صاحب جاہ و شوکت و اقبال
اک ازاں جملہ اب سکندر تھا
تھی یہ سب کائنات زیر نگیں
ساتھ مور و ملخ سا لشکر تھا
لعل و یاقوت ہم زر و گوہر
چاہیے جس قدر میسر تھا
آخر کار جب جہاں سے گیا
ہاتھ خالی کفن سے باہر تھا
عیب طول کلام مت کریو
کیا کروں میں سخن سے خوگر تھا
خوش رہا جب تلک رہا جیتا
میر معلوم ہے قلندر تھا
میر تقی میر