ٹیگ کے محفوظات: دیکھا؟

یہ صراحی میں پھول نرگس کا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 44
میری مانند خودنگر، تنہا
یہ صراحی میں پھول نرگس کا
اتنی شمعیں تھیں تیری یادوں کی
اپنا سایہ بھی اپنا سایہ نہ تھا
میرے نزدیک تیری دوری تھی
کوئی منزل تھی، کوئی عالم تھا
ہائے وہ زندگی فریب آنکھیں
اس نے کیا سوچا، میں نے کیا سمجھا
صبح کی دھوپ ہے کہ رستوں پر
منجمد بجلیوں کا اک دریا
گھنگھروؤں کی جھنک منک میں بسی
تیری آہٹ، میں کس خیال میں تھا
کون یاد آ گیا تھا، یاد نہیں
دل بھی اک ضرب بھول بھول گیا
سارے بندھن کڑے سہی، لیکن
تجھ سے یہ ربط، دھندلا اور گہرا
پھر کہیں دل کے برج پر کوئی عکس
فاصلوں کی فصیل سے ابھرا
پھول مرجھا نہ جائیں بجروں میں
مانجھیو! کوئی گیت ساحل کا
وقت کی سرحدیں سمٹ جاتیں
تیری دوری سے کچھ بعید نہ تھا
عمر جلتی ہے، بخت جلووں کے
زیست مٹتی ہے، بھاگ مٹی کا
رہیں دردوں کی چوکیاں چوکس
پھول لوہے کی باڑ پر بھی کھلا
جو خود ان کے دلوں میں تھا تہہِ سنگ
وہ خزانہ کسی کسی کو ملا
لاکھ قدریں تھیں زندگانی کی
یہ محیط اک عجیب زاویہ تھا
سانس کی رو میں رونما طوفاں
تیغ کی دھار پر بہے دھارا
ہے جو یہ سر پہ گیان کی گٹھڑی
کھول کر بھی اسے کبھی دیکھا؟
روز جھکتا ہے کوئے دِل کی طرف
کاخِ صد بام کا کوئی زینہ
امجد، ان آنسوؤں کو آگ لگے
کتنا نرم اور گراں ہے یہ دریا
مجید امجد