ٹیگ کے محفوظات: دیویاں

نیند چنتے ہُوئے ہاتھ ہی تھک گئے وہ بھی جب آنکھ کی سوئیاں رہ گئیں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 57
عُمر بھر کے لیے اب تو سوئی کی سوئی ہی معصوم شہزادیاں رہ گئیں
نیند چنتے ہُوئے ہاتھ ہی تھک گئے وہ بھی جب آنکھ کی سوئیاں رہ گئیں
لوگ گلیوں سے ہوکر گُزرتے رہے ، کوئی ٹھٹکا ، نہ ٹھہرا ، نہ واپس ہوا
اَدھ کُھلی کھڑکیوں سے لگی ، شام سے راہ تکتی ہُوئی لڑکیاں رہ گئیں
پاؤں چُھوکر پُجاری الگ ہو گئے ، نیم تاریک مندر کی تنہائی میں
آگ بنتی ہُوئی تن کی نو خیز خوشبو سمیٹے ہُوئے دیویاں رہ گئیں
وہ ہَوا تھی کہ کچّے مکانوں کی چھت اُڑ گئی ، اور مکیں لاپتہ ہو گئے
اب تو موسم کے ہاتھوں خزاں میں اُجڑنے کو بس خواب کی بستیاں رہ گئیں
آخرِ کار لو وہ بھی رخصت ہُوا، ساری سکھیاں بھی اب اپنے گھرکی ہوئیں
زندگی بھر کو فن کار سے گفتگو کے لیے صرف تنہائیاں رہ گئیں
شہرِ گُل ہَواؤں نے چاروں طرف ، اس قدر ریشمیں جال پھیلا دیے
تھر تھراتے پروں میں شکستہ اُڑانیں سمیٹے ہُوئے تتلیاں رہ گئیں
اجنبی شہر کی اوّلیں شام ڈھلنے لگی ، پُرسہ دینے جو آئے گئے
جلتے خیموں کی بجھتی ہُوئی راکھ پر بال کھولے ہُوئے بیبیاں رہ گئیں
پروین شاکر