ٹیگ کے محفوظات: دیر

سفک دم میں میرے اب کیا دیر ہے

دیوان ششم غزل 1878
میں ہوں تو ہے درمیاں شمشیر ہے
سفک دم میں میرے اب کیا دیر ہے
خضر دشت عشق میں مت جا کہ واں
ہر قدم مخدوم خوف شیر ہے
راہ تک تک کر ہوئے ہیں جاں بہ لب
پر وہی اب تک بھی یاں اوسیر ہے
جو گرسنہ دل تھا اس دیدار کا
اپنے جینے ہی سے وہ اب سیر ہے
کچھ نہیں جاں ان کے پیش تار مو
گھر میں شمعی رنگوں کے اندھیر ہے
پاک ہی ہوتی رہی کشتی خلق
ہر زبردست اس جواں کا زیر ہے
طائروں نے گل فشاں کی میری گور
سامنے پھولوں کا گویا ڈھیر ہے
آشنا ڈوبے بہت اس دور میں
گرچہ جامہ یار کا کم گھیر ہے
آنچل اس دامن کا ہاتھ آتا نہیں
میر دریا کا سا اس کا پھیر ہے
میر تقی میر

مداوا سے مرض گذرا کہو اب میر کیا کریے

دیوان اول غزل 635
چلی جاتی ہی نکلی جان ہے تدبیر کیا کریے
مداوا سے مرض گذرا کہو اب میر کیا کریے
نہ رکھا کرکے زنجیری پریشاں دل ہمارے کو
ہوئی یہ اب تو تیری زلف سے تقصیر کیا کریے
کریں استادگی آیا تھا جی پہ قتل ہونے میں
یہ اپنا کام ہے قاتل یہ اس کو دیر کیا کریے
نہیں آتا ہے کوئی ڈھب ہمیں آسودہ ہونے میں
بھلا تو ہی بتا اے خاطر دلگیر کیا کریے
میر تقی میر

آئے جو ہم چمن میں ہوکر اسیر آئے

دیوان اول غزل 474
گل گشت کی ہوس تھی سو تو بگیر آئے
آئے جو ہم چمن میں ہوکر اسیر آئے
فرصت میں یک نفس کی کیا درد دل سنوگے
آئے تو تم ولیکن وقت اخیر آئے
دلی میں اب کے آکر ان یاروں کو نہ دیکھا
کچھ وے گئے شتابی کچھ ہم بھی دیر آئے
کیا خوبی اس چمن کی موقوف ہے کسو پر
گل گر گئے عدم کو مکھڑے نظیر آئے
شکوہ نہیں جو اس کو پروا نہ ہو ہماری
دروازے جس کے ہم سے کتنے فقیر آئے
عمر دراز کیونکر مختار خضر ہے یاں
ایک آدھ دن میں ہم تو جینے سے سیر آئے
نزدیک تھی قفس میں پرواز روح اپنی
غنچے ہو گلبنوں پر جب ہم صفیر آئے
یوں بیٹھے بیٹھے ناگہ گردن لگے ہلانے
سر شیخ جی کے گویا مجلس میں پیر آئے
قامت خمیدہ اپنی جیسے کماں تھی لیکن
قرباں گہ وفا میں مانند تیر آئے
بن جی دیے نہیں ہے امکان یاں سے جانا
بسمل گہ جہاں میں اب ہم تو میر آئے
میر تقی میر

اُترے وُہ آفتاب لہو کے سپہر سے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 65
سایوں سے ہو کر برہنہ زمیں جس کے قہر سے
اُترے وُہ آفتاب لہو کے سپہر سے
نشے کے شہ نشین پہ کچھ دیر بیٹھ کر
آؤ نا انتقام لیا جائے دیر سے
ہرچند دی خرام کی مہلت ہواؤں نے
لیکن خراجِ مرگ لیا لہر لہر سے
بنجر پڑی ہوئی ہے زمیں جسم و جان کی
سیراب کر اسے کبھی سانسوں کی نہر سے
کب تک بچے گا اپنے تعاقب سے دیکھئے
لے کر مزاجِ شہر، وُہ نکلا ہے شہر سے
ہے جامِ خوابِ عشرت فردا بہت، مجھے
میں مر نہیں سکا ہوں کسی دکھ کے زہر سے
آفتاب اقبال شمیم

اسی طریق سے اس رات کی سویر کرو

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 11
پلا کے مست کرو، مست کر کے ڈھیر کرو
اسی طریق سے اس رات کی سویر کرو
کمال کار سیاست اسی کو کہتے ہیں
خبر وہی رہے لفظوں کا ہیر پھیر کرو
جریدۂ فنِ شہزادگی میں لکھا ہے
کہ اسپِچوب سے تیغ و سناں کو زیر کرو
جنم جنم سے میں آ آ کے ہار ہار گیا
پتہ نہیں کہ تم آنے میں کتنی دیر کرو
تمہارا جبر وہی اور اپنا صبر وہی
سہار لیں گے، بڑے شوق سے اندھیر کرو
یہ خلق یورشِ زر سے نہ ہار جائے کہیں
اسے بصیرتیں بخشو، اسے دلیر کرو
آفتاب اقبال شمیم

اے حادثاتِ وقت کے خالق گزار خیر

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 8
پاؤں سے دھرتی نکلی تو رکھے فلک پہ پیر
اے حادثاتِ وقت کے خالق گزار خیر
ہم لوگ ہیں زمیں پہ مسلسل کھڑی نماز
ہم نے رکھا نہیں ہے کبھی آسماں سے بیر
اس کرۂ کشش کے طلسمات توڑ دے
اے دجلۂ زمیں کے شناور ، خلا میں تیر
دنیا میں مال و زر کے سجودو رکوع سے
مسلم گزیدہ کعبہ ہے کافر گزیدہ دیر
وہ جانتے ہیں رات کی ساری کہا نیاں
سانسوں کے پل صراط پر دن بھر کریں جو سیر
منصور کہہ رہے ہیں عمل سے فلک شناس
ابلیس رشتہ دار ہمارا ، خدا ہے غیر
منصور آفاق