ٹیگ کے محفوظات: دیباچہ

دیباچہ

-۱-

میں سکول میں پڑھتا تھا۔ نیا نیا شعر کہنا شروع کیا تھا۔ ایک محبوب مشغلہ پاپا کی غیر موجودگی میں، ان کے کمرے میں، ہر قسم کے نئے اور پرانے رسالے ’کھنگالنا‘ تھا (غیرنصابی کتابیں پڑھنے کا دور ابھی نہیں آیاتھا)۔ ایک روز ’نیا دور‘ کے دو مختلف شماروں میں پاپا کی کئی غزلیں ایک ساتھ ملیں۔ ان کے بارے میں انوکھی بات یہ تھی کہ یہ سب کی سب ایک ہی زمین میں تھیں۔ حیرت ہوئی کہ پاپا، جو ایک غزل میں ایک ہی قافیہ ایک سے زائد بار باندھنے سے گریز کرنے کو کہا کرتے تھے، خود ایک ہی زمین میں اتنی غزلیں لکھ گئے، اور کئی قافیے کئی کئی دفعہ استعمال کیے۔ اچنبھے کی دوسری بات یہ تھی کہ ان غزلوں کی زبان اتنی سادہ تھی کہ ’پہاڑ اور گلہری‘ اور ’گائے اور بکری‘ کی یاد تازہ ہو جاتی تھی اور لب و لہجہ روزمرہ گفتگو کے اتنا قریب کہ لگتا تھا جیسے نثر کو اوزان کا پابند کر دیا گیا ہو۔ شعر کہنا بہت آسان دکھائی دینے لگا۔ کئی بار تو بے اختیار ہنسی بھی آگئی:

سینے پر دو کالی کلیاں
پیٹ کی جھیل میں کنول کھلا تھا

پاپا ریڈیو سٹیشن سے لوٹے تو میں نے انھیں دیکھتے ہی کہا، ’’کچھ غزلیں پڑھیں آج۔ اوپر آپ کا نام تھا۔ آپ ہی کی ہیں؟‘‘

’’ہاں ہاں میری ہیں۔ بالکل میری —- کیوں؟‘‘ انہوں نے رسالے دیکھتے ہوئے کہا اور سٹپٹا کر مجھے دیکھنے لگے۔ پہلے تو انھیں خیال ہوا کہ شاید میں مذاق کر رہا ہوں لیکن پھر مجھے انتہائی سنجیدہ پاکر انھیں تشویش ہونا شروع ہوئی کہ کل تک تو برخوردار بھلا چنگا تھا۔

’’بہت سیدھی سیدھی غزلیں ہیں —- پھیکی پھیکی —- کچھ زیادہ ہی آسان اور سادہ‘‘ میں نے ڈرتے ڈرتے کہنا شروع کیا۔ ’کوئی بھی لکھ سکتا ہے —- بات نہیں بنی۔‘‘

اب سوچتا ہوں تو کانپ جاتا ہوں کہ ناصر کاظمی سے یہ بات اور وہ بھی’ پہلی بارش‘ کے بارے میں، اس اندازسے —- میں نے کہہ دی ؟! پھر اپنی جہالت کو معصومیت کا نام دے کر دل کو تسلی دیتا ہوں۔ نابالغ، نماز روزے کے علاوہ بھی بہت سی پابندیوں سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔ ان کے لیے حدود میں رہنا ناممکن ہوتا ہے کیونکہ وہ حدود سے واقف ہی نہیں ہوتے۔ جہاں تک بیباکی کا تعلق ہے تو ناواقفیت بھی اس کا اتنا ہی اہم منبع ہے جتنا کہ علم (اگرچہ جو جرأت لاعلمی سے پھوٹے وہ گستاخی اور ہٹ دھرمی کہلاتی ہے اور جو علم کے نتیجے میں پیدا ہو وہ خوداعتمادی اور یقین کی علامت خیال کی جاتی ہے)۔ پھر نابالغوں اور ناواقفوں کو ایک اور رعایت بھی تو حاصل ہے۔ علم کا باب وا کرنے کی ایک کلید بیباکی ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ جاننے اور سیکھنے میں شرم محسوس نہ کرو۔ پاپا بھی یہی تلقین کیا کرتے تھے۔ سوالوں کے جواب چاہو اور جواب سن کر سوال کرو۔ سوال کتنے ہی مضحکہ خیز اور بچگانہ کیوں نہ ہوں۔

تو ذکر تھا ’پہلی بارش‘ کی غزلوں کا۔ میری بات پر پاپا کا رد عمل ایسا تھا گویا وہ کچھ بتانے یا سمجھانے بلکہ کچھ بھی کہنے کو بے سود سمجھ رہے ہوں۔

مذکورہ واقعے کے کئی برس بعد اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے جب پاپا نے اپنا کلام اکٹھا کرکے ترتیب دینا شروع کیا تو میں نے دیکھا کہ ایک ڈائری کے پہلے صفحے پر ’پہلی بارش‘ جلی حروف میں لکھا ہوا تھا اور اگلے اوراق میں ویسی ہی ہم زمین غزلیں۔ پاپا یہ غزلیں ایک پرانی ڈائری (جو میرے پاس اب بھی محفوظ ہے) سے نقل کر رہے تھے۔ اس پرانی ڈائری میں یہ غزلیں من و عن اسی طرح لکھی ہوئی تھیں جیسے میں رسالے میں پڑھ چکا تھا۔ مگر اب کئی اشعار قلم زد یا تبدیل کیے جا چکے تھے، کچھ نئے اشعار کا اضافہ کر دیا گیا تھا اور دو تین غزلیں خارج کردی گئیں تھیں۔ اب مجھے محسوس ہوا کہ یہ مجموعہ غزلوں کے ان مجموعوں سے بہت مختلف تھا جن سے میری آشنائی تھی۔ میں نے پاپا سے کہا کہ وہ اسے چھپوا کیوں نہیں دیتے تو ان کا جواب صرف اتنا تھا، ’’ابھی لوگ اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘‘

پاپا اکثر ہم سے، ہماری عمر کے اس دور کے مطابق جس سے ہم گزر رہے ہوتے، سوال کیا کرتے، ہمارا امتحان لیا کرتے۔ ایک روز رات کو اپنے لکھنے پڑھنے کے اوقات میں مجھے بلایا اور کہا، ’’اس شعر کے کیا معنی تمھاری سمجھ میں آتے ہیں؟‘‘

دل کی صورت کا اک پتّہ
تیری ہتھیلی پر رکھا تھا

میں سوچنے لگا۔ پان کا پتّہ میرے ذہن میں آ رہا تھا لیکن غزل کے شعر کے معنی، ایک پہیلی کے حل کی طرح بتاتے ہوئے ڈر لگ رہا تھا۔

’’دل کی صورت کا پتہ نہیں دیکھا کبھی؟‘‘

’’پان!‘‘ میں نے فوراً جواب دیا۔

’’ٹھیک۔ اب اس شعر کو دیکھو:

کاغذ کے دل میں چنگاری

خس کی زباں پر انگارہ تھا‘‘

’’سگریٹ۔ ماچس۔‘‘

’’خوب اب یہ شعر:

چاند کے دل میں جلتا سورج

سورج کے دل میں کانٹا تھا‘‘

یہ ’پہیلی‘ میں نہ بوجھ سکا۔ آخر انہوں نے خود ہی بتایا: ’فرائڈ انڈا‘۔

میں بہت محظوظ ہوا۔’ ’تو کیا یہ پہیلیاں ہیں؟‘‘

’’ہاں۔ پہیلیاں بھی۔‘‘ وہ مسکرانے لگے۔

یہ ’بھی ‘ وقت گزر نے کے ساتھ ساتھ میرے لیے اہم سے اہم تر ہوتا چلا گیا۔ ہر شے اپنے علاوہ (یعنی جو کچھ وہ دکھائی دیتی ہے یا سمجھی جاتی ہے، اس کے علاوہ) اور ’بھی‘ بہت کچھ نظر آتی۔ پاپا کا یہ شعر ہر وقت ذہن میں پھرنے لگا:

پھول کو پھول کا نشاں جانو

چاند کو چاند سے اُدھر دیکھو

پھر ایک روز دل کی صورت کا پتّہ ایک ہتھیلی پر رکھا دیکھا۔ سربکف لوگوں کے بارے میں تو سنا تھا، دل بدست بھی دیکھ لیا۔ پھر ’چاند‘ کے دل میں جلتا سورج، ’سورج‘ کے دل میں کانٹا، کاغذی پیکر کے دل میں چنگاری اور ’خس‘ کی زباں پر انگارہ بھی دیکھا۔ اب ان اشعار میں پہیلیاں کم اور کہانیاں زیادہ نظر آنے لگیں۔ میری حیرت کے صحرا میں ’پہلی بارش‘ سے نت نئے گل ہائے معانی کھِلے۔ جن باتوں پر پہلے ہنسی آتی تھی، اب آنسوؤں کے دریا بہتے۔ میر پر پاپا کا مضمون جو کبھی ’سویرا‘ میں شائع ہوا تھا (اور اب ان کے نثری مجموعے، خشک چشمے کے کنارے میں شائع ہوا ہے)، پڑھا۔ اس شعر: ’یاں پلیتھن نکل گیا واں غیر/ اپنی ٹکی لگائے جاتا ہے‘ کے حوالے سے پاپا کی خیال آرائی پڑھ کر مجھے اپنا پہلی بار ’پہلی بارش‘ پڑھنا بہت یاد آیا۔ لکھتے ہیں:’ ’بظاہر یہ شعر آدمی کے سستے اور عمومی جذبات کو اس قدر برانگیختہ کر سکتا ہے کہ معقول قاری بھی ان کی رو میں بہہ کر اس طرح قہقہے لگانے لگے کہ اسے اپنے مبتذل ہونے پر کوئی شک نہ رہے، ردِعمل کے طور پر ایسا معقول قاری بالکل ویران ہو سکتا ہے اور انھی ویران لمحوں میں یہ شعر اپنا آپ دکھاتا ہے۔ اس میں بھونڈے قہقہوں کی گونج کے ساتھ وہ المناک تجربہ اپنی پوری شدت کے ساتھ سمویا ہوا ہے جس پر دھاڑیں مار مار کر رویا بھی جا سکتا ہے۔‘‘

’پہلی بارش‘، دوبارہ، سہ بارہ پڑھی۔ یوں لگا جیسے کتاب اب سمجھ میں آگئی۔ جس طرح کسی غزل کے اشعار اپنا جداگانہ وجود رکھتے ہوئے بھی آپس میں کسی طور منسلک ہوتے ہیں اسی طرح ’پہلی بارش‘ کی غزلیں بھی انفرادی طور پر مکمل غزلیں ہونے کے ساتھ ساتھ مل کر ایک وحدت کو تشکیل دیتی دکھائی دیں۔ یہ وحدت طویل نظم کے قریب کی کوئی چیز معلوم دی۔ ہر غزل گویا اس نظم کا ایک بند تھی جس کے اشعار ایسے مربوط نظر آئے جیسے کسی زینے کے مدارج یا کسی منزل کے مراحل ۔ ایسا محسوس ہوا گویا شاعر کوئی کہانی سنا رہا ہو۔ بار بار پڑھنے پر یہ کہانی واضح ہوتی چلی گئی۔

-۲-

صدیوں پرانی روایت ہے کہ شعراء (مغربی ومشرقی) طویل نظم کی ابتدا خدا یا دیوی دیوتاؤں (اپنے اپنے ایمان یا اعتقاد کے مطابق) سے خطاب کر کے کرتے ہیں۔ ’پہلی بارش‘ اور روایتی طویل نظم کا ایک اور مشترک وصف، آغاز ہے:

میں نے جب لکھنا سیکھا تھا

پہلے تیرا نام لکھا تھا

اس شعر کے بارے میں پاپا خود کہا کرتے تھے کہ اس کا شمار چند بہترین حمدیہ اشعار میں ہو گا۔

اس کے علاوہ پہلی غزل ’کہانی‘ کے ’مرکزی کردار‘ کا تعارف بھی ہے۔ شروع ہی میں پڑھنے والا جان لیتا ہے کہ یہ ایک ایسے تخلیقی شخص کی کہانی ہے جو اللہ کو ماننے والا اور اس کی کتاب کا بغور مطالعہ کرنے والا ہے۔ اللہ ہی کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے وہ قرآنی آیات پڑھ کر اوندھے منہ گر نہیں جاتا (اندھا دھند ایمان نہیں لے آتا) بلکہ تدبر کرتا ہے اور غور و فکر کے ذریعے ان آیات کو اپنے رگ و پے کا حصہ بناتا ہے۔ وہ آدم کے مقام اور کائنات میں اس کے کردار سے بخوبی واقف ہے:

میں وہ صبرِ صمیم ہوں جس نے

بارِ امانت سر پہ لیا تھا

میں وہ اسمِ عظیم ہوں جس کو

جن و ملک نے سجدہ کیا تھا

یہ شخص نہ صرف اللہ سے سوال کرنے بلکہ شکوہ کرنے کی بھی جرأت رکھتا ہے:

تو نے کیوں مِرا ہاتھ نہ پکڑا

میں جب رستے سے بھٹکا تھا

پہلی بارش بھیجنے والے

میں تِرے درشن کا پیاسا تھا

یہ اشعار غزلوں کے اس سلسلے میں بیان کی جانے والے کہانی کے موضوع کی طرف بھی ایک واضح اشارہ ہیں۔

یہاں اگر میں یہ کہوں کہ پاپا کی اپنی شخصیت بھی کچھ ایسی ہی تھی تو بے جانہ ہو گا ۔ اپنے دعوے کی حمایت میں اُنہی کے دو بیانات درج کرتا ہوں۔ ’سویرا‘ کے ایک مذاکرے میں ’میرا ہم عصر‘ (مطبوعہ، ’خشک چشمے کے کنارے‘) کے تحت لکھتے ہیں، ’’۔۔۔ میں عصر کے قرآنی معانی پر توجہ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ اب اگر سلیم احمد صاحب یہ اعتراض کریں کہ میں ادب کے معاملے میں قرآن مجید کو بیچ میں کیوں لاتا ہوں تو میری گزارش ہے کہ میں قرآن کو ادب سمجھ کر پڑھتا ہوں اور اپنی زبان کے بعض لفظوں کے اصل معانی پر اس لیے بھی زور دیتا ہوں کہ دورِ غلامی نے ہماری قومی علامتوں کا اس قدر مذاق اڑایا ہے کہ اب ہم ہر معاملے میں اہلِ مغرب کے دست نگر ہو کر رہ گئے ہیں۔ مثال کے طور پر مولوی، مولانا، حضرت، یہ الفاظ مغرب زدہ لوگوں کے لیے محض گالی یا پھبتی کی حیثیت رکھتے ہیں۔‘‘

اپنی زندگی کے آخری ایام میں ٹیلیویژن کے لیے انتظار حسین کو انٹرویو دیتے ہوئے، غزل سنانے کی فرمائش کیے جانے پر انہوں نے کہا: ’’۔۔۔ لایئے تمھیں کچھ شعر سنا دیتا ہوں ۔ یہ غزل، اس میں تھوری سی خطابت ہے؛ مگر یہ ہے کہ بعض وجوہ سے مجھے پسند ہے؛ کہ طلوع و غروب کے مناظر ہیں؛ حیرت و عبرت، کہ دنیا میں کیا ہوتا ہے؛ کس طرح چیزیں ڈوبتی ہیں، ابھرتی ہیں؛ کس طرح صبح شامیں ہوتی ہیں؛ اور کچھ قرآنِ کریم کے پڑھنے والوں کے لیے بھی —- یہ کچھ دو چار شعر میں عرض کردیتا ہوں:

سازِ ہستی کی صدا غور سے سن

کیوں ہے یہ شور بپا غور سے سن

دن کے ہنگاموں کو بیکار نہ جان

شب کے پردوں میں ہے کیا غور سے سن

کیوں ٹھہر جاتے ہیں دریا سرِشام

روح کے تار ہلا غور سے سن

یاس کی چھاؤں میں سونے والے

جاگ اور شورِ درا غور سے سن

کبھی فرصت ہو تو اے صبحِ جمال

شب گزیدوں کی دعا غور سے سن

کچھ تو کہتی ہیں چٹک کر کلیاں

کیا سناتی ہے صبا غور سے سن

برگِ آوارہ بھی اک مطرب ہے

طائرِ نغمہ سرا غور سے سن

دل سے ہر وقت کوئی کہتا ہے

میں نہیں تجھ سے جدا غور سے سن

(برگِ نے)

یہاں اگر کوئی یہ کہے کہ شاعر کی شخصیت اور اس کے نظریات اور عقائد کی روشنی میں اس کے کلام کو دیکھنا، بے لاگ (objective) مطالعے کے تقاضوں کے خلاف ہے تو میں جواب میں پاپا ہی کے الفاظ پیش کروں گا۔ مذکورہ بالا انٹرویو ہی میں انہوں نے کہا تھا، ’’بات یہ ہے کہ جس طرح عطر کی شیشی آپ کھولتے ہیں تو خوشبو آپ کو آتی ہے؛ تو پھول اور باغ تو کہیں نظر نہیں آتے؛ تو شاعری میں میری، یہ تمام واقعات براہِ راست تو آپ کو نظر نہیں آئیں گے، البتہ یہ ہے کہ وہ جو یادیں ہیں، جو زمانہ تھا ہماری غلامی کا، اور جس میں ہم جینے کے لیے کوشش کر رہے تھے، ان کی تگ و دو کومیری شاعری کے آہنگ میں، رنگوں میں، لفظوں میں آپ دیکھ سکتے ہیں۔‘‘ آگے چل کر اس سوال کے جواب میں کہ تمھارا کمٹمنٹ (commitment) کیا ہے، انہوں نے کہا، ’’—- کمٹمنٹ ،میں نے اس طرح بعض بیانات کی صورت میں تو شاید بہت کم کیا ہو، لیکن میرے کلام میں آپ کو —- میرا تو خیال ہے کہ میں نے جو لفظ لکھا ہے وہ کمٹمنٹ سمجھ کر لکھا ہے۔ پاکستان کی پچیس سالہ تاریخ کو آپ دیکھیں اور میرے کلام کو دیکھیں تو ضرور اس میں وہ چیزیں دھڑکتی ہوئی نظر آئیں گی۔‘‘

سجاد باقر رضوی کی کتاب کے دیباچے، ’شہری فرہاد‘ میں وہ لکھتے ہیں، ’’شاعر کی شاعری اور اس کے نظریات کی ملاقات کسی مقام پر تو ہونی چاہیے۔ اس ضمن میں باقاعدہ مثالیں تو مغرب کے ادب ہی میں ملیں گی لیکن اردو ادب بھی ایسی مثالوں سے خالی نہیں ۔ میرؔ نے اپنے تذکرے میں، غالبؔ نے اپنے خطوط میں، حالیؔ نے مقدمہ شعر و شاعری میں، پھر ہمارے زمانے میں فراقؔ صاحب نے اپنے مضامین میں شاعری کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے، ان کا عکس ان کی شاعری میں بھی موجود ہے —- شاعر اپنے نظریات کو مسلسل تجربات، مشاہدات اور مطالعے کے بعد مرتب کرتا ہے اور شاعری میں انھیں ذائقہ بنا دیتا ہے۔ شاعر کا مطالعہ اور اس کے نظریات خام لوہے کی طرح ہوتے ہیں جو شعر میں دمِ شمشیر بن کر اپنا جوہر دکھاتا ہے۔‘‘

یہاں یہ باتیں، ممکن ہے کچھ لوگوں کو غیر متعلقہ لگیں لیکن میرے خیال میں ان کا ذہن نشین ہونا نہ صرف ’پہلی بارش‘ بلکہ ناصر کاظمی کی پوری شاعری کو سمجھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے

-۳-

وہ کوئی اپنے سوا ہو تو اس کا شکوہ کروں

جدائی اپنی ہے اور انتظار اپنا ہے

(دیوان)

’پہلی بارش‘ کے شاعر کی کہانی یہ بتاتی ہے کہ انسان اس دنیا میں نہ صرف اکیلا آتا ہے اور یہاں سے اکیلا جاتا ہے ، بلکہ وہ یہاں رہتا بھی اکیلا ہی ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے بعد، اپنے اندر جھانک کر، اپنی ذات کی مسلسل نشوونما (یازکا) کرتے رہنے سے ہی وہ سکون کی منزل (یا جنّت) تک پہنچ سکتا ہے۔ انسان کی ضرورتیں اسے دوسروں کے پاس بھی لے جاتی ہیں اور ان سے جدا بھی کرتی ہیں۔ ہر تعلق اور دوستی کی ایک میعاد ہوتی ہے ۔یہ میعاد تمام عمر پر بھی محیط ہوسکتی ہے، بشرطیکہ فریقین ایک دوسرے کی نشوونما میں اضافے کا باعث بنتے رہیں (اور اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی اپنی نشوونما کے لیے بھی کوشش کرتے رہیں۔ ظاہر ہے جو خود رک گیا، وہ کسی کو کیا آگے بڑھائے گا)۔ لیکن جب روز کے ملنے والے دوست ایک دوسرے کی نشوونما میں مزیدکوئی کردار ادا نہیں کرسکتے تو ان کا ملنا کم ہونے لگتا ہے ۔ انھیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ ایک دوسرے سے جدا ہو رہے ہیں یا ہو چکے ہیں:

دوست بچھڑتے جاتے ہیں

شوق لیے جاتا ہے دُور

(برگِ نے)

———-

اب اُن سے دُور کا بھی واسطہ نہیں ناصِر

وہ ہم نوا جو مِرے رتجگوں میں شامل تھے

(دیوان)

محبت کا معاملہ اس سے کچھ مختلف نہیں۔ محبوب کے بغیر ایک پل نہ جی سکنے والا، یوں بھی سوچتا ہے:

یہ کیا کہ ایک طور سے گزرے تمام عُمر

جی چاہتا ہے اب کوئی تیرے سوا بھی ہو

(دیوان)

———-

شوق کیا کیا دکھائے جاتا ہے

دل تجھے بھی بھلائے جاتا ہے

(دیوان)

اور ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ:

رشتہِ جاں تھا کبھی جس کا خیال

اُس کی صورت بھی تو اب یاد نہیں

(برگِ نے)

وہ رشتہ جو ازخود، بتدریج اور غیر محسوس طور پر ٹوٹے؛ وہ دوستی جو اپنے تمام امکانات کو چھان ڈالے، Explore اور Exhaust کر لے، اس کا دکھ یا ملال نہیں ہوتا، لیکن جو تعلق ادھورا رہ جائے؛ درمیان میں کسی حادثے، رنجش، بدگمانی، غلط فہمی، رقابت یا ’ظالم سماج‘ کی وجہ سے منقطع ہو جائے، بہت تڑپاتا ہے:

کہاں ہے تو کہ تِرے انتظار میں اے دوست

تمام رات سلگتے ہیں دل کے ویرانے

(برگِ نے)

————-

یاد آتا ہے روز و شب کوئی

ہم سے روٹھا ہے بے سبب کوئی

(برگِ نے)

’پہلی بارش‘ کے آغاز میں کیفیت ’تو من شدی، من توشدم‘ کے مصداق نظر آتی ہے۔ دو روحوں کا پیاسا بادل گرج گرج کر برستا ہے، دو یادوں کا چڑھتا دریا ایک ہی ساگر میں گرتا ہے اور دل کی کہانی کہتے کہتے رات کا آنچل بھیگ جاتا ہے۔ سفر کی رات خوشبو کے جھونکے کی مانند گزر جاتی ہے۔ دن کی ٹھنڈی دھوپ میں، ’’تیری ہلال سی انگلی پکڑے / میں کوسوں پیدل چلتا تھا‘‘ اور پچھلے پہر کے سناٹے میں، ’’تیرے سائے کی لہروں کو / میرا سایا کاٹ رہا تھا‘‘، غرض، ’’وقت کا ٹھاٹھیں مارتا ساگر / ایک ہی پل میں سمٹ گیا تھا‘‘، لیکن فراق کی منزل دور نہ تھی:

کیسی اندھیری شام تھی اس دن

بادل بھی گھر کر چھایا تھا

رات کی طوفانی بارش میں

تو مجھ سے ملنے آیا تھا

بھیگی بھیگی خاموشی میں

میں تِرے گھر تک ساتھ گیا تھا

ایک طویل سفر کا جھونکا

مجھ کو دُور لیے جاتا تھا

یہ کیسی خاموشی ہے؟ کیا باتیں ختم ہو گئیں؟ کیا تمام یادوں اور سپنوں کا تبادلہ ہو چکا؟ یا یہ باتوں کے درمیان محض ایک وقفہ ہے؟

یہ کیسا سفر ہے؟ غمِ روزگار کی مجبوری، زمانے کی عائدکردہ پابندی یا ذات کی داخلی احتیاج؟ اگلی غزل میں ان سارے سوالوں کے جواب مل جاتے ہیں۔ مطلع میں ’دوبارہ‘ کا لفظ بہت اہم ہے۔ یہاں اس کا مطلب دوسری بار نہیں بلکہ ایک با معنی (significant) وقفے کے بعد آنا ہے۔ گھر وہی، شام کا تارا وہی، رات وہی، سپنا وہی، مگر اب ’تیرے‘ لیے لمبی تان کر پہروں سونا ممکن ہے ]اس کے برعکس ’’تیری نیند بھی اڑی اڑی تھی‘‘ (غزل نمبر2)[ ۔’مجھ ‘سے بے نیاز ہونے کے عمل میں یہ مقام آچکا ہے۔ پھر اس نیند کو بھی’ ’ایک انوکھے وہم کا جھونکا‘‘ اُڑا اُڑا دیتا ہے اور ایک دن یہ، وہم ’تجھ‘ کو گھیر لیتا ہے اور ’تو‘، ’مجھ‘ کو سوتا چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔

لیکن یہ وہم کیا تھا؟ ایک نظر یہ یہ ہے کہ ہر خیال وہم ہوتا ہے —- ’’یہ توہم کا کارخانہ ہے / یاں وہی ہے جو اعتبار کیا‘‘ —- جبکہ دوسرے زاویے سے دیکھیں تو وہم بھی ایک خیال ہی ہوتا ہے۔ دراصل ہم وہی دیکھتے ہیں جو دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہر بات کے دو رُخ ہوتے ہیں۔ جب ہم کسی سے دُورہوناچاہتے ہیں تو اُس کی باتوں کے وہی معانی ہماری سمجھ میں آتے ہیں جو ہمارے اور اس کے درمیان فاصلہ بڑھاتے ہوں (چاہے وہ ہمیں دل و جان سے چاہتا ہو) بصورتِ دیگر وہ معانی جو ہمیں اس کے قریب لے جاتے ہوں (خواہ وہ ہم سے کتنا ہی بیزار ہو)۔ اُس کے دل کی بات ہمیں بہت بعد میں پتا چلے گی۔ ’پہلی بارش‘ میں بھی آخری غزل میں ایک ایسا ہی انکشاف ملتا ہے:

تیرا قصور نہیں میرا تھا

میں تجھ کو اپنا سمجھا تھا

————-

اب میں سمجھا اب یاد آیا

تو اُس دن کیوں چپ چپ سا تھا

سو یہ اہم نہیں کہ یہ وہم کیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ربط ٹوٹ چکا ہے۔ اس کا علم ابھی پوری طرح اس لیے نہیں ہوا کیونکہ جسمانی فاصلہ ابھی کم ہے۔ ایک مثال اس بات کی وضاحت کر سکے گی۔ اگر دو برابر کے پہیے، ایک ٹائی راڈ (tie-rod) سے جڑے، ایک ہموار اور سیدھے راستے پر چلے جا رہے ہوں اور یہ ٹائی راڈ ٹوٹ جائے (بغیر جھٹکے کے) تو تب بھی وہ ساتھ ساتھ اسی طرح چلتے جائیں گے اور کسی کو یہ احساس نہیں ہو گا کہ ان کا آپس میں تعلق منقطع ہو چکا ہے۔ ذرا کہیں ناہموار سطح آئی اور یہ دونوں یا تو آپس میں ٹکرائے یا پھر مخالف سمتوں میں لڑھک کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے جدا ہوئے۔ اگرچہ گھومتے گھومتے وہ دوبارہ بھی ایک دوسرے کے قریب آسکتے ہیں لیکن ملنے کے لیے نہیں بلکہ پھر بچھڑنے کے لیے۔

دوسری قابلِ غور بات یہ ہے کہ ’میری ‘کیفیت میں ہنوز کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ’تو‘ نے ممکن ہے خوب تجزیے اور غوروفکر کے بعد رختِ سفر باندھا ہو لیکن میرے خیال میں تجھے وہم ہی ہوا ہے۔ تیرے آنے پر میں ’تیرا‘ منتظر تھا اور ’وہی‘ سپنا دیکھ رہا تھا۔ تُو سو جاتا تو پہروں تجھے تکتا رہتا، تیری ایک صدا سنتے ہی گھبرا کر جاگ اٹھتا اور جب تک تجھ کو نیند نہ آ جاتی، تیرے پاس کھڑا رہتا؛ ماحول کو دلچسپ بنانے کی خاطر اور تیرے بیزار ہو جانے کے ڈر سے، نئی انوکھی بات سنا کر تیرا جی بہلاتا، اس آرزو میں اور اس امید پر کہ تیرے دل میں جانے کا خیال نہ آئے۔ میرے لیے وقت اتنی تیزی سے گزر گیا کہ ایک مہینہ ایک پل کے برابر محسوس ہوا۔ میرے لیے ابھی اس تعلق میں بہت کچھ باقی تھا، تیری طلب کم نہ ہوئی تھی، اسی لیے :

آنکھ کھلی تو تجھے نہ پا کر

میں کتنا بے چین ہوا تھا

———-

آج وہ سیڑھی سانپ بنی تھی

کل جہاں خوشبو کا پھیرا تھا

اگلی غزل ’میری‘ اور ’تیری‘ ان کیفیات کو مزید نمایاں کرتی ہے:

تجھ بِن گھر کتنا سُونا تھا

دیواروں سے ڈر لگتا تھا

بھُولی نہیں وہ شامِ جدائی

میں اُس روز بہت رویا تھا

تجھ کو جانے کی جلدی تھی

اور میں تجھ کو روک رہا تھا

’تجھ‘ سے بچھڑ کر ’میری‘ حالت غیر ہو جاتی ہے۔ طرح طرح کے خیال ستاتے ہیں۔ سناٹے میں کوئی دُور سے آوازیں دیتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ باہر کے مناظر کچھ کے کچھ دکھائی دیتے ہیں۔ نیند بھی خوف اور وسوسوں سے خالی نہیں ہوتی۔ بارھویں غزل میں ایسے ہی ایک فریبِ خیال (hallucination) یا ڈراؤنے خواب کا بیان ہے۔

تیرھویں غزل میں کہانی کا مرکزی کردار یا’ہیرو‘ تنہائی کے آتش دان میں لکڑی کی طرح جلتا دکھائی دیتا ہے۔ اپنی خوشی اور تسکین کے لیے وہ اپنے سے باہر دیکھنے کا عادی اور محتاج ہے۔ ابھی اس نے اپنے اندر جھانکنا شروع نہیں کیا۔ اس کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔ دوزخ اس مقام کو بھی کہتے ہیں جہاں فرد یا معاشرے کی نشوونما رک جائے۔ اس وقت ’ہیرو‘ کی یہی کیفیت ہے۔ اسے جینا محال نظر آتا ہے —- ’’دم ہونٹوں پر آ کے رُکا تھا / یہ کیسا شعلہ بھڑکا تھا۔‘‘ زندگی میں اس کی کوئی دلچسپی باقی نہیں رہی۔ اب اسے باہر بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا:

میری آنکھیں بھی روتی تھیں

شام کا تارا بھی روتا تھا

گلیاں شام سے بجھی بجھی تھیں

چاند بھی جلدی ڈوب گیا تھا

لیکن خوش قسمتی سے اس کا دم نکل نہیں جاتا بلکہ حیات سے اس کا رشتہ بحال ہو جاتا ہے:

قیامت رہا اضطراب اُن کے غم میں

جگر پھر گیا رات ہونٹوں تک آ کر

(میرؔ)

جاں کنی کے عالم میں اسے دوزخ کی ایک واضح جھلک دکھائی دیتی ہے۔ ’آگ کے سپنے‘ سے ’ایک رسیلے جرم کا چہرہ‘ نمودار ہوتا ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ زندگی جیسی نعمت سے لاپروائی برتنے کا مجرم بن رہا ہے۔ اسے اپنی وہ امکانی حالت نظر آتی ہے جو مسلسل، بے مقصد جلتے کڑھتے رہنے سے ہوسکتی ہے:

پیاسی لال لہو سی آنکھیں

رنگ لبوں کا زرد ہوا تھا

بازو کھنچ کر تیر بنے تھے

جسم کماں کی طرح ہلتا تھا

ہڈی ہڈی صاف عیاں تھی

پیٹ کمر سے آن ملا تھا

وہم کی دیمک نے چہرے پر

مایوسی کا جال بُنا تھا

جلتی سانسوں کی گرمی سے

شیشہِ تن پگھلا جاتا تھا

مایوسی جہنم کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ لفظ ابلیس؛ ’بلس‘ سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں، مایوسی۔ ’ابلیس‘ وہ جو مایوس ہو گیا۔ وہ آدم کے ارض پر خلیفہ بنائے جانے پر مایوس (disappoint) ہوا؛ اور جو خود مایوس ہو جائے وہ دوسروں کو بھی مایوس کرتا ہے، ان کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے؛ اور جنھیں اس سے پناہ نہ مل سکے، جو اس کے بہکاوے میں آجائیں، ان کا مقدر بھی دوزخ ہے۔

’پہلی بارش‘ کا ہیرو اس انجام سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ وہ اس مقام تک پہنچ جاتا ہے جہاں جسمانی زندگی کی حدیں ختم ہونے لگتی ہیں اور موت دکھائی دینے لگتی ہے۔ سزا اور جزا کی منزل آجاتی ہے۔ اسے حیات بعدالموت کا وجود محسوس ہونے لگتا ہے۔ وہ ڈر جاتا ہے۔ اسے زندگی کا وقفہ بہت غنیمت نظر آتا ہے۔ اس کے اندر جینے کی شدید خواہش اور طلب پیدا ہوتی ہے —- ’’پیاسی کونجوں کے جنگل میں / میں پانی پینے اترا تھا۔‘‘

کونج یا قاز ایک ایسا پرندہ ہے جو موسمِ سرما میں گرم خطوں میں چلا آتا ہے ۔ ان کے غول کے غول دریا کے کناروں پر ملتے ہیں اور یہ قطار باندھ کر اڑتے ہیں۔ گویا یہ حرارت اورپانی یعنی حیات کے لیے ناگزیر عناصر کا طالب اور متلاشی رہتا ہے۔ ایک تخلیقی آدمی کی زندگی بھی تلاش اور جستجو سے عبارت ہوتی ہے۔ نادیدہ کے درشن کی پیاس اور ناآفریدہ کی تخلیق کی لگن اسے سرگرداں پھراتی ہے۔ یہ دنیا اس کے لیے ’پیاسی کونجوں کا جنگل‘ ہے۔ کونجوں اور تخلیقی انسانوں کی ہم سفری اور ہم نوائی کا ذکر، ناصر کاظمی اور انتظار حسین کے مکالمے، ’نیااسم‘ (مطبوعہ ’سویرا‘) کے پیش لفظ میں نہایت واضح اور بھرپور طور پر ملتا ہے :

’’جب چلتے چلتے ہنگامِ زوال آیا، دل نڈھال ہوا اور حال بے حال ہوا۔ ایک سوار نے سمندِ عزم کی باگ چھوڑی اور بولاکہ اس بیابان میں سفر بے اثر ہے، خاک پھانکنا بے ثمر ہے۔ خیال ترک کریں اور پلٹ کر بچھڑوں سے جا ملیں۔

ہم سفر بولا کہ جس راستے کو ہم نے چھوڑا وہ ہم پر بند ہوا۔ آگے کی راہیں کھلی ہیں، شوقِ سفر شرط ہے اور ہر قدم راستہ بھی ہے اور منزل بھی۔

انہوں نے باگیں سنبھالیں اور پھر چلنا شروع کر دیا۔ اوپر تانبا آسمان، نیچے چٹیل میدان، سنسان بیابان، دھوپ میں جلتے بلتے پتھریلے ٹیلے، ریت کے رستے، اکادکا بے برگ درخت، کوئی راہ گیر نظر نہ آیا کہ سراغ منزل کا لیتے اور پتا پانی کا پاتے۔ دُور کبھی دھول اڑتی نظر آتی تو خیال گزرتا کہ اس دشتِ بے آب میں اور مسافر بھی ہیں کہ اپنے طور کڑے کوسوں کا سفر کرتے ہیں۔

دن ڈھلنے لگا تو دلِ فزوں نڈھال ہوا۔ گلا پیاس سے خشک ہوا اور ابلق پسینے میں شرابور اور تھکن سے چور ہوئے کہ اتنے میں سرپہ پیاسی آوازوں کی لکیر ہویدا ہوئی ۔ دیکھا کہ قازوں کی ایک قطار ہے کہ قائیں قائیں چیختی ہے اور فضا میں تیرتی جاتی ہے۔ اس آواز کو انہوں نے غیب کی ندا جانا اور پانی کا پیغام سمجھا۔ گھوڑوں کو ایڑ دی اور قازوں کی ندا کے ہم رکاب یوں سرپٹ دوڑے کہ ابلقوں کی ٹاپوں سے دشت گونجا اور چنگاریاں اڑیں۔‘‘

یہ پیش لفظ مذکورہ غزل میں داخلے کا راستہ بن سکتاہے۔ اس غزل میں آگ کے مقابلے میں پانی دکھائی دیتا ہے۔ جھلستے اور جلتے رہنے کے بعد یہ پانی اسے اتنا ٹھنڈا لگتا ہے کہ اس کے ہاتھ دیر تک کانپتے رہتے ہیں۔ وہ پانی میں جھانکتا ہے تو اسے اپنے بھیتر کی گہرائیاں اور وسعتیں نظر آتی ہیں۔ اس کی آنکھیں جھانکتی ہی چلی جاتی ہیں۔ زندگی کے تقاضوں اور مرحلوں کے بارے میں سوچ سوچ کر اس کا جسم تھک کر چور ہو جاتا ہے۔ پانی اسے للکارتا ہے۔ پانی اتنا چپ چپ اور گم سم ہے گویا باتیں کر رہا ہو ](مجھ سے باتیں کرتی ہے / خاموشی تصویروں کی (دیوان)[۔ وہ پہلی بار اپنے آپ سے ہم کلام ہوتا ہے۔

اب وہ ایک نئے دیس میں اترتا ہے جہاں کا ’رنگ‘ (اس کے لیے) نیا ہے۔ یہاں ’دھرتی سے آکاش ملا تھا‘، جس کے معنی یہ ہیں کہ یہاں ارض و سما کے قوانین میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے؛ وہ ایک دوسرے میں سرایت (interpenetrate )کرتے ہیں (انسانوں نے ارض و سما کو ہمیشہ بالکل الگ الگ اور ایک دوسرے سے لاتعلق قرار دیا ہے، حالانکہ ارض و سما کے بہت گہرے رشتے ہیں۔ ہر طرح کی نعمتوں کا نزول سما سے ارض پر ہوتا ہے)۔ یہاں انسانوں کے لیے نہ صرف افقی بلکہ عمودی یا ارتفاعی ترقی کے لامتناہی اور لامسدود امکانات کھُلے ہیں۔ وہ جس حد تک چاہیں آگے جا سکتے ہیں اور جتنا چاہیں بلند ہوسکتے ہیں۔

یہاں دُور کے دریاؤں کا ’سونا‘، ہرے سمندر میں گرتا ہے۔ چلتی ندیاں ہیں اور گاتے نوکے۔ پانی کی بہتات کا یہ عالم ہے کہ سارا شہر گویا نوکوں ہی میں بسا ہے۔ یہاں پانی اور زندگی واضح اور مکمل طور پر ایک ہو جاتے ہیں۔ شاید’پانی‘ ہی کی طلب اسے یہاں لائی ہے۔ وہ ابھی تک تشنہ ہے —- ’’ہنستا پانی، روتا پانی / مجھ کو آوازیں دیتا تھا۔‘‘ نئے دیس میں اترنا ایک نئے جیون کا آغاز کرنے کے مترادف لگتا ہے۔ ’وہ گھر‘، ’وہ رات‘ اور ’وہ سپنا‘ اب ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔ ’تیرا دھیان‘ مفلوج کرنے کی بجائے سہارا دیتا ہے۔ اسے زندگی کے دریا کی لہروں کامقابلہ کرنے کی جرأت اور شکتی دیتا ہے —- ’’تیرے دھیان کی کشتی لے کر/میں نے دریا پار کیا تھا۔‘‘

اس کے بعد وہ اک بستی میں اترتا ہے جو غالباً اسی نئے دیس میں ہے۔ سُرما ندی کے گھاٹ پہ جاڑے کا پہلا میلہ ہے۔ رقص و سرود کی محفل سجی ہے۔ کچھ یادیں اور کچھ خوشبو لے کر وہ اس بستی سے نکلتا ہے۔ لیکن:

تھوڑی دیر کو جی بہلا تھا

پھر تِری یاد نے گھیر لیا تھا

یاد آئی وہ پہلی بارش

جب تجھے ایک نظر دیکھا تھا

یاد آئیں کچھ ایسی باتیں

میں جنھیں کب کا بھول چکا تھا

اگلی غزل میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس کا ’تیرے‘ شہر سے پھر گزر ہوتا ہے۔ ہوا اتنی تیز اور اداس ہوتی ہے کہ اس کا چراغِ دل بجھا جاتا ہے۔ اس کا دل ہنوز سُونا ہے اور تنہائی پیاسی۔ جنت ابھی دور ہے۔ اسی عالم میں ’تجھ‘ سے مشابہ ایک مسافر ریل چلنے پر اس کے مقابل آبیٹھتا ہے۔ یہ مشابہت کچھ دیر کے لیے وجہِ تسکین بنتی ہے لیکن جدائی کا موڑ ہر سفر میں ہوتا ہے۔ ’تیری‘ طرح تیرا ’بدل‘ بھی بچھڑ جاتا ہے:

کوئی بھی ہمسفر نہ تھا شریکِ منزلِ جنوں

بہت ہوا تو رفتگان کا دھیان آ کے رہ گیا

(دیوان)

وہ شخص جس سے تعلق اپنی فطری انجام کو پہنچ کر ٹوٹا ہو، جس سے دوستی اپنے تمام امکانی مراحل طے کرچکی ہو، عرصہِ دراز کے بعد ملے تو ایک انجانی سی خوشی ہوتی ہے:

پھر ایک طویل ہجر کے بعد

صحبت رہی خوشگوار کچھ دیر

(برگِ نے)

کوئی نیا موضوع نہ بھی چھڑے، کوئی نئی بات نہ بھی ہو، یادیں ہی تازہ ہو کر نئی بہار دکھا دیتی ہیں۔ ماضی اتنی قوت اور شدت سے رگ و پے میں داخل ہوتا ہے کہ مردہ لمحے زندہ ہو جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے گویا کوئی کھوئی ہوئی قیمتی متاع پھر مل گئی ہو۔ حالانکہ دل نے کبھی اس سے دوبارہ ملنے کی تمنا نہیں کی ہوتی، پھر بھی اس سے ملاقات ہونے پر ایسی خوشی ہوتی ہے جیسے کوئی خواہش پوری ہو گئی ہو۔ ظاہر ہے، اس سے جدا ہونے پر کوئی زخم لگا ہوتا تو اب ہرا ہوتا۔ یادوں کے پھول ہوتے ہیں، مہک اٹھتے ہیں۔

اس کے برعکس، عجیب بات ہے کہ ایسا شخص جس کے فراق میں آدمی ماہیِ بے آب کی طرح تڑپتا رہا ہو، جس کی ایک جھلک دیکھنے کو آنکھیں پتھرا گئی ہوں، مل جائے تو رنج کم نہیں ہوتا۔ بقول حفیظ ہوشیارپوری:

اگر تو اتفاقاً مل بھی جائے

تری فرقت کے صدمے کم نہ ہوں گے

’دیوان‘ میں بھی ایک شعر ہے:

تجھ سے مل کر بھی دل کو چین نہیں

درمیاں پھر وہی سوال پڑا

Heraclitus نے کتنا درست کہا ہے: ’’ہم ایک ہی دریا میں دو بار قدم نہیں رکھ سکتے۔‘‘ وقت ہر لحظہ ہم میں اور کائنات میں تبدیلیاں لاتا چلا جاتا ہے۔ ہمیں پرانی قیود سے رہا کر کے نئے تقاضوں کی زنجیروں میں باندھ دیتا ہے۔ ہمارے شوق، حاجتیں، پسند نا پسند بدلتے رہتے ہیں مگر وہ تعلق جو ادھورا رہ جاتا ہے، ویسے کا ویسا رہتا ہے۔ جو دوست بچھڑ جاتا ہے، ہمیں اسی طرح یاد رہتا ہے جیسا کہ وہ تھا۔ وہ ہمارے ذہنوں میں پروان نہیں چڑھتا۔ چنانچہ جب ہم اس سے ملتے ہیں تو وہ حقیقت میں تو کچھ کا کچھ ہوچکا ہوتا ہے لیکن ہماری نظریں اُسی کو ڈھونڈ رہی ہوتی ہیں جس سے ہم جدا ہوئے تھے۔ وہ کہیں ہو تو ملے۔ رنج اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس کے ملنے کی جو ایک موہوم سی امید ہوتی ہے وہ بھی دم توڑ دیتی ہے۔ وہ مل کر بھی نہیں ملا:

کوئی اور ہے نہیں تو نہیں مرے روبرو کوئی اور ہے

بڑی دیر میں تجھے دیکھ کر یہ لگا کہ تو کوئی اور ہے

(دیوان)

اب یہ اور بات ہے کہ ہم اس ملاقات میں دل کی تسلی کے لیے بھی کوئی پہلو ڈھونڈ لیں:

دیارِ دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا

ملا نہیں تو کیا ہوا وہ شکل تو دکھا گیا

(دیوان)

مگر ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ آمنا سامنا ملاقات نہیں کہلا سکتا اور اگر اسے ملاقات کہا بھی جائے تو بھی:

چاند نکلا تھا مگر رات نہ تھی پہلی سی

یہ ملاقات ملاقات نہ تھی پہلی سی

(دیوان)

اور دو چار بار ایسا ’آمنا سامنا‘ اور ہو جائے تو کیفیت بالآخر یہ ہو جاتی ہے:

برابر ہے ملنا نہ ملنا ترا

بچھڑنے کا تجھ سے قلق اب کہاں

(برگِ نَے)

’پہلی بارش‘ کے مرکزی کردار کو بھی ایسی ہی ایک اتفاقی اور غیر متوقع ’ملاقات ‘ کا بھرپور تجربہ ہوتا ہے:

پل پل کانٹا سا چبھتا تھا

یہ ملنا بھی کیا ملنا تھا

کتنی باتیں کی تھیں لیکن

ایک بات سے جی ڈرتا تھا

تیرے ہاتھ کی چائے تو پی تھی

دل کا رنج تو دل میں رہا تھا

کسی پرانے وہم نے شاید

تجھ کو پھر بے چین کیا تھا

میں بھی مسافر تجھ کو بھی جلدی

گاڑی کا بھی وقت ہوا تھا

اک اجڑے سے اسٹیشن پر

تو نے مجھ کو چھوڑ دیا تھا

———–

تیرے ساتھ ترے ہمراہی

میرے ساتھ مرا رستا تھا

رنج تو ہے لیکن یہ خوشی ہے

اب کے سفر تِرے ساتھ کیا تھا

وہ ملاقات کی بدلی ہوئی نوعیت سے نہ صرف پوری طرح واقف ہو جاتا ہے بلکہ اسے قبول کر لیتا ہے اور محض کچھ دیر کی جسمانی ہمراہی کو غنیمت جانتا ہے ۔ وہ جان چکا ہے کہ ہم سفری کی آرزو نہ صرف بے سود بلکہ باعثِ رنج بھی ہے۔

تعلق کی اصل نوعیت کا شعور، اپنی داخلی اور خارجی تبدیلیوں کا علم اور قبولیت اسے دوزخ سے مکمل طور پر نکال لیتے ہیں۔ اس آگہی کی بدولت اسے ’’جنت کا نقشہ‘‘ دکھائی دیتا ہے جہاں ہریالی ہی ہریالی ہے، نور ہی نور، رس ہی رس، مٹھاس ہی مٹھا س؛ جہاں کوئی وسوسے پیدا کرنے والا نہیں بلکہ ’’سایا سایا راہ نما‘ ‘ہے۔ جہاں ’’گاتے پھول‘ ‘ہیں اور ’’بلاتی شاخیں ‘ ‘ہیں اور ’’پتا پتا دستِ دعا ہے‘‘۔

اور یہ جنت اسے جلد ہی مل بھی جاتی ہے۔ تنہائی میں دریا دریا روتے ہوئے اس پر انکشاف ہوتا ہے کہ ’’تنہائی کا تنہا سایا‘‘ دیر سے اس کے ساتھ لگا ہوا ہے۔ اسے خیال آتا ہے کہ جب سارے ساتھی چھوڑ گئے تھے تو تنہائی کا پھول کھلا تھا۔ تنہائی میں یادِ خدا بھی تھی اور خوفِ خدا بھی۔ تنہائی محربِ عبادت بھی تھی اور منبر کا دیا بھی؛ اس کا پائے شکستہ بھی تھا اور دستِ دعا بھی۔ غرض اس کا سب کچھ تنہائی میں تھا، اس کاسب کچھ تنہائی تھی۔ وہ جنت جسے وہ باہر ڈھونڈ رہا تھا، اس کے دل میں چھپی تھی۔ وہ تسلیم کر لیتا ہے کہ وہ تنہا تھا اور تنہا ہے۔ اس کے دل کی جنت تنہائی ہے۔

جنت کی دریافت اور حصول کے بعد وہ ’تجھ‘سے اپنے تعلق کا ایک بار پھر جائزہ لیتا ہے۔ اب اسے یہ رشتہ اپنے صحیح رنگوں میں نظر آتا ہے۔ وہ اعتراف کرتا ہے کہ قصور اس کا ہی تھا جو وہ ’تجھ ‘ کو اپنا سمجھا تھا۔ اب پتا چلا کہ’ ’وہ سب کچھ ہی دھوکا تھا،‘‘ حقیقت کچھ اور ہی تھی۔ آخر میں وہ اپنی ’تقدیر‘ کو قبول کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے:

وہی ہوئی ہے جو ہونی تھی

وہی ملا ہے جو لکھا تھا

دل کو یونہی سا رنج ہے ورنہ

تیرا میرا ساتھ ہی کیا تھا

کس کس بات کو روؤں ناصر

اپنا لہنا ہی اتنا تھا

لیکن اس سے یہ مطلب نہیں نکالا جا سکتا کہ وہ اس بات کا قائل ہے کہ کائنات میں ازل سے ابد تک جو کچھ ہونا ہے وہ پہلے سے طے شدہ ہے، لکھا جا چکا ہے اور اس میں کوئی تبدیلی یاترمیم نہیں کی جاسکتی۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس نے پہلی ہی غزل میں کہا تھا، اور وہ بھی خدا کو مخاطب کر کے کہ وہ ایسا صبرِ صمیم ہے جس نے اپنی مرضی سے، اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے بارِ امانت سر پہ لیا تھا۔ وہ جانوروں کی طرح ایک ہی بات کرنے پر، ایک ہی راہ اختیار کرنے پر مجبور نہیں۔ اسے انتخاب کرنے کا استحقاق (privilege) حاصل ہے۔ وہ ایسا اسمِ عظیم ہے جس کو جِن و ملک نے سجدہ کیا تھا۔ اور جب وہ یہ کہتا ہے کہ ’’جو پایا ہے وہ تیرا ہے / جو کھویا وہ بھی تیرا تھا‘‘، تو اس سے لاچاری کا اظہار نہیں ہوتا بلکہ وہ تو صرف یہ کہنا چاہتا ہے کہ سب کچھ اللہ کی ملکیت ہے؛ انسان اس میں سے کچھ پا لیتا ہے، کچھ کھو دیتا ہے۔ اس کی خواہشوں کی تکمیل کا دارومدار اس کے اپنے فیصلوں اور اپنی کوششوں پر ہے:

دیکھ کے تیرے دیس کی رچنا

میں نے سفر موقوف کیا تھا

———-

نئی انوکھی بات سنا کر

میں تیرا جی بہلاتا تھا

———–

تجھ کو جانے کی جلدی تھی

اور میں تجھ کو روک رہا تھا

——–

ایک ہی لہر نہ سنبھلی ورنہ

میں طوفانوں سے کھیلا تھا

انسان کے خیالات، اس کا اندازِنظر، اس کی زندگی کو دوزخ بنا سکتے ہیں اور جنت بھی ۔ جنت تلاش کرنے پر ملتی ہے:

وہ جنت مرے دل میں چھپی تھی

میں جسے باہر ڈھونڈ رہا تھا

اس کا نظریہ تقدیر یہ ہے کہ ہر شے کی حدود ہوتی ہیں اور ان حدود سے جھگڑنا، انھیں توڑنے کی کوشش کرنا نہ صرف بے سود بلکہ مضر بھی ہے اور ان کو جاننے اور تسلیم کر لینے ہی میں فلاح ہے:

ان سے الجھ کر بھی کیا کرتا

تین تھے وہ اور میں تنہا تھا

———-

میں بھی مسافر تجھ کو بھی جلدی

گاڑی کا بھی وقت ہوا تھا

———-

اب تجھے کیا کیا یاد دلاؤں

اب تو وہ سب کچھ ہی دھوکا تھا

———

دل کو یونہی سا رنج ہے ورنہ

تیرا میرا ساتھ ہی کیا تھا

’’وہی ہوئی ہے جو ہونی تھی‘ ‘سے مراد ہے کہ جو کچھ ہو سکتا تھا وہی ہوا ہے۔ عِلّت اور معلول میں ایک ناگزیررشتہ ہوتا ہے۔’ ’وہی ملا ہے جو لکھا تھا‘ ‘اور’ ’اپنا لہناہی اتنا تھا‘‘ کے معنی ہیں کہ جو بویا تھا وہی کاٹا، جو کیا تھا اس کاہی صلہ ملا۔ انسان کو ملی ہوئی صلاحیتوں کے کئی (مگر تعداد میں مقرر) امتزاجات ممکن ہیں، مگر وہ ان میں سے ایک ہی کا انتخاب کر سکتا ہے اور کچھ چننے کے لیے بہت کچھ چھوڑنا بھی پڑتا ہے۔ انسان کا اختیار اس کی مجبوری بھی ہے اور اس کی مجبوری ہی میں اس کا اختیار مضمر ہے۔ زندگی ہر لحظہ چننے اور مسترد کرتے رہنے کا نام ہے لیکن انسان ایک بار فیصلہ کر لے اور اس کے مطابق عمل پیرا ہو تو پھر اس عمل کے عواقب کو ٹالا نہیں جا سکتا۔ انتخاب سے پہلے آدمی کے سامنے کئی راہیں کھلی ہوتی ہیں لیکن ان میں سے کسی ایک پر چل نکلنے کے بعد باقی تمام اس کے لیے بند ہو جاتی ہیں۔ اب اگر بعد کو اسے یہ علم یا احساس ہو کہ اس کا فیصلہ غلط تھا، یا اسے چھوڑی ہوئی راہوں میں کشش محسوس ہونے لگے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مجبور اور بے بس ہے۔ انسان ہر وقت ہر جگہ نہیں ہو سکتا۔ وہ سب کچھ کر نہیں سکتا، وہ سب کچھ ہونہیں سکتا۔

-۴-

آشنا درد سے ہونا تھا کسی طور ہمیں

تُو نہ مِلتا تو کسی اور سے بچھڑے ہوتے

(ب س ک)

’پہلی بارش ‘ محض دو اشخاص کے ملنے اور بچھڑنے کی کہانی نہیں ہے۔ ’میں‘اور ’تو‘ علامتیں ہیں داخل اور خارج کی؛ نمائندے ہیں فرد اور معاشرے کے۔ ’’انسان کو معاشرے اور تنہائی دونوں کی ضرورت ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے زوج ہیں یا اس کی زکا دونوں کی صحیح ترکیب ہی سے ممکن ہے۔ شاید اسی لیے انسان دوسرے انسان سے جدا ہو کر، تنہاہوکر، رفع حاجت کے لیے جاتے ہیں۔ وہاں وہ خود اپنے آپ سے ہم کلام ہوتے ہیں۔ وہاں ان کو عجیب عجیب باتیں سوجھتی ہیں جن تک ان کے شعور کی رسائی نہیں ہوتی۔ مارٹن لوتھرنے اس امر کا اعتراف کیا ہے۔ محبت کی پرورش کے لیے بھی تنہائی اور خاموشی کی ضرورت ہے۔‘‘ (اقتباس از ’ناصر کاظمی: ایک دھیان‘ از شیخ صلاح الدین)

لیکن عام آدمی تو تنہائی سے بھاگتا ہے۔ وہ اسیرِ بزم ہوتا ہے۔ ’’تنہائی عام آدمی کو اس لیے ڈراتی ہے کہ اس میں دنیا کے ہنگاموں کا شور ماند پڑجاتا ہے اور کان خاموشی کا نغمہ سننے کی تاب نہیں لا پاتے، اس کے لیے دل کے کان کھولنے پڑتے ہیں۔ عام آدمی کو یہ عمل حالتِ نزع کے ممثل نظر آتا ہے۔ وہ گھبراجاتا ہے، تنہائی سے نکل بھاگتا ہے اپنے آپ کو ہجوم میں گم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔‘‘ (ایضاً)

چنانچہ خیالات اور جذبات کی پرورش کے لیے قدرت نے انسان کو لازماً بلکہ جبراً تنہائی اور خاموشی کے لمحات میں ڈالنے کا انتظام کر رکھا ہے۔ حادثات، بیماریاں، پیاروں کا بچھڑنا وغیرہ، ایسے واقعات ہیں جو اسے درد سے آشنا کرتے ہیں۔ وہ اپنے آپ کو دوسروں سے مختلف اور کٹا ہوا محسوس کرتا ہے۔ لوگوں کی صحبت میں اس کا جی نہیں لگتا۔ بعض اوقات تو اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔ درد اسے کانٹے کی طرح مسلسل، ہمہ وقت چبھتا رہتا ہے۔ زندگی بوجھل اور کٹھن ہو جاتی ہے۔ ایسے میں یا تو وہ ہتھیار ڈال دیتا ہے اور موت کے راستے پر چل نکلتا ہے یا پھر اس کے اندر کا تخلیقی انسان جسے ناصر کاظمی ’شاعر‘ کہتے ہیں، بیدار ہوتا ہے؛ اس کی بہت سی خفتہ اور نہفتہ صلاحتیں بروئے کار آتی ہیں، اور وہ اپنی دنیا آپ پیدا کرتا ہے:

درد کانٹا ہے اس کی چبھن پھول ہے

درد کی خامشی کا سخن پھول ہے

(دیوان)

ناصر کاظمی کے ہاں شاعری کے معنی بہت وسیع تھے۔ اپنے اسی آخری انٹرویو میں کہتے ہیں: ’’مجھے غزل، قطعہ، رباعی، آزاد نظم وغیرہ سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ تمھیں پتا ہے کہ شاعری صرف مصرعے لکھنے کا نام نہیں۔ شاعری تو ایک نقطہِ نظر ہے زندگی کو دیکھنے کا، چیزوں کو دیکھنے کا؛ ان کو موزوں طریقے سے بیان کرنے کا نام شاعری ہے۔‘‘ اسی گفتگو کا ایک اور ٹکڑا ملا حظہ ہو:

ناصر: آپ یہ دیکھیے کہ بعض لوگ مختلف شعبوں میں پڑے ہیں اور وہ شاعر ہیں، تخلیقی لوگ ہیں۔ ننھے ننھے مزدور —- میں نے تو دفتروں میں بعض کلرکوں کو دیکھا ہے اور بعض ریڈیو میں، بعض ادھر اُدھر اور اداروں میں؛ وہ بڑے تخلیقی لوگ ہیں؛ وہ بڑے خاموش خادم ہیں۔ اس سے بڑا کون شاعر ہے —- انجن ڈرائیور سے بڑا، جو کتنے ہزار اور کتنے سو مسافروں کو لاہور سے کراچی لے جاتا ہے اور کراچی سے واپس لاتا ہے۔ مجھے یہ آدمی بہت پسند ہے۔ اورایک کانٹے والا، پھاٹک بند کرنے والا؛ یہ بھی شاعر ہیں، میری برادری کے لوگ۔ اپنا اپنا role ہے۔ آپ کو پتا ہے اگر وہ پھاٹک کھول دے، جب گاڑی آرہی ہو، تو کیا قیامت آئے؟ بس شاعر کا بھی یہی کام ہے کہ کس وقت پھاٹک بند کرناہے؛ جب گاڑی گزرتی ہے، اس وقت۔

انتظار: لیکن ایسے شاعر بھی تو تم نے دیکھے ہوں گے کہ جب پھاٹک کو بند رہنا چاہیے، اس وقت کھول دیتے ہیں اور جب کھولنا چاہیے، بند کردیتے ہیں۔

ناصر: کیونکہ وہ صرف اپنی ناک سے آگے نہیں دیکھ سکتے۔ شاعر جو ہے وہ ساری انسانیت کے بارے میں سوچتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ جب اوروں کا بھلا ہو گا تو اس کا اپنا بھلا خودبخود ہو گا۔ ‘‘

گویا انسان جو بھی، جہاں بھی ہو، تخلیقی ہو سکتا ہے؛ اسے تخلیقی ہونا چاہیے، یہی اس کی معراج ہے۔ لیکن اس معراج کو پانے کے لیے اسے تنہائی کے جوکھم سے گزرنا پڑے گا۔ ناصر کاظمی نے اپنے ایک ریڈیو فیچر، ’شاعر اور تنہائی‘ (مطبوعہ ’خشک چشمے کے کنارے‘) میں لکھاتھا: ’’روزِازل سے تنہائی شاعر کا مقدر ہے ]یہاں مقدر سے مراد مجبوری نہیں بلکہ اس کے قرآنی معانی پر توجہ دینا ہو گی۔ ’’وَخلقَ کُلَّ شٗئیً فَقَدَّ رَہٗ تَقدِیرًا‘‘ (اللہ نے ہر شے پیدا کی اور اس کا ٹھیک ٹھیک اندازہ مقرر کر دیا) —- ہر شے کے خواص اور امکانات اس کی تقدیر ہیں۔ اقبال کے ہاں بھی یہ لفظ انھیں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔[ تخلیق کی لگن اسے خلوتوں میں لیے پھرتی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ انسانی تہذیب کا سورج تنہائی کے غاروں ہی سے طلوع ہوا۔ اس لیے تنہائی تخلیقی زندگی کے لیے ایک ناگزیر مرحلہ ہے۔ تخلیقی انسان زندگی کے لیے تنہائی کے دکھ اٹھاتا ہے اور جب اس بھری دنیا میں وہ اکیلا رہ جاتا ہے تو اپنے معبودِ حقیقی کے حضور یوں فریاد کرتا ہے:

تیری خدائی سے ہے میرے جُنوں کو گِلہ

اپنے لیے لامکاں میرے لیے چار سو

انسان اپنے چار سو سے باہر نہیں نکل سکتا۔ آزادی انسان کی ازلی آرزو ہے لیکن تنہائی سے عہدنامہ کیے بغیر یہ آزادی ممکن نہیں۔

دنیا کی ہر شے تنہائی کی کوکھ سے جنم لیتی ہے۔ اس عالم کی تمام مخلوقات تنہائی کے پردوں ہی میں نشوونما پاتی ہیں۔ انسان شعور رکھتا ہے، اس لیے وہ تمام مخلوقات کے مقابلے میں سب سے زیادہ حساس ہے۔ شعور و آگہی کا یہ آشوب اسے آسمان و زمین کی وسعتوں میں حیران و سرگرداں لیے پھرتا ہے۔ شاعر کی تنہائیوں نے اس دنیا کے گوشے گوشے کو ایک حیاتِ تازہ بخشی ہے اور اس کی تنہائی کا یہ سفر ابد تک جاری رہے گا۔۔۔‘‘

’پہلی بارش‘ کے مرکزی کردار کی زندگی میں بھی ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب اس کے اندر کا شاعر بیدار ہوتا ہے اور اسے ایک نئی دنیا تخلیق کرنے پر؛ ایک نیا طرزِ زیست دریافت کرنے اور اپنانے پر مجبور کرتا ہے —- ’’پچھلی رات کی تیز ہوا میں / کورا کاغذ بول رہا تھا۔‘‘ وہ جب تک غیرتخلیقی زندگی بسر کرتا رہا، کمزور، خوف زدہ اور محتاج رہا؛ تنہائی اس کے لیے دوزخ تھی جس میں وہ ’’لکڑی کی طرح جلتا تھا‘‘، لیکن جب اسے شعور ملا، اس کا احساس جاگا، اس کے اندر تخلیقی سوتے پھوٹے، وہ قوی، جرأت مند اور خودمختار ہو گیا؛ اس نے اپنی جنت کو پالیا، لیکن کہیں باہر نہیں بلکہ:

وہ جنت مرے دل میں چھپی تھی

میں جسے باہر ڈھونڈ رہا تھا

تنہائی مرے دل کی جنت

میں تنہا ہوں میں تنہا تھا

باصر سلطان کاظمی

اگست 1983

اعتبارِ نغمہ ۔ دیباچہ

یہ ان دنوں کی بات ہے جب شاعری فنکار کے لئے باعث ننگ نہیں تھی۔ گیت گانے والا گاؤں گاؤں، نگری نگری گھومتا پھرتا تھا اور باٹ باٹ پہ عشق و محبت، دلیری، شجاعت، سیر و تفریح اور انجانے دیسوں کے نغمے گاتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کوئی بہت ہی سیدھا سادہ اور رس بھرا ساز ہوتا تھا جس کی دھن پر اس کے سارے گیت ڈھلتے تھے اور گلے سے باہر نکلتے ہی دلوں میں اتر جاتے تھے۔ وہ جن لوگوں میں بیٹھ جاتا ان کے دلوں کا تار ملا لیتا۔ جانی پہچانی دھرتی کا ہر گوشہ اور دھڑکنوں کے سارے مسکن اس کی جاگیر تھے۔ پاس پڑوس کے سارے باسی اس کی آواز پر فریفتہ تھے۔ کہنے والا ایک تھا اور سننے والے ہزاروں۔ اور ان ہزاروں کے دل اس کی مٹھی میں تھے۔ جدھر اس کی آواز پھرتی تھی ادھر اس کا سامعہ کھنچ کر چلا جاتا تھا۔ شاعر اور اس کے سامعین میں اگر کوئی حد فاصل تھی تو یہی کہ وہ کہہ سکتا تھا اور یہ سن سکتے تھے۔ یہ دیوارِ چین بھی جذب و کیف کے مراحل میں ٹوٹتی پھوٹتی رہتی تھی۔ سننے والوں کی دھڑکنیں اس کی آواز میں شامل تھیں، ان کے ذہن کی ساری لرزشیں اس کے ساز میں جاگ اٹھتی تھیں۔ اس ‘من تو شدم تو من شدی’ کے مراحل میں کوئی فاصلے نہ تھے جو مٹ نہیں سکتے تھے اور کوئی روک نہیں تھی جو ان کو جدا کر سکتی تھی۔ اسے پہچاننے والے اسے بھاٹ کہتے تھے، موجد اور خالق کا نام دیتے تھے اور اس کے ذریعے دھرتی کا رابطہ آسمانوں سے جا ملتا تھا۔

مگر دھرتی پر حکومت کرنے والوں کو اس کی فرماں روائی پہ، اس کی گرفت اور اثر و نفوز پہ حسد ہوا۔ وہ بھی دلوں پر حکومت کرنا چاہتے تھے۔ دونوں کا ملاپ ہوا مگر منافقت اور جلاپے کی بنیادوں پر۔ اس مقصدی مصالحت سے حکمرانوں نے اسے کہا کہ ہماری دلیری، ہمارے عشق، ہماری سیر و سیاحت اور تفریح کے ترانے گاؤ۔ بھاٹ اب بھٹئی کرنے پر اتر آیا۔ شاید اسے یہ غرور ہو گیا تھا کہ میں جب بھی اور جیسے بھی چاہوں سننے والوں کو رجھا سکتا ہوں، ان کا رخ پھیر سکتا ہوں۔ درباری سخن ساز نے فنِ سخن رانی ایجاد کیا، دلوں میں گھر کرنے کے اصول وضع کئے اور جو چیز کبھی اپنے آپ ہو جایا کرتی تھی اُسے اپنی مرضی سے پیدا کرنے کے لیے طریقے سلیقے ترتیب دئے۔ مگر آہستہ آہستہ وہ ان ہتھ پھیریوں کا شکار ہو کے رہ گیا۔ شطرنج کی چالوں نے اسے ایسا الجھایا کہ وہ انہی میں پھنس کر رہ گیا اور سننے والے اس کی آواز سے دور ہوتے گئے۔ حتٰی کہ ایک دن اس کا نغمہ اپنی ہی گونج میں کھو کے رہ گیا۔ اس نے آس پاس دیکھا، سوا اس کے مربی اور ممدوح کے کوئی بھی نہ تھا جو اس کی فنی مہارت اور چابک دستی کی داد دے سکتا، کوئی بھی نہ تھا جو اس کی پروازِ خیال کے ساتھ ذرا بھی اڑان دکھا سکتا۔ اس نے دیکھا کہ اس کی تعریفیں کتنی کھوکھلی، اس کے نغمہ کتنے بے روح اور اس کی آواز کتنی بے سوز ہو کے رہ گئی۔ آخر اس کی مدح سرائی کا طلسم بھی ٹوٹنے لگا اور وہ دربار سے بھاگ نکلا۔

اس نے پھر سننے والے تلاش کرنے شروع کئے۔ لوگ جمع کئے اور محفلیں جمائیں مگر اب کوئی اسے پہچانتا نہیں تھا۔ اور اس کے منبع و ماخذ سے آشنائی نہیں رکھتا تھا۔ لوگ واہ واہ کرتے تھے، سبحان اللہ کے ڈونگرے برساتے تھے مگر وہ لرزشیں اور وہ دھڑکنیں کہاں تھیں؟ آواز و سامعہ کے وہ پرانے عہد و پیماں کہاں تھے؟ چشم و گوش کی وہ آشتی کہاں تھی؟ اب تو لوگ اس کا وطن پوچھتے تھے، اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ آخر تحسینِ نا شناس نے اسے خود پسند و خود نگر بنا دیا۔ اب وہ لوگوں سے بھاگتا تھا، ان کی داد و تحسین پہ جھلّاتا تھا۔ لعل و گہر اگلنے کے بعد کچھ بلبلے بطور انعام ملیں تو ان کی کیا بساط ہے؟ اب تو ممدوح کی مربیانہ شفقت بھی اسے میسر نہیں تھی۔ وہ پرانی مصلحت کسی مقصد سے ہی سہی مگر خود اس کے لیے ایک حد تک آرام و سکون کا باعث تو بنتی تھی، روحانی کوفت کے باوجود پہلے جسمانی آسائش کے تو سارے سامان مہیا تھے۔ زمانے کی قدر نا شناسی، سننے والوں کی بے اعتنائی کو دیکھ کے اس نے بھی روپ بدلا اور چیخنا چلانا شروع کر دیا تاکہ لوگ راغب ہوں۔ اس کی فریادوں میں بدلتی دنیا کا الم بھی شامل تھا اور اس کا اپنا المیہ بھی جا بہ جا نمایاں ہو رہا تھا۔
بدلتی ہوئی دنیا کا عکس اور شاعری میں شاعر کا فرار ایک بہانا تھا جو روحِ عصر اپنے اظہار کے لئے ڈھونڈ رہی تھی۔ "نالہ گویا گردش سیارہ کی آواز ہے!” وہ آسمان و زمین کے بگڑتے ہوئے رنگ روپ اپنی آواز میں سمو کے کہہ رہا تھا : دیکھو! اور سننے والے اپنی اپنی حدوں میں محبوس اس کی آواز کو سن سن ڈرے جا رہے تھے۔ شاعر نے اس باولے کا بھیس بنا رکھا تھا جو ہر گاؤں کے گردا گرد چکر کاٹتا ہے اور آنے والے حادثوں کی خبر دیتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ یہ پگلا گاؤں سے کتنا پیار کرتا ہے اور گاؤں والوں کے دُکھ میں کس محبت سے اشک فشانی کرتا ہے۔ مگر اس کے با وجود اس پگلے کی پیغمبری ایک بڑا نا گوار اور دل دوز فریضہ ہے جس کو ادا کرنا کسی محفل پرست، دنیا دار اور مصلحت آشنا سخن ساز کے بس کی بات نہیں:
یونہی گر روتا رہا غالبؔ تو اے اہلِ جہاں
دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں
شعر کی ماہیت پر سوچنے والے عموماً شاعر کو بھول جاتے ہیں۔ اس شاعر کو جو بھیس بدل بدل کر ہر زمانے میں اپنے جلوے اپنے ساتھ لے کر آتا رہا ہے۔ ہمارے زمانے کا شاعر کئی اعتبار سے اکیلا ہے۔ شعر پڑھنے والے ہیں تو شاعری کے بارے میں سوچنے والے اس کے ساتھ نہ چل سکتے ہیں نہ چلنا چاہتے ہیں۔ کہنے والے کی آزمائش اس سے بڑی کیا ہوگی کہ با وجود ان حد بندیوں اور فاصلوں کے اس کی فریادیں دیواریں چیر کے کانوں تک پہنچتی ہیں یا نہیں۔ اس دورِ ابتلا میں نالہ آفرینی محض ایک دیوانے کی پکار ہی نہیں، کئی دلوں کی دھڑکنیں اس کی ہم ساز و ہم نوا ہو سکتی ہیں اگر مصلحت آشنا ذہن ان دھڑکنوں کو ملفوف نہ کر دے۔ آج کا شاعر نگری نگری گھومنے والے شاعر اور درباری سخن ساز دونوں کے مختلف مزاجوں کو ملا کے ایک نئی آواز پیدا کرنا چاہتا ہے، جو اس کے اپنے گرد و پیش اور اس کے اپنے آسمان و زمین سے بھی علاقہ رکھتی ہو۔ طباعت کی مدد سے چشم و گوش تک پہنچنے والا پرانے نغمہ پیرا کی بے ساختگی کو سخن ساز کی مہارتِ فن سے اس طرح باہم پیوستہ کرنا چاہتا ہے کہ دونوں یک جان ہو جائیں ۔ اسی طرح اس کی آواز میں ایک ٹھہراؤ، گرفت اور قوت و تیزی کا اجتماع ہوگا۔ اگر وہ اس شک و شبہ میں ڈوب جائے کہ اس کی آواز کہیں خلاؤں میں کھو کے رہ جائے گی تو شاید اسے بلند کرنے کا ہی کوئی جواز نہ رہ جائے۔
نالہ آفرینی جبر و اختیار کا ایک انوکھا کرشمہ ہے۔ قاری کے دل میں جگہ پانا بھی محض اس کے بس کی بات نہیں۔ آواز قوی ہو تو دور دور پہنچ جاتی ہے، نحیف ہو تو حلق سے باہر ہی نہیں نکلنے پاتی، صرف پہنچنے کی بات نہیں، دیکھنا یہ ہے کہ ایک آواز ہزاروں کی آواز بھی بن سکتی ہے یا نہیں۔ محض ہزاروں کا ذکر کرنے یا ہزاروں کو مخاطب کرنے سے ان کی دھڑکنیں اور لرزشیں ساز کی ہم نوائی نہیں کر سکتیں۔
نالہ محفلیں برہم نہیں کرتا۔ نالہ آفریں پہ جو کچھ بھی گزری ہو، اس کی فریاد فن کے سانچے میں ڈھل کر نغمہ نہیں بن سکتی تو محض چیخ پکار ہے۔

(ناصر کاظمی)
لاہور
پہلا دن،

دیباچہ

۔ ۱ ۔

یاں فقط ریختہ کہنے ہی نہ آئے تھے ہم

چار دن یہ بھی تماشا سا دکھایا ہم نے

میرا خیال تھا کہ شعر نہ کہنے پر تو میرا اختیار نہیں لیکن اپنا شعری مجموعہ شائع نہ کرانا شاید میرے بس میں ہے۔ لیکن جس طرح پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے اور اختیار سے مزید اختیار حاصل ہوتا ہے اسی طرح بے بسی بے بسی کو جنم دیتی ہے۔ کچھ دوستوں کی شہ، بزرگوں کی ناحوصلہ شکنی اور شاعری اور شاعری سے ملتی جلتی چیزوں سے محبت کرنے والوں کی توقعات اِن اشعار کو کتابی شکل میں لانے کے محرکات ہیں۔ جہاں تک اِس مجموعے میں ’اصلیت‘ یا ’جان‘ کا تعلق ہے تو اِس کا فیصلہ ظاہر ہے کہ وقت ہی کرے گا اور میں چاہتا ہوں کہ یہ وقت کم از کم اگلے پچاس برس تک تو نہ آئے کیونکہ ابھی مجھے دنیا میں کچھ اور کام بھی کرنے ہیں۔ سو اگر مستقبل (مستقبل قریب ہرگز نہیں) کے قارئین اِس کلام کو جان دار پائیں گے تو یہ اُن کی خوش قسمتی ہو گی اور اگر معاملہ اِس کے برعکس رہا تویہ اُن کی اور بھی زیادہ خوش قسمتی ہو گی کہ اُن کی ایک ایسے شاعر سے جان چھوٹ چکی ہو گی جو کچھ غیر شعری عوامل کی بدولت اپنے بے جان کلام کی داد پاتا رہا۔

بعض لوگوں کے خیال میں یہ میری بد قسمتی ہے کہ میرا موازنہ ناصِر کاظمی سے کیا جائے گا، اپنے ہم عصروں سے نہیں،میں سمجھتا ہوں یہ میری خوش بختی ہے کہ میں مار کھاؤں گا تو ناصِر کاظمی سے۔ لیکن یہ میں نے کیا کہہ دیا۔ ٹی ایس ایلیٹ تو کہتا ہے کہ ہومر سے لے کر آج تک کے تمام شعراء ہم عصر ہیں۔ پاپا بھی میِراور لورکا کو اپنا ہم عصر کہتے تھے اور مجھے بھی نصیحت کرتے تھے کہ اگر میِر اور غالب کے سامنے بیٹھ کراپنی غزل سنانے کی ہمت کر سکو تو شعر کہنا ورنہ کوئی اور کام کرنا۔

فنِ تقریر سیکھنے لگا تو پہلا سبق یہ ملا کہ سامعین کو بے جان مجسمے جانو۔ مشاعرے میں شعر سنانے کا معاملہ بالکل اُلٹ رہا۔ سیدھے سادے، معتقد حاضرین میِرو غالب لگنے لگے۔ لیکن یہ بہت بعد کی بات ہے۔ پہلے پہل تو یہ ہوتا کہ ذرا ہوا چلی اور بادبانِ طبعِ رسا کھُلے۔ پھر جو دل میں آتا کاغذ پہ اُتر آتا اور کاغذ پاپا کی میز پر پہنچ جاتا۔ وہ مسکراتے اور رسماَ حوصلہ افزائی کے کچھ کلمات کہہ دیتے جنہیں میں شاباش سمجھتا۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ برخوادار سنجیدہ ہوتا جا رہا ہے تو وہ بھی سنجیدہ ہو گئے۔

پاپا داد دینے کے معاملے میں بہت فیاض تھے۔ کالجوں کے مشاعروں میں صدارت/منصفی کرتے ہوئے جب اُنہیں کسی طالب علم کا کوئی شعر پسند آجاتا تو اپنی تقریر میں اُس کا نام لے کر تعریف کرتے اور بعض اوقات کچھ نقد انعام بھی دیتے۔ بعد میں وہ شعر اپنے دوستوں کو بھی سناتے۔ لیکن اُن کی داد وتحسین کا دوسرا رُخ شیخ صلاح الدین نے اپنی کتاب ناصِر کاظمی: ایک دھیان میں بیان کیا ہے:

’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ناصِر کی محفل میں ایک نوجوان بیٹھا کرتا تھاجو ناصِر کی شاعری کا بہت بڑا مداح تھا اور اُس کا بہت احترام کرتا تھا۔ وہ بہت ہی شریف انسان تھا۔ اُن کو شعر کہنے کا لپکا تھا۔ اِدھر اُنہوں نے کسی کی غزل سنی اور اُن کو بھلی لگی تو اُسی زمین میں اگلے دن غزل کہہ لیتے اور سنانے کے لیے چلے آتے اور اِس طرح سناتے جیسے بہت بڑا تیر مارا ہو۔۔۔۔۔۔ میری رائے یہ تھی کہ شاعری اُن کے بس کا روگ نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بات یہ تھی کہ اُن کا تخیلی ہاضمہ بہت ہی کمزور تھا اور اُن پر کوئی ننھا منا سا شاعرچھا سکتا تھااور وہ بھرپور ہو جاتے تھے اور بہہ نکلتے تھے۔ وہ کسی تاثر، خیال، جذبے، آہنگ کی پرورش کرنا نہ جانتے تھے اور اُس میں روح پڑنے سے پہلے ہی بطن سے اُگل دیتے تھے۔ لہذا اُن کے یہاں ہر خیال، جذبہ اور آہنگ مردہ ہی پیدا ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے اشخاص سے ناصِر بہت ہی خوبصورت جھوٹ بولنے کا قائل تھا جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ایسے اشخاص اپنی خود فریبی سے سیر ہو جاتے اور فن اور شاعری سے کنارہ کش ہو جاتے اور کسی دوسری قسم کی زندگی جس کے لیے وہ اہل ہوتے، اُس زندگی میں مصروف ہو جاتے۔‘‘

مجھے بچپن میں مصوری کا بھی بہت شوق تھا۔ سکول میں آٹھویں جماعت تک ڈرائینگ باقاعدہ مضمون کے طور پر سیکھی۔ بیسیوں تصویریں بنائیں۔ اگرچہ ان پر بہت شاباش بھی ملی، خاص طور سے ٹیپو سلطان کی رنگین پورٹریٹ اور قائدِ اعظم اور چرچل کے پنسل سکیچوں پر، لیکن ان میں جو کمی تھی وہ بھی صاف نظر آتی تھی۔

میرے ننھیال منٹگمری (ساہیوال) میں تھے۔ ایک بار جب حسبِ معمول چھٹیوں میں منٹگمری گئے تو میں اپنے ماموں نجم الحسن کی ڈرائنگ کے کچھ نمونے دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ ایک پنسل سکیچ تو قابلِ دید ہی نہیں، ناقابلِ فراموش بھی تھا۔ ایک لڑکی کی تصویر تھی جس کی نگاہیں کسی کی کوتاہیِ قسمت سے مژگاں ہو گئیں تھیں اور جس کی زلفِ گرہ گیر پہ ایک تتلی بھنورے کی طرح بیٹھی تھی:

صبح وہ آفت اٹھ بیٹھا تھا تم نے نہ دیکھا صد افسوس

کیا کیا فتنے سر جوڑے پلکوں کے سائے سائے گئے

ہزار کوشش کی کہ اس طرح کی کوئی تصویر بنا سکوں لیکن ؎ ایں سعادت بزورِ بازو نیست۔ شکلِ خیالی کی کوئی نقل ایسی نہ بن سکی جو میرِ مصوری کو دکھا سکتا۔ عقل نے کہا، ’یہ تیرا میدان نہیں، دخل در معقولات مت کر۔‘ سو کاغذ لپیٹا سامان سمیٹا اور مصوری کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہا۔ اگرچہ شعر کہنا شروع کر چکا تھا لیکن اُس وقت مجھے یہ خیال نہیں تھا کہ باقی عمر لفظوں سے تصویریں بناتے گذرے گی۔

شاعری کا آغاز یوں ہواتھا کہ ایک اتوار کو ریڈیو پر بچوں کے پروگرام میں ایک نظم سنی۔ اُسی زمین میں کچھ شعر لکھے گئے۔ پاپا نے دیکھے تو خوش ہوئے اور اگلی اتوار کو میں اُسی ریڈیو پروگرام میں اپنے اشعار سنا رہا تھا۔ میں اُس وقت چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا۔

سجاد باقر رضوی صاحب کو میرے شعر کہنے کا علم ہوا تو کھِل اٹھے۔ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے کسی مصلحت یا اندیشے کے بغیر اِس سلسلے میں میری حوصلہ افزائی کی۔ مذکورہ نظم /غزل پر مجھے باقاعدہ انعام دیا۔ ایک شعر پر تو بہت ہی محظوظ ہوئے:

آپ سا بے وفا نہیں دیکھا

ہم نے طوطا اُڑا کے دیکھ لیا

باقر صاحب اورینٹل کالج میں استاد تھے۔ ساتھ لاء کالج اور اس کی دیوار کے دوسری طرف ہمارا سکول، سینٹ فرانسس ہائی سکول تھا۔ گرمیوں کی ایک دوپہر چھُٹی کے بعد میں اور میرا چھوٹا بھائی حسن بس سٹاپ کی طرف جا رہے تھے کہ باقر صاحب سے ملاقات ہو گئی۔ وہ اصرار کر کے ہمیں اپنے کالج لے گئے۔ پہلے سیون اپ سے ہماری تواضع کی پھر ہمیں پروفیسر وقار عظیم کے کمرے میں لے گئے۔ہمارا تعارف کرایا اور ساتھ ہی مجھ سے اپنے شعر سنانے کو کہا۔ میں اس بات کے لیے قطعاَ تیار نہیں تھا۔ بہت کہا کہ وہ تو بچوں کے پروگرام کے لیے تھے، اور وہ تو کچھ بھی نہیں تھے، لیکن باقر صاحب کی فرمائش حکم میں تبدیل ہو گئی۔ میں نے کپکپاتی آواز میں جو چار پانچ اشعار تھے سنا دئیے۔ وقار صاحب شفقت سے مسکراتے رہے اور میرا حوصلہ بڑھاتے رہے۔

نویں جماعت میں پہنچ کر مجھے فیصلہ کرنا تھا کہ سائنس پڑھوں یا آرٹس۔ پاپا بہ تکرار کہتے کہ زمانہ سائنس کا ہے۔ چچا عنصر کی خواہش تھی کہ میں بی ایس ای انجینئرنگ کرتا، جبکہ باجی (ہم اپنی امی کو باجی کہتے ہیں) کا مدعا بس اتنا تھا کہ میں ’سیدھا سیدھا‘ ایم اے کروں ، پھر جو مرضی کروں۔ میرے نزدیک سائنس پڑھنے کا مطلب صرف ڈاکٹر یا انجینئر بننا تھا۔ اگرچہ فزیالوجی میرا پسندیدہ مضمون تھا لیکن ڈاکٹری میں جو ’خون خرابہ‘ اور’ چیر پھاڑ‘ ہوتی ہے، اس سے میری جان جاتی۔ انجینئرنگ میں کوئی ایسی بات تو نہ تھی جس سے میں بھاگتا لیکن کوئی ایسی بات بھی نظر نہ آتی جو اپنی طرف کھینچتی۔ سائنس دان بننے کا اگر ہمارے وطن میں کوئی تصور ہوتا تو میں ضرور یہ کوشش کرتا۔ سائنس سے میرے عشق کا یہ عالم تھا کہ آرٹس کے مضامین چُننے کے باوجود فزیالوجی کا بھی انتخاب کیا اور میرے جو دوست فزکس، کیمسٹری پڑھتے تھے ان کی کتابیں مستعار لے کر پڑھتا۔ میں نے اور حسن نے اپنے جیب خرچ سے پیسے بچا بچا کر گھر میں ایک چھوٹی سی لیبارٹری بنا لی۔ موجدوں کی زندگیوں اور ان کی ایجادات کے بارے میں کتابیں اکٹھی کیں۔ ’ Seven Inventors‘ جانے کتنی بار پڑھی۔ ذہن پر یہ بھوت سوار تھا کہ کچھ ایجاد کیا جائے، لیکن کیا؟ سب کچھ تو ایجاد ہو چکا تھا۔

آرٹس کا انتخاب یوں بھی آسان ہو گیا کہ اُ ن دنوں سی ایس پی افسروں کی بڑی دھاک تھی۔ پھر پاپا کے کچھ افسر دوستوں کا ہمارے ہاں آنا جانا تھا۔ مجھے اُن کی زندگی بہت اچھی لگتی۔ جینے کے لیے درکار سہولتوں کے ساتھ ساتھ انہیں شعروادب کے لیے بھی وقت میسر تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ سی ایس پی بننا بہت مشکل ہے کیونکہ بہت مقابلہ ہوتا ہے، لیکن کچھ یہ بھی کہتے کہ یہ کوئی اتنا مشکل بھی نہیں کیونکہ اس کے لیے کسی خاص علم، کسی شعبے میں مہارت درکار نہیں ہوتی۔ بس ہر چیز کے بارے میں تھوڑا تھوڑا ، اوپرا سا علم کافی ہے، وہ بھی امتحان کے دن تک۔ بعد میں چاہے وہ بھی پاس نہ رہے۔ اصل کام تو ماتحتوں نے کرنا ہوتا ہے۔ آپ کوصرف کام کرنے یا نہ کرنے کا حکم دینا ہوتا ہے۔ ’’کیا بات ہے!‘‘ میں سوچتا۔

سکول میں یہ میرا آخری سال تھا جب ٹیلیویژن پر نوجوانوں کے لیے شعروادب کا ایک پروگرام شروع ہوا۔ میں نے بیت بازی کے دو تین پروگراموں میں حصہ لیا اور ایک پروگرام میں اپنی نظم نما غزل سنائی۔ ع دُور سایا سا سا ہے کیا پھولوں میں۔ اس کے بیشتر اشعار پاپا کی اصلاح سے کسی قابل ہوئے۔ اس سے اگلے برس جب میں گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل ہوا تو یہ غزل ’راوی‘ میں چھپی جو ایک اعزاز تھا۔ کالج میں شعرکہنے کے شوق کو گویا پر لگ گئے۔ ’مجلسِ اقبال‘ کے اجلاس بہت بھرپور ہوتے تھے اور ان میں اپنی تخلیقات پیش کرنا بہت بڑا اعزاز تھا۔ بین الکلیاتی مشاعروں میں شرکت کے لیے کالج کی ٹیمیں ملک بھر کے کالجوں میں بھیجی جاتی تھیں۔ ٹرافیاں، تمغے ایک طرف، مفت کی سیر الگ۔ سو میرا شعر کہنا جاری رہا اور پاپا اس لیے اصلاح اور حوصلہ افزائی کرتے رہے کہ یہ تخلیقی عمل میری نشوو نما میں ممد ثابت ہو گا۔ لیکن وہ میری اصل ترقی تعلیمی میدان میں دیکھنا چاہتے تھے۔

پاپا کو شاذ ہی کوئی شعر پسند آتا۔ جو غزل میں انہیں دکھاتا، اصلاح کے بعد اس میں باقی کچھ نہ بچتا۔ بے وزن اشعار اور خاص طور سے تلفظ کی غلطیوں پر بہت ڈانٹ پڑتی۔ ’’یہ لفظ ایسے نہیں باندھا جا سکتا،‘‘ وہ کہتے اور پھر اساتذہ کے کلام سے مثالیں دیتے جو میں اپنی ڈائری میں نوٹ کرتا۔ اشعار کی باریکیوں پر اتنی تفصیلی گفتگو کرتے کہ ہیرا تراشنے کا عمل بہت آسان دکھائی دیتا۔ مختلف شعراء کی کتابیں کھُلتیں اور کئی بار آدھی رات ہو جاتی۔ باجی آ کے یاد دلاتیں کہ اِسے صبح کالج بھی جانا ہے۔ پاپا مزید برہم ہو جاتے کہ اپنا وقت بھی برباد کرتا ہے اور میرا بھی۔ کبھی کبھار میرے کسی مصرع کو پسندیدگی کا نشان نصیب ہوتا اور اگر کوئی پورے کا پورا شعر اس کا مستحق قرار پاتا تو یہ ایک واقعہ ہوتا۔ پھر پاپاسب کچھ بھول جاتے اور باجی کو بھی بلا لیتے اور کہتے، ’’آخر میرا بیٹا ہے نا!‘‘ باجی خوش تو ہوتیں لیکن بھرپور کوشش کرتیں کہ اُن کی خوشی ظاہر نہ ہونے پائے۔ کہا کرتیں کہ گھر میں ایک شاعر بہت ہے۔ اگلے ہی لمحے پاپا حقیقت کی دنیا میں واپس آجاتے اور لاڈ سے کہتے، ’’بھاگ جا، اپنی پڑھائی پر توجہ دے۔ یہ راستہ خوشی تو دیتا ہے لیکن بے شمار دُکھ دینے کے بعد۔‘‘ اُس دور کی چند ڈائریاں میرے پاس اب بھی محفوظ ہیں اور میری زندگی کا قیمتی ترین سرمایہ وہ اشعار /مصرعے ہیں جن پر پاپا نے پسندیدگی کے نشان لگائے تھے۔ میں انہیں یہاں نقل کرنا چاہوں گا کہ انہیں کے سہارے میری یہ کتاب آپ تک پہنچ رہی ہے۔

ع ہوا چلی اور خوب چلی پھر

ع میں تری رات کا دیا ہوتا

ع وہی ننھے ننھے پودے تھے گھنے درخت کل کے

………

میں یاد کرتا ہوں تجھ کو جو آج کل اتنا

سبب یہ ہے کہ مجھے اور کوئی کام نہیں

………

جیسے کوئی پکار رہا ہو کہیں مجھے

یہ آدھی رات کس کی صدا یاد آگئی

………

تازہ تھا زخمِ ہجر تو تدبیر کچھ نہ کی

اب لاعلاج ہے تو دوا یاد آگئی

………

آوازِ رفتگاں مجھے لاتی ہے اِس طرف

یہ راستہ اگرچہ مری رہ گزر نہیں

………

اِس چمن کو بنانے والے نے

کیا بنایا تھا بن گیا کیا ہے

………

بعد موت کے روح ہماری

دنیا کو کیا پاتی ہو گی

………

سنو کہ آج تمہیں یاد کے دریچوں سے

صدائے رفتہ نے اک بار پھر پکارا ہے

………

آؤ کہ گِن سکوں گا نہ شامیں فراق کی

یہ انگلیاں تو ختم ہوئیں سب حساب میں

(یہ غزل پاپا کی وفات کے بعد مکمل ہوئی)

اِن کے علاوہ جو اشعار ’ابتدائی کلام‘ کے زیرِ عنوان شائع کیے جا رہے ہیں، پاپا کو جزوی طور پر ٹھیک لگے اور ان کی اصلاح سے بہتر ہو گئے۔

۔۲ ۔

پاپا کی وفات کے بعد میری ترجیحات یکسر بدل گئیں۔ اُن کی زندگی میں صرف برگِ نے شائع ہوئی تھی۔ دیوان، پہلی بارش، نشاطِ خواب، سُر کی چھایا، خشک چشمے کے کنارے، اُن کی ڈائریاں اور کلاسیکی شعراء کے انتخاب، سب شائع ہونا باقی تھے۔ دیوان، اورپہلی بارشکے سوا ساری کتابوں کے مسودے تیار ہونا تھے۔ ریڈیو فیچر، رسالوں کے ادارئیے، مضامین وغیرہ کا حصول اور ترتیب کافی وقت طلب کام تھا۔ ہر اتوار (ہفتہ وار تعطیل) کو ہمارے ہاں پاپا کے دوست آتے، خاص طور سے شیخ صلاح الدین، انتظار حسین، احمد مشتاق، سجاد باقر رضوی، افتخار شبیر، صلاح الدین محمود، ریاض انور اور محبوب خزاں۔ اِس طرح جو ماحول بنتا اور جو باتیں ہوتیں ان کے نتیجے میں ہمارا وقت گویا پاپا کی قربت میں گذرتا۔ اُن کی جدائی تخلیقی قوت میں تبدیل ہوتی گئی۔ شعر کہنے پر بھی طبیعت مائل ہوتی اور کچھ مختلف راہوں کی جستجو بھی رہتی۔ کتابیں پڑھنے کو تو بہت جی چاہتا لیکن غیر نصابی کتابیں۔ ذریعہء معاش کے بارے میں سوچتا تو ہر پیشہ کُل وقتی یکسوئی مانگتا نظر آتا۔ صرف کالج میں پڑھانا ہی ایسا کام لگتا جس میں کچھ فرصت میسر آسکتی تھی۔ افسری کا خیال تو دل سے کچھ یوں بھی نکل گیا کہ جن افسروں پر کبھی رشک آتا تھا اب اُن کی مجبوریاں دیکھ کے اُن پہ ترس آتا۔ گورنمنٹ کالج سٹوڈنٹس یونین کا سیکرٹری منتخب ہو جانے کے باعث اِن افسروں کے افسروں سے بھی ملاقاتیں رہنے لگیں۔ ان میں گو رنر اور وزراء سے لے کر صدرِ مملکت تک شامل تھے۔ رفتہ رفتہ اِن ’اعلی حکام‘ کی چکا چوند بھی ماند پڑتی گئی۔ پتہ چلا کہ آپ اپنے ارد گرد تبدیلی لانے کے لیے عہدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن جب عہدہ مل جاتا ہے تو وہ اُلٹا آپ کو تبدیل کر دیتا ہے۔ اب تبدیلی کی خواہش دوسروں کا دردِ سر ہوتی ہے۔ آپ تو ہر چیز کو اُسی طرح قائم و دائم دیکھنا چاہتے ہیں جیسی وہ ہے کیونکہ عہدہ آپ کو اسی لیے ملا ہوتا ہے۔

میرا سیکرٹری کا انتخاب پاپا کے انتقال سے ڈھائی ہفتے قبل ہوا۔ مجھے انتخابی مہم میں مصروف دیکھ کے وہ بہت سیخ پا ہوتے۔ ایک بار تو باقاعدہ میری پٹائی کر دی اور حسن سے کہا کہ کل سے اس کے خلاف مہم چلاؤ۔ اُن کی دوسری تشویش یہ تھی میں وقت تو ضائع کر ہی رہا تھا، ’بے عزتی‘ بھی کرواؤں گا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ میں اپنی ’ہٹ دھرمی‘ سے باز آنے والا نہیں تو اُن کی خواہش یہ ہوتی کہ میں باعزت طریقے سے ہار جاؤں اور اِس طرح اپنی ’بھڑاس‘ نکال لینے کے بعد پڑھائی کی طرف متوجہ ہو جاؤں۔

۔ ۳ ۔

کالج میں پڑھانا اچھا تو بہت لگا لیکن کچھ خوش فہمیاں شروع ہی میں دُور ہو گئیں۔ فرصت واقعی ملتی لیکن اس کا کچھ حصہ تو ویسے ہی اِدھر اُدھر ضائع ہو جاتا اور کچھ اُن دفتروں کے چکروں میں صرف ہو جاتا جن سے بچنا چاہا تھا۔ اِن دفتروں میں حاضری سے صرف وہی لوگ مستثنیٰ ہوتے ہیں جو یہاں کام کرتے ہیں۔ میرے خیر خواہ مقابلے کا امتحان دینے لیے مجھ پر دباؤ ڈالتے رہے۔ ایک نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ’’اگر اِس بُت پرست معاشرے میں عزت کی زندگی گذارنی ہے تو امتحان پاس کر لے:

وہ ایک سجدہ جسے توُ گراں سمجھتا ہے

ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات‘‘

دوسرا انکشاف یہ ہوا کہ اگر آپ کو وقتِ مقررہ پر کسی خاص جگہ پہنچنا ہو، تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی، تو سمجھیں کہ وہ سارا دن ہی گیا۔ انسان مخلوق بھی ہے اور خالق بھی۔ بحیثیت مخلوق اِس کے لیے حدیں ضروری ہیں لیکن تخلیق کے لیے اِسے بھی ایک لامکاں چاہیے۔ شاہینِ تخیل کے شہپر کھُلتے ہی تب ہیں جب وہ چار سُو سے بے نیاز ہواور اس کی پرواز شام و سحر کی بھی پابند نہیں ہوتی۔

جبر و اختیار کی کشمکش ازل سے جاری ہے۔ کچھ کرنے کے لیے کچھ اور کرنا پڑتا ہے اور کچھ اور کرنے کے لیے کچھ اور۔ زندگی عموماَ کچھ اور کرنے میں گذر جاتی ہے، کچھ کرنے کی توفیق کم کم ہی ملتی ہے اور وہ بھی کسی کسی کو۔

۔۴۔

ستمبرئ1990 مجھے برطانیہ لے آیا۔ یہاں ’عالمی‘ مشاعروں میں شرکت کی۔ پاپا کی وجہ سے اور کچھ دوستوں کی بدولت بہت عزت ملی۔ معروف تھیٹروں میں ڈرامے دیکھے۔ پھر اللہ نے یہ سبب بھی بنایا کہ انہی تھیٹروں میں میرے ڈرامے سٹیج ہوئے۔ اور جب مجھے خیال آنے لگا کہ اب میں صرف ڈرامے لکھا کروں گا، شعر کبھی کبھار ہوا کریں گے، میری شاعری کا ایک نیا دور شروع ہوا جو اب شاید غزل تک محدود نہ رہے، اگرچہ غزل اپنی جگہ ایک لامحدود صنفِ سخن ہے۔

۔ ۵ ۔

دیباچے اِس لیے لکھے جاتے ہیں کہ وہ کتابیں شائع ہو رہی ہوتی ہیں جن کے وہ دیباچے ہونا ہوتے ہیں۔ یہ کتاب اِس لیے شائع کی جارہی ہے کہ اِس کے بغیر یہ دیباچہ شائع نہیں ہو سکتا تھا جو لکھا جا رہا ہے۔

عزیز قارئین! آپ سے جو باتیں کرنا تھیں وہ سب ہو گئیں۔ سنانے والے اشعار بھی میں سنا چکا۔ اب آ پ بے شک اِس کتاب کو یہیں بند کر دیں۔ کم از کم اتنا ضرور کریں کہ یہ جو غزلیں اگلے صفحے سے شروع ہو رہی ہیں اِن کا مطالعہ کسی اگلی نشست تک ملتوی کر دیں۔ پھر شاید آپ انہیں بھول ہی جائیں یا کوئی آپ سے یہ کتاب عاریتاَ لے جائے، یا اگر آپ خود یہ کسی سے مانگ کر لائے ہیں تو وہ اِسے واپس لینے آجائے (یعنی ممکن ہے وہ کوئی نومشق شاعر ہو کیونکہ عام طور سے کہنہ مشق شاعر دوسروں کی تو کیا اپنی شاعری بھی نہیں پڑھتے)۔ ایسی صورت میں آپ اُسے یہ نہ کہیں کہ آپ نے یہ کتاب پوری نہیں پڑھی اور اِسے مزید کچھ عرصہ اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔ اُس کی امانت اُسے فوراَ لوٹا دیں ۔۔۔ اور میری طرف سے یہ شعر سنا دیں:

اے میرؔ شعر کہنا کیا ہے کمالِ انساں

یہ بھی خیال سا کچھ خاطر میں آ گیا ہے

باصِر سلطان کاظمی

10مارچ 1997

باصر کاظمی

دیباچہ

ایک زمانہ ہوا جب غالب نے لکھا تھا کہ جو آنکھ قطرے میں دجلہ نہیں دیکھ سکتی دیدہ بینا نہیں بچوں کا کھیل ہے۔اگر غالب ہمارے ہم عصر ہوتے تو غالبا کوئی نہ کوئی ناقد ضرور پکار اٹھتا کہ غالب نے بچوں کے کھیل کی تو ہین کی ہے یا یہ کہ غالب ادب میں پروپگینڈا کے حامی معلوم ہوتے ہیں۔ شاعر کی آنکھ قطرے میں دجلہ دیکھنے کی تلقین کرنا صریح پروپگینڈا ہے۔اس کی آنکھ کو تو محض حسن سے غرض ہے اور حسن اگر قطرے میں دکھائی دے جائے تو وہ قطرہ دجلہ کا ہو یا گلی کی بدرو کا، شاعر کو اس سے کیا سروکار یہ دجلہ دیکھنا دکھانا حکیم فلسفی یا سیاستداں کا کام ہو گا شاعر کا کام نہیں ہے۔اگر ان حضرات کا کہنا صحیح ہوتا تو آبروئے شیوہ اہل ہنر، رہتی یا جاتی، اہل ہنر کا کام یقینا بہت سہل ہو جاتا، لیکن خوش قسمتی یا بد قسمتی سے فن سخن (یا کوئی اور فن)بچوں کا کھیل نہیں ہے۔اس کے لیے تو غالب کا دیدہ بینا بھی کافی نہیں۔اس لیے کافی نہیں کہ شاعر یا ادیب کو قطرے میں دجلہ دیکھنا ہی نہیں دکھانا ہی ہوتا ہے۔مزید برآں اگر غالب کے دجلہ سے زندگی اور موجودات کا نظام مراد لیا جائے تو ادیب خود بھی اسی دجلہ کا ایک قطرہ ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے ان گنت قطروں سے مل کر اس دریا کے رخ، اس کے بہاؤ، اس کی ہیت اور اس کی منزل کے تعین کی ذمہ داری بھی ادیب کے سر آن پڑتی ہے۔

یوں کہیے کہ شاعر کا کام محض مشاہدہ ہی نہیں، مجاہدہ بھی اس پر فرض ہے۔گردو پیش کے مضطرب قطروں میں دجلہ کا مشاہدہ اس کی بینائی پر ہے، اسے دوسروں کو دکھانا اس کی فنی دسترس پر، اس کے بہاؤ میں دخل انداز ہونا اس کے شوق کی صلابت اور لہو کی حرارت پر۔اور یہ تینوں کام مسلسل کاوش اور جد و جہد چاہتے ہیں۔

نظام زندگی کسی حوض کا ٹھہرا ہوا سنگ بستہ مقید پانی نہیں ہے، جسے تماشائی کی ایک غلط انداز نگاہ احاطہ کرسکے۔ دور دراز، اوجھل دشوار گزار پہاڑیوں میں برفیں پگھلتی ہیں، چشمے ابلتے ہیں، ندی نالے پتھروں کو چیر کر، چٹانوں کو کاٹ کر آپس میں ہمکنار ہوتے ہیں اور پھر یہ پانی کتنا بڑھتا، گھاٹیوں، وادیوں، جنگلوں اور میدانوں میں سمٹتا اور پھیلتا چلا جاتا ہے۔جس دیدہ بینا نے انسانی تاریخ میں زندگی کے یہ نقوش و مراحل نہیں دیکھے اس نے دجلہ کا کیا دیکھا ہے۔پھر شاعر کی نگاہ ان گزشتہ اور حالیہ مقامات تک پہنچ بھی گئی لیکن ان کی منظر کشی میں نطق و لب نے یاوری نہ کی یا اگلی منزل تک پہنچنے کے لیے جسم و جاں جہد وطلب پہ راضی نہ ہوئے تو بھی شاعر اپنے فن سے پوری طرح سرخرو نہیں ہے۔

غالبا اس طویل و عریض استعارے کو روز مرہ الفاظ میں بیان کرنا غیر ضروری ہے۔مجھے کہنا صرف یہ تھا کہ حیات انسانی کی اجتماعی جد و جہد کا ادراک، اور اس جدو جہد میں حسب توفیق شرکت، زندگی کا تقاضا ہی نہیں فن کا بھی تقاضا ہے۔

فن اسی زندگی کا ایک جزو اور فنی جدو جہد اسی جد و جہد کا ایک پہلو ہے۔یہ تقاضا ہمیشہ قائم رہتا ہے اس لیے طالب فن کے مجاہدے کا کوئی نروان نہیں، اس کا فن ایک دائمی کوشش ہے اور مستقل کاوش۔اس کوشش میں کامرانی یا ناکامی تو اپنی اپنی توفیق اور استطاعت پر ہے لیکن کوشش میں مصروف رہنا بہر طور ممکن بھی ہے اور لازم بھی۔یہ چند صفحات بھی اسی نوع کی ایک کوشش ہیں۔ممکن ہے کہ فن کی عظیم ذمہ داریوں سے عہد بر آہونے کی کوشش کے مظاہرے میں بھی نمائش یا تعلی اور خود پسندی کا ایک پہلو نکلتا ہو لیکن کوشش کیسی بھی حقیر کیوں نہ ہو زندگی سے یا فن سے فرار اور شرمساری پر فائق ہے۔

اس مجموعے کی ابتدائی تین نظمیں نقش فریادی کی آخری اشاعت میں شامل ہیں۔یہ تکرار اس لیے کی گئی ہے کہ اسلوب اور خیال کے اعتبار سے یہ نظمیں نقش فریادی کی نسبت اس مجموعہ سے زیادہ ہم آہنگ ہیں۔

فیض احمد فیض

سنٹرل جیل، حیدرآباد(سندھ)

فیض احمد فیض

دیباچہ

ایک زمانہ ہوا جب غالب نے لکھا تھا کہ جو آنکھ قطرے میں دجلہ نہیں دیکھ سکتی دیدہ بینا نہیں بچوں کا کھیل ہے۔اگر غالب ہمارے ہم عصر ہوتے تو غالبا کوئی نہ کوئی ناقد ضرور پکار اٹھتا کہ غالب نے بچوں کے کھیل کی تو ہین کی ہے یا یہ کہ غالب ادب میں پروپگینڈا کے حامی معلوم ہوتے ہیں۔ شاعر کی آنکھ قطرے میں دجلہ دیکھنے کی تلقین کرنا صریح پروپگینڈا ہے۔اس کی آنکھ کو تو محض حسن سے غرض ہے اور حسن اگر قطرے میں دکھائی دے جائے تو وہ قطرہ دجلہ کا ہو یا گلی کی بدرو کا، شاعر کو اس سے کیا سروکار یہ دجلہ دیکھنا دکھانا حکیم فلسفی یا سیاستداں کا کام ہو گا شاعر کا کام نہیں ہے۔اگر ان حضرات کا کہنا صحیح ہوتا تو آبروئے شیوہ اہل ہنر، رہتی یا جاتی، اہل ہنر کا کام یقینا بہت سہل ہو جاتا، لیکن خوش قسمتی یا بد قسمتی سے فن سخن (یا کوئی اور فن)بچوں کا کھیل نہیں ہے۔اس کے لیے تو غالب کا دیدہ بینا بھی کافی نہیں۔اس لیے کافی نہیں کہ شاعر یا ادیب کو قطرے میں دجلہ دیکھنا ہی نہیں دکھانا ہی ہوتا ہے۔مزید برآں اگر غالب کے دجلہ سے زندگی اور موجودات کا نظام مراد لیا جائے تو ادیب خود بھی اسی دجلہ کا ایک قطرہ ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے ان گنت قطروں سے مل کر اس دریا کے رخ، اس کے بہاؤ، اس کی ہیت اور اس کی منزل کے تعین کی ذمہ داری بھی ادیب کے سر آن پڑتی ہے۔

یوں کہیے کہ شاعر کا کام محض مشاہدہ ہی نہیں، مجاہدہ بھی اس پر فرض ہے۔گردو پیش کے مضطرب قطروں میں دجلہ کا مشاہدہ اس کی بینائی پر ہے، اسے دوسروں کو دکھانا اس کی فنی دسترس پر، اس کے بہاؤ میں دخل انداز ہونا اس کے شوق کی صلابت اور لہو کی حرارت پر۔اور یہ تینوں کام مسلسل کاوش اور جد و جہد چاہتے ہیں۔

نظام زندگی کسی حوض کا ٹھہرا ہوا سنگ بستہ مقید پانی نہیں ہے، جسے تماشائی کی ایک غلط انداز نگاہ احاطہ کرسکے۔ دور دراز، اوجھل دشوار گزار پہاڑیوں میں برفیں پگھلتی ہیں، چشمے ابلتے ہیں، ندی نالے پتھروں کو چیر کر، چٹانوں کو کاٹ کر آپس میں ہمکنار ہوتے ہیں اور پھر یہ پانی کتنا بڑھتا، گھاٹیوں، وادیوں، جنگلوں اور میدانوں میں سمٹتا اور پھیلتا چلا جاتا ہے۔جس دیدہ بینا نے انسانی تاریخ میں زندگی کے یہ نقوش و مراحل نہیں دیکھے اس نے دجلہ کا کیا دیکھا ہے۔پھر شاعر کی نگاہ ان گزشتہ اور حالیہ مقامات تک پہنچ بھی گئی لیکن ان کی منظر کشی میں نطق و لب نے یاوری نہ کی یا اگلی منزل تک پہنچنے کے لیے جسم و جاں جہد وطلب پہ راضی نہ ہوئے تو بھی شاعر اپنے فن سے پوری طرح سرخرو نہیں ہے۔

غالبا اس طویل و عریض استعارے کو روز مرہ الفاظ میں بیان کرنا غیر ضروری ہے۔مجھے کہنا صرف یہ تھا کہ حیات انسانی کی اجتماعی جد و جہد کا ادراک، اور اس جدو جہد میں حسب توفیق شرکت، زندگی کا تقاضا ہی نہیں فن کا بھی تقاضا ہے۔

فن اسی زندگی کا ایک جزو اور فنی جدو جہد اسی جد و جہد کا ایک پہلو ہے۔یہ تقاضا ہمیشہ قائم رہتا ہے اس لیے طالب فن کے مجاہدے کا کوئی نروان نہیں، اس کا فن ایک دائمی کوشش ہے اور مستقل کاوش۔اس کوشش میں کامرانی یا ناکامی تو اپنی اپنی توفیق اور استطاعت پر ہے لیکن کوشش میں مصروف رہنا بہر طور ممکن بھی ہے اور لازم بھی۔یہ چند صفحات بھی اسی نوع کی ایک کوشش ہیں۔ممکن ہے کہ فن کی عظیم ذمہ داریوں سے عہد بر آہونے کی کوشش کے مظاہرے میں بھی نمائش یا تعلی اور خود پسندی کا ایک پہلو نکلتا ہو لیکن کوشش کیسی بھی حقیر کیوں نہ ہو زندگی سے یا فن سے فرار اور شرمساری پر فائق ہے۔

اس مجموعے کی ابتدائی تین نظمیں نقش فریادی کی آخری اشاعت میں شامل ہیں۔یہ تکرار اس لیے کی گئی ہے کہ اسلوب اور خیال کے اعتبار سے یہ نظمیں نقش فریادی کی نسبت اس مجموعہ سے زیادہ ہم آہنگ ہیں۔

فیض احمد فیض

سنٹرل جیل، حیدرآباد(سندھ)

فیض احمد فیض