ٹیگ کے محفوظات: دیا

گھر کا ہر فرد چل دیا باہر

ایک دروازہ کیا کھُلا باہر
گھر کا ہر فرد چل دیا باہر
دیکھ یخ بستہ ہے ہوا باہر
اِس طرح ایک دم نہ جا باہر
چل دیے یوں صنم کدے سے ہم
جیسے مل جائے گا خدا باہر
ایک تجھ سے رہے ہمیشہ دور
ورنہ کیا کچھ نہیں ملا باہر
گھر میں آ کر سکوں ملا باصِرؔ
کس قدر تیز تھی ہوا باہر
باصر کاظمی

کچھ یاد رہا نہیں رہا کچھ

اچھا کہ برا نہیں رہا کچھ
کچھ یاد رہا نہیں رہا کچھ
ہر چند بتا نہیں رہا کچھ
میں تجھ سے چھُپا نہیں رہا کچھ
اک ننھی سی لَو سے سب کچھ تھا
بُجھتے ہی دیا نہیں رہا کچھ
اب کس کو چمن میں ڈھونڈتی ہے
اے بادِ صبا نہیں رہا کچھ
اب ہم بھی بدل گئے ہیں باصرِؔ
اب اُن سے گِلہ نہیں رہا کچھ
باصر کاظمی

ایک ناسور بن چکا ہوتا

غم اگر دل میں رہ گیا ہوتا
ایک ناسور بن چکا ہوتا
مجھ کو جلنا ہی تھا تو پھر اے دوست
میں تری رات کا دیا ہوتا
خاک میں کچھ کشش تو تھی ورنہ
پھول کیوں شاخ سے جدا ہوتا
تیرے محنت کشوں کی دنیا میں
غم نہ ہوتا تو اور کیا ہوتا
یاد بھی دل سے مٹ گئی اُس کی
نقشِ پا کچھ تو دیرپا ہوتا
آپ ہی کچھ خفا سے رہتے ہیں
کوئی کیوں آپ سے خفا ہوتا
خواہشیں ہر گھڑی یہ کہتی ہیں
کام کچھ کام کا کیا ہوتا
باصر کاظمی

میں کِشتِ تاریخ میں پھر سے پُھوٹ چلا ہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 67
باپ تھا بیٹے کا اب پوتے کا دادا ہُوں
میں کِشتِ تاریخ میں پھر سے پُھوٹ چلا ہوں
اپنی نسل کے بڑھنے کا بھی سرور عجب ہے
میں جو ایک تھا اپنے آپ میں سَو لگتا ہوں
میرے انگناں اُتری ہے پھر صبحِ درخشاں
جس کی کرنوں سے میں اور دمک اُٹھا ہوں
میری جبیں اب اور منوّر ہونے لگی ہے
میں کہ شبانِ پیہم کا اِک جلتا دِیا ہوں
میرے جَنے ہوں گے کچھ اور لطافت پیشہ
میں جو گُلوں بگھیوں پر تتلی سا اُڑتا ہوں
اُس کی حیات میں، اُس کے فروغ میں، میری بقا ہے
اُس کے جنم کے ناتے میں ذی شان ہُوا ہوں
ماجِد فیض مرے ملکِ آزاد کا ہے یہ
ملک سے باہر بھی اب میں جیتا بستا ہوں
ماجد صدیقی

سلجھا نہیں جو بخت کا دھاگا ملا مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
ماتھے کی سلوٹوں سے ہے اتنا گلا مجھے
سلجھا نہیں جو بخت کا دھاگا ملا مجھے
چھابہ بغل میں اور ہے خوانچہ، کنارِ دوش
عمرِ اخیر! اور یہ کیا دے دیا مجھے
اے خاک! آرزو میں نگلنے کی تن مرا
کیسا یہ بارِ خارکشی دے دیا مجھے
ایسا ہی تیرا سبزۂ نورس پہ ہے کرم
کیا بوجھ پتھروں سا دیا اے خدا ! مجھے
کج ہو چلی زبان بھی مجھ کُوز پشت کی
کیا کیا ابھی نہیں ہے لگانی صدا مجھے
اک اک مکاں اٹھا ہے مرے سر کے راستے
کیسا یہ کارِ سخت دیا مزد کا، مجھے
بچپن میں تھا جو ہمدمِ خلوت، ملا کِیا
مکڑا قدم قدم پہ وُہی گھورتا مجھے
میں تھک گیا ہوں شامِ مسافت ہوا سے پوچھ
منزل کا آ کے دے گی بھلا کب پتا مجھے
محتاج ابر و باد ہوں پودا ہوں دشت کا
لگتی نہیں کسی بھی رہٹ کی دعا مجھے
لاتی ہے فکرِ روزیِ یک روز، ہر سحر
آہن یہ کس طرح کا پڑا کوٹنا مجھے
بارِ گراں حیات کا قسطوں میں بٹ کے بھی
ہر روز ہر قدم پہ جھُکاتا رہا مجھے
اتنا سا تھا قصور کہ بے خانماں تھا میں
کسبِ معاش میں بھی ملی ہے خلا مجھے
حکمِ شکم ہے شہر میں پھیری لگے ضرور
سُوجھے نہ چاہے آنکھ سے کچھ راستا مجھے
میں بار کش ہوں مجھ پہ عیاں ہے مرا مقام
اِحساسِ افتخار دلاتا ہے کیا مجھے
میری بھی ایک فصل ہے اُٹھ کر جو شب بہ شب
دیتی ہے صبح گاہ نیا حوصلہ مجھے
کہتا ہے ہجرتوں پہ گئے شخص کو مکاں
آ اے حریصِ رزق ! کبھی مل ذرا مجھے
ماجد صدیقی

خاموش رہا جائے، کُچھ بھی نہ کہا جائے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 2
ہوتا ہے جو ہو گزرے، دَم سادھ لیا جائے
خاموش رہا جائے، کُچھ بھی نہ کہا جائے
اظہارِ غم جاں کو، قرطاس ہو یہ چہرہ
ہو حرف رقم جو بھی، اشکوں سے لکھا جائے
ہونے کو ستم جو بھی ہو جائے، پہ عدل اُس کا
آئے گا جو وقت اُس پر، بس چھوڑ دیا جائے
خدشہ ہے نہ کٹ جائے، شعلے کی زباں تک بھی
ہر رنج پہ رسی سا، چپ چاپ جلا جائے
بالجبر ملے رُتبہ جس بات کو بھی، حق کا
ماجدؔ نہ سخن ایسا، کوئی بھی سُنا جائے
ماجد صدیقی

مگر یکساں رہے کب تک، زمانے کی ہوا جاناں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 69
تمہارے ٹھاٹھ بھی، اپنی جگہ سارے، بجا جاناں
مگر یکساں رہے کب تک، زمانے کی ہوا جاناں
ہماری آن جائے، ربطِ باہم میں کہ جاں جائے
نہیں ہٹ کر اب اس سے، کوئی رستہ دوسرا جاناں
جہاں بھی تم نے دیکھا والہانہ، ہم یہی سمجھے
کماں سے تیر نکلا، اور نشیمن کو چلا جاناں
اَب اُس تنکے کو بھی، مُٹھی میں دریا نے کیا اپنی
ازل سے ڈوبنے والوں کا تھا جو، آسرا جاناں
مہک کا اور صبا کا تھا ملن، گاہے ملاپ اپنا
دلانے یاد آتی ہے ہمیں، کیا کچھ صبا جاناں
اُسی کی بُھربُھری بنیاد سے چمٹا ہے اب تک یہ
وُہی جو قول ماجدؔ کو، کبھی تم نے دیا جاناں
ماجد صدیقی

محرم بھی ہو تو پھر نہ اُسے آشنا کہو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 68
جس شخص سے بھی دل کا کوئی مدّعا کہو
محرم بھی ہو تو پھر نہ اُسے آشنا کہو
مجذوب ہے طبیب ہی جب تو پئے شفا
گالی گلوچ کو بھی نہ کم از دوا کہو
کونپل ہے لفظ لفظ تمہارا سرِ شجر
جس اوج پر ہو جو بھی کہو تم بجا کہو
گٹھڑی میں خارکش کی جو اُترن ہے پیڑ کی
ہاں ہاں کہو اُسے بھی خُدا کا دیا کہو
گاؤں کے لوگ شہر میں کیوں منتقل ہوئے
حرص و ہوا نہیں اِسے فکرِ بقا کہو
ہم تُم ہیں اُس نگر میں جہاں پر بہ ظرفِ تنگ
ہر شخص چاہتا ہے اُسے تم خُدا کہو
ماجدؔ ہے فرق جو تہ و بالا میں وہ تو ہے
تسکیں کو شاہ کو بھی بھلے تم گدا کہو
ماجد صدیقی

خُدا بھی دُور ہی سے دیکھتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 93
زمیں پر کون کیسے جی رہا ہے
خُدا بھی دُور ہی سے دیکھتا ہے
انگوٹھہ منہ سے نکلا ہے تو بچّہ
نجانے چیخنے کیوں لگ پڑا ہے
کسی کو پھر نگل بیٹھا ہے شاید
سمندر جھاگ سی دینے لگا ہے
گماں یہ ہے کہ بسمل کے بدن میں
کسی گھاؤ کا مُنہ پھر کُھل گیا ہے
ہوئی ہر فاختہ ہم سے گریزاں
نشاں جب سے عقاب اپنا ہوا ہے
وُہ دیکھو جبر کی شدّت جتانے
کوئی مجبور زندہ جل اٹھا ہے
بڑی مُدّت میں آ کر محتسب بھی
فقیہہِ شہر کے ہتّھے چڑھا ہے
لگے جیسے خطا ہر شخص اپنی
مِرے ہی نام لکھتا جا رہا ہے
بھُلا کر دشت کی غُّراہٹیں سب
ہرن پھر گھاٹ کی جانب چلا ہے
چلیں تو سیدھ میں بس ناک کی ہم
اِسی میں آپ کا، میرا بھلا ہے
دیانت کی ہمیں بھی تاب دے وُہ
شجر جس تاب سے پھُولا پھَلا ہے
بہلنے کو، یہ وُہ بستی ہے جس میں
بڑوں کے ہاتھ میں بھی جھنجھنا ہے
ملانے خاک میں، میری توقّع
کسی نے ہاتھ ٹھوڑی پر دھرا ہے
نہیں ہے سیج، دن بھی اُس کی خاطر
جو پہرہ دار شب بھر جاگتا ہے
کھِلے تو شاذ ہی مانندِ نرگس
لبوں پر جو بھی حرفِ مُدعّا ہے
نجانے ذکر چل نکلا ہے کس کا
قلم کاغذ تلک کو چُومتا ہے
اَب اُس سے قرب ہے اپنا کُچھ ایسا
بتاشا جیسے پانی میں گھُلا ہے
ہوئی ہے اُس سے وُہ لمس آشنائی
اُسے میں اور مجھے وُہ دیکھتا ہے
وُہ چاند اُترا ہوا ہے پانیوں میں
تعلّق اُس سے اپنا برملا ہے
نِکھر جاتی ہے جس سے رُوح تک بھی
تبسّم میں اُسی کے وُہ جِلا ہے
مَیں اُس سے لُطف کی حد پوچھتا ہوں
یہی کچُھ مجُھ سے وُہ بھی پُوچتھا ہے
بندھے ہوں پھُول رومالوں میں جیسے
مری ہر سانس میں وُہ یُوں رچا ہے
لگے ہے بدگماں مجھ سے خُدا بھی
وُہ بُت جس روز سے مجھ سے خفا ہے
جُدا ہو کر بھی ہوں اُس کے اثر میں
یہی تو قُرب کا اُس کے نشہ ہے
کہیں تارا بھی ٹوٹے تو نجانے
ہمارا خُون ہی کیوں کھولتا ہے
ہمارے رزق کا اِک ایک دانہ
تہِ سنگِ گراں جیسے دبا ہے
مِری چاروں طرف فریاد کرتی
مِری دھرتی کی بے دم مامتا ہے
رذالت بھی وراثت ہے اُسی کی
ہر اِک بچّہ کہاں یہ جانتا ہے
چھپا جو زہر تھا ذہنوں میں، اَب وُہ
جہاں دیکھو فضاؤں میں گھُلا ہے
اجارہ دار ہے ہر مرتبت کا
وُہی جو صاحبِ مکر و رِیا ہے
سِدھانے ہی سے پہنچا ہے یہاں تک
جو بندر ڈگڈگی پر ناچتا ہے
سحر ہونے کو شب جس کی، نہ آئے
اُفق سے تا اُفق وُہ جھٹپٹا ہے
نظر والوں پہ کیا کیا بھید کھولے
وُہ پتّا جو شجر پر ڈولتا ہے
وہاں کیا درسِ بیداری کوئی دے
جہاں ہر ذہن ہی میں بھُس بھرا ہے
ہوئی ہے دم بخود یُوں خلق جیسے
کوئی لاٹو زمیں پر سو گیا ہے
جہاں جانیں ہیں کچھ اِک گھونسلے میں
وہیں اِک ناگ بھی پھُنکارتا ہے
شجر پر شام کے، چڑیوں کا میلہ
صدا کی مشعلیں سُلگا رہا ہے
کوئی پہنچا نہ اَب تک پاٹنے کو
دلوں کے درمیاں جو فاصلہ ہے
نجانے رشک میں کس گلبدن کے
چمن سر تا بہ سر دہکا ہوا ہے
بہ نوکِ خار تُلتا ہے جو ہر دم
ہمارا فن وُہ قطرہ اوس کا ہے
یہی عنواں، یہی متنِ سفر ہے
بدن جو سنگِ خارا سے چِھلا ہے
نہیں پنیچوں کو جو راس آسکا وُہ
بُرا ہے، شہر بھر میں وُہ بُرا ہے
پنہ سُورج کی حّدت سے دلانے
دہانہ غار کا ہر دَم کھُلا ہے
جو زور آور ہے جنگل بھی اُسی کی
صدا سے گونجتا چنگھاڑتا ہے
نجانے ضَو زمیں کو بخش دے کیا
ستارہ سا جو پلکوں سے ڈھلا ہے
نہیں ہے کچھ نہاں تجھ سے خدایا!
سلوک ہم سے جو دُنیا نے کیا ہے
نجانے یہ ہُنر کیا ہے کہ مکڑا
جنم لیتے ہی دھاگے تانتا ہے
نہیں ہے شرطِ قحطِ آب ہی کچھ
بھنور خود عرصۂ کرب و بلا ہے
عدالت کو وُہی دامانِ قاتل
نہ دکھلاؤ کہ جو تازہ دُھلا ہے
گرانی درد کی سہنے کا حامل
وُہی اَب رہ گیا جو منچلا ہے
بہ عہدِ نو ہُوا سارا ہی کاذب
بزرگوں نے ہمیں جو کچھ کہا ہے
سُنو اُس کی سرِ دربار ہے جو
اُسی کا جو بھی فرماں ہے، بجا ہے
ہُوا ہے خودغرض یُوں جیسے انساں
ابھی اِس خاک پر آ کر بسا ہے
بتاؤ خلق کو ہر عیب اُس کا
یہی مقتول کا اَب خُوں بہا ہے
ہُوا ہے جو، ہُوا کیوں صید اُس کا
گرسنہ شیر کب یہ سوچتا ہے
بہم جذبات سوتیلے ہوں جس کو
کہے کس مُنہ سے وُہ کیسے پلا ہے
ملیں اجداد سے رسمیں ہی ایسی
شکنجہ ہر طرف جیسے کَسا ہے
جو خود کج رَو ہے کب یہ فرق رکھّے
روا کیا کچھ ہے اور کیا ناروا ہے
ذرا سی ضو میں جانے کون نکلے
اندھیرے میں جو خنجر گھونپتا ہے
سحر ہو، دوپہر ہو، شام ہو وُہ
کوئی بھی وقت ہو ہم پر کڑا ہے
جِسے کہتے ہیں ماجدؔ زندگانی
نجانے کس جنم کی یہ سزا ہے
کسی کا ہاتھ خنجر ہے تو کیا ہے
مرے بس میں تو بس دستِ دُعا ہے
جھڑا ہے شاخ سے پتّا ابھی جو
یہی کیا پیڑ کا دستِ دُعا ہے
اَب اُس چھت میں بھی، ہے جائے اماں جو
بہ ہر جا بال سا اک آ چلا ہے
وُہ خود ہر آن ہے نالوں کی زد میں
شجر کو جس زمیں کا آسرا ہے
نظر کیا ہم پہ کی تُو نے کرم کی
جِسے دیکھا وُہی ہم سے خفا ہے
بڑوں تک کو بنا دیتی ہے بونا
دلوں میں جو حسد جیسی وبا ہے
جو موزوں ہے شکاری کی طلب کو
اُسی جانب ہرن بھی دوڑتا ہے
گھِرے گا جور میں جب بھی تو ملزم
کہے گا جو، وُہی اُس کی رضا ہے
تلاشِ رزق میں نِکلا پرندہ
بہ نوکِ تیر دیکھو جا سجا ہے
کہے کیا حال کوئی اُس نگر کا
جہاں کُتّا ہی پابندِ وفا ہے
وُہ پھل کیا ہے بہ وصفِ سیر طبعی
جِسے دیکھے سے جی للچا رہا ہے
بظاہر بند ہیں سب در لبوں کے
دلوں میں حشر سا لیکن بپا ہے
جہاں رہتا ہے جلوہ عام اُس کا
بہ دشتِ دل بھی وُہ غارِ حرا ہے
نمائش کی جراحت سے نہ جائے
موادِ بد جو نس نس میں بھرا ہے
نہ پُوچھے گا، بکاؤ مغویہ سا
ہمیں کس کس ریا کا سامنا ہے
نجانے نیم شب کیا لینے، دینے
درِ ہمسایہ پیہم باجتا ہے
مہِ نو سا کنارِ بام رُک کر
وُہ رُخ آنکھوں سے اوجھل ہو گیا ہے
کرا کے ماں کو حج دُولہا عرب سے
ویزا کیوں ساس ہی کا بھیجتا ہے
لگے تازہ ہر اک ناظر کو کیا کیا
یہ چہرہ آنسوؤں سے جو دھُلا ہے
ہُوا جو حق سرا، اہلِ حشم نے
اُسی کا مُنہ جواہر سے بھرا ہے
بہن اَب بھی اُسے پہلا سا جانے
وُہ بھائی جو بیاہا جا چکا ہے
مسیحاؤں سے بھی شاید ہی جائے
چمن کو روگ اَب کے جو لگا ہے
ہمیں لگتا ہے کیوں نجمِ سحر سا
وُہ آنسو جو بہ چشمِ شب رُکا ہے
پھلوں نے پیڑ پر کرنا ہے سایہ
نجانے کس نے یہ قصّہ گھڑا ہے
اُترتے دیکھتا ہوں گُل بہ گُل وُہ
سخن جس میں خُدا خود بولتا ہے
بشارت ہے یہ فرعونوں تلک کو
درِ توبہ ہر اک لحظہ کھُلا ہے
نہیں مسجد میں کوئی اور ایسا
سرِ منبر ہے جو، اِک باصفا ہے
خُدا انسان کو بھی مان لوں مَیں
یہی شاید تقاضا وقت کا ہے
دیانت سے تقاضے وقت کے جو
نبھالے، وُہ یقینا دیوتا ہے
مداوا کیا ہمارے پیش و پس کا
جہاں ہر شخص دلدل میں پھنسا ہے
لگا وُہ گھُن یہاں بدنیّتی کا
جِسے اندر سے دیکھو کھوکھلا ہے
عناں مرکب کی جس کے ہاتھ میں ہے
وُہ جو کچھ بھی اُسے کہہ دے روا ہے
کشائش کو تو گرہیں اور بھی ہیں
نظر میں کیوں وُہی بندِ قبا ہے
بغیر دوستاں، سچ پُوچھئے تو
مزہ ہر بات ہی کا کرکرا ہے
بنا کر سیڑھیاں ہم جنس خُوں کی
وُہ دیکھو چاند پر انساں چلا ہے
پڑے چودہ طبق اُس کو اُٹھانے
قدم جس کا ذرا پیچھے پڑا ہے
مری کوتاہ دستی دیکھ کر وُہ
سمجھتا ہے وُہی جیسے خُدا ہے
تلاشِ رزق ہی میں چیونٹیوں سا
جِسے بھی دیکھئے ہر دم جُتا ہے
وُہی جانے کہ ہے حفظِ خودی کیا
علاقے میں جو دشمن کے گھِرا ہے
صبا منت کشِ تغئیرِ موسم
کلی کھِلنے کو مرہونِ صبا ہے
بصارت بھی نہ دی جس کو خُدا نے
اُسے روشن بدن کیوں دے دیا ہے
فنا کے بعد اور پہلے جنم سے
جدھر دیکھو بس اِک جیسی خلا ہے
ثمر شاخوں سے نُچ کر بے بسی میں
کن انگاروں پہ دیکھو جا پڑا ہے
یہاں جس کا بھی پس منظر نہیں کچھ
اُسے جینے کا حق کس نے دیا ہے
کوئی محتاج ہے اپنی نمو کا
کوئی تشنہ اُسی کے خُون کا ہے
وطن سے دُور ہیں گو مرد گھر کے
بحمداﷲ گھر تو بن گیا ہے
ٹلے خوں تک نہ اپنا بیچنے سے
کہو ماجدؔ یہ انساں کیا بلا ہے
ماجد صدیقی

اُس پر کیا لکھا جانا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 160
کورا کاغذ سوچ رہا ہے
اُس پر کیا لکھا جانا ہے
نرخ نہیں گو ایک سے لیکن
ہر انسان یہاں بِکتا ہے
کون ہے گالی سُن کر جس کے
ہونٹوں سے امرت ٹپکا ہے
دشتِ طلب میں بِن کُتّوں کے
کس کے ہاتھ شکار لگا ہے
اپنی چال سلامت رکھنے
شیر ہرن پر ٹوٹ پڑا ہے
کُود کے جلتی آگ میں دیکھو
پروانہ گلزار بنا ہے
ٹھیک ہے گر بیٹا یہ سوچے
اُس نے باپ سے کیا پایا ہے
پکڑا جانے والا ہی کیوں
تنہا دم مجرم ٹھہرا ہے
جس نے بھی جاں بچتی دیکھی
تنکوں تک پر وہ اٹکا ہے
مجرم نے پچھلی پیشی پر
جو بھی کہا اُس سے مُکرا ہے
خالق اپنی خلق سے کھنچ کر
عرش پہ جانے کیا کرتا ہے
بہلانے مجھ بچّے کو وہ
جنت کا لالچ دیتا ہے
پیڑ زبانوں کو لٹکائے
دشت سے جانے کیا کہتا ہے
دیواروں سے ڈرتا ہو گا
کہنے والا کیوں ٹھٹکا ہے
موجِ الم نے کھول کے بازو
مجھ کو جیسے بھنچ لیا ہے
اُتنا ہی قد کاٹھ ہے اُس کا
جتنا جس کو ظرف ملا ہے
کس کو اَب لوٹانے جائیں
گردن میں جو طوق پڑا ہے
ٹہنی عاق کرے خود اُس کو
پھول وگرنہ کب جھڑتا ہے
جینے والا جانے کیونکر
موت کے در پر آن کھڑا ہے
صحرا کی بے درد ہوا نے
بادل کو کب رُکنے دیا ہے
دیکھوں اور بس دیکھو اُس کو
جانے اُس تصویر میں کیا ہے
کہنے کی باتیں ہیں ساری
زخمِ رگِ جاں کب بھرتا ہے
رُت کی خرمستی یہ جانے
پودا کیسے پیڑ بنا ہے
برق اور رعد کے لطف و کرم سے
گلشن کو کب فیض ملا ہے
لوٹایا اِک ڈنک میں سارا
سانپ نے جتنا دُودھ پیا ہے
ربط نہیں اُس سے اتنا بھی
شہر میں جتنا کچھ چرچا ہے
بند کلی چُپ رہنا اُس کا
لب کھولے تو پھولوں سا ہے
برگ و ثمر آنے سے پہلے
شاخ نے کیا کیا جبر سہا ہے
گُل برساتا ہے اوروں پر
وُہ جو زخم مجھے دیتا ہے
کوہِ قاف سے اِس جانب وہ
ڈھونڈوں بھی تو کب ملتا ہے
اُس کی دو رنگی مت پُوچھو
کالر پر جو پھول سجا ہے
رسّی کی شِشکار ہے پیچھے
کھیت کنارے جال بِچھا ہے
ڈس لیتا ہے سانپ جسے بھی
رَسّی تک سے وہ ڈرتا ہے
قبرپہ جل مرنے والے کی
ایک دیا اب تک جلتا ہے
بانس انار سے آنکھ ملائے
اپنی قامت ناپ رہا ہے
موسیٰ ہر فرعون کی خاطر
مشکل سے نت نت آتا ہے
سارے ہونٹ سلے ہیں پھر بھی
گلیوں میں اک حشر بپا ہے
دھڑکن دھرکن ساز جدا ہیں
کس نے کس کا دُکھ بانٹا ہے
کرنا آئے مکر جسے بھی
زر کے ساتھ وُہی تُلتا ہے
خون میں زہر نہیں اُترا تو
آنکھوں سے پھر کیا رِستا ہے
ہم اُس سے منہ موڑ نہ پائے
پیار سے جس نے بھی دیکھا ہے
کون ہے وہ جو محرومی کی
تہمت اپنے سر لیتا ہے
کھُلتی ہے ہر آنکھ اُسی پر
غنچہ جب سے پھول بنا ہے
انساں اپنا زور جتانے
چاند تلک پر جا نکلا ہے
دل نے پھر گُل کھِل اُٹھنے پر
نام کسی کا دہرایا ہے
وقت صفائی مانگ کے ہم سے
کاہے کو مُنہ کھُلواتا ہے
ہم شبنم کے قطروں پرہی
سورج داتا کیوں جھپٹا ہے
فصلِ سکوں پر بُغض یہ کس کا
مکڑی بن کر آ ٹوٹا ہے
دل تتلی کا پیچھا کرتے
کن کانٹوں میں جا اُلجھا ہے
زخم اگر بھر جائے بھی تو
نقش کہاں اُس کا مٹتا ہے
انجانوں سا مجھ سے وُہ پوچھے
اُس سے مرا دل مانگتا کیاہے
پھول جھڑیں یا پتے سُوکھیں
موسم نے یہ کب دیکھا ہے
اَب تو دل کی بات اٹھاتے
لفظ بھی چھلنی سے چھنتاہے
تجھ بن جو منظر بھی دیکھیں
آنکھ میں کانٹوں سا چُبھتا ہے
کانوں کے دَر کھُل جائیں تو
پتھر تک گویا لگتا ہے
آنکھوں کی اِس جھیل میں جانے
کون کنول سا لہراتا ہے
دور فلک پر کاہکشاں کا
رنگ ترے سپنوں جیسا ہے
گلشن والے کب جانیں یہ
پنجرے میں دن کب ڈھلتا ہے
صبح اُسی کے صحن میں اُتری
جس کا دامن چاک ملا ہے
جانے کس خرمن پر پہنچے
تابہ اُفق جو کھیت ہرا ہے
مَیں وہ غار تمّنا کا ہوں
سورج جس سے رُوٹھ گیا ہے
جانے کیا کیا زہر نہ پی کر
انساں نے جینا سیکھا ہے
بحر پہ پُورے چاند کے ہوتے
پانی کیوں ٹھہرا ٹھہرا ہے
وہ کب سایہ سینت کے رکھے
رستے میں جو پیڑ اُگا ہے
اُس کا حسن برابر ہو تو
حرف زباں پر کب آتا ہے
دیکھنے پر اُس آئنہ رُو کے
پھولوں کا بھی رنگ اُڑا ہے
پھل اُترا جس ٹہنی پر بھی
پتھر اُس پر آن پڑا ہے
کب اوراق پُرانے پلٹے
وُہ کہ مجھے جو بھول چکا ہے
اپنی اپنی قبر ہے سب کی
کون کسی کے ساتھ چلا ہے
اَب تو اُس تک جانے والا
گستاخی کا ہی رستہ ہے
اُونٹ چلے ڈھلوان پہ جیسے
ایسا ہی کچھ حال اپنا ہے
لُٹ کے کہے یہ شہد کی مکھی
محنت میں بھی کیا رکھا ہے
کس نے آتا دیکھ کے مجھ کو
بارش میں در بھینچ لیا ہے
اُس سے حرفِ محبت کہنے
ہم نے کیا کیا کچھ لکھا ہے
دامن سے اُس شوخ نے مجھ کو
گرد سمجھ کر جھاڑ دیا ہے
فرق ہے کیوں انسانوں میں جب
سانس کا رشتہ اِک جیسا ہے
فرصت ہی کب پاس کسی کے
کون رُلانے بھی آتا ہے
یادوں کے اک ایک ورق پر
وُہ کلیوں سا کھِل اُٹھتا ہے
شیر بھی صید ہُوا تو آخر
دیواروں پر آ لٹکا ہے
نُچنے سے اِک برگ کے دیکھو
پیڑ ابھی تک کانپ رہا ہے
ایک ذرا سی چنگاری نے
سارا جنگل پھونک دیا ہے
لفظ سے پاگل سا برتاؤ
ساگر ناؤ سے کرتا ہے
بہلا ہے دل درد سے جیسے
بچہ کانچ سے کھیل رہا ہے
کڑوے پھل دینے والے کا
رشتہ باغ سے کب ملتا ہے
خدشوں میں پلنے والوں نے
سوچا ہے جو، وُہی دیکھا ہے
اپنے اپنے انت کو پانے
جس کو دیکھو دوڑ رہا ہے
زور آور سبزے نے دیکھو
بادل سے حق مانگ لیا ہے
کس رُت کے چھننے سے جانے
صحنِ گلستاں دشت ہوا ہے
ہونٹ گواہی دیں نہ کچھ اُس کی
دل میں جتنا زہر بھرا ہے
لفظ کے تیشے سے ابھرے جو
زخم وہی گہرا ہوتا ہے
آنکھ ٹھہرتی ہے جس پر بھی
منظر وُہ چھالوں جیسا ہے
بن کر کالی رات وہ دیکھو
کّوا چڑیا پر جھپٹا ہے
جتنا اپنے ساتھ ہے کوئی
اُتنا اُس کے ساتھ خُدا ہے
اونچی کر دے لو زخموں کی
پرسش وُہ بے رحم چِتا ہے
ساکت کر دے جو قدموں کو
جیون وُہ آسیب ہُوا ہے
دشت تھا اُس کا ہجر پہ ہم نے
یہ صحرا بھی پاٹ لیا ہے
مجھ سے اُس کا ذکر نہ چھیڑو
وہ جیسا بھی ہے اچّھا ہے
ساتھ ہمارے ہے وہ جب سے
اور بھی اُس کا رنگ کھُلا ہے
شاہی بھی قربان ہو اُس پر
ماجدؔ کو جو فقر ملا ہے
ماجد صدیقی

پھرفکر و نظر میں زلزلہ ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 5
مجھ سے وُہ بچھڑ کے پھر چلا ہے
پھرفکر و نظر میں زلزلہ ہے
بے نطق نہیں نگاہ اپنی
بے تاب لُہو کی یہ صدا ہے
میں آگ تھا پر سُخن نے اُس کے
گلزار مجھے بنا دیا ہے
شیریں ہے ہر ایک بات اُس کی
وہ جو بھی کہے اُسے روا ہے
یہ دل کہ حزیں ہے مدّتوں سے
پُوچھا نہ کسی نے کیوں بُجھا ہے
ممکن نہیں اُس تلک رسائی
اُس شخص کی اور ہی ادا ہے
لکھا ہے یہ اُس کا نام ماجِد
یا پھول سرِورق کھلا ہے
ماجد صدیقی

داغِ برہنگی یہ اُسی نے دیا نہ ہو

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 47
شاخ و شجر سے ابرِ کرم ہی خفا نہ ہو
داغِ برہنگی یہ اُسی نے دیا نہ ہو
ہاں ہاں فتُور یہ بھی مرے عجز کا نہ ہو
سائل ہوں جس کا خود کو سمجھتا خدا نہ ہو
موجِ صبا ہی ہو نہ کہیں در پے فساد
پتّوں کے درمیاں وہی شورش بپا نہ ہو
یہ تھر تھری سی کیوں ہے ابھی روئے آب پر
ڈوبا ہے جو اُسی کی پریشاں صدا نہ ہو
جس میں ہوئی تھیں میری تمنّائیں جاگزیں
بُغضِ ہوا سے پھر وہی خیمہ اُڑا نہ ہو
یارانِ ہم بساط سے بے زار تھا بہت
ماجدؔ بساطِ شوق اُلٹ ہی گیا نہ ہو
ماجد صدیقی

ہوا نے اپنا ارادہ بتا دیا ہے مجھے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 82
تبر بہ دست بھی ہے جس کا آسرا ہے مجھے
ہوا نے اپنا ارادہ بتا دیا ہے مجھے
رہِ سفر کا مرے رُخ ہی موڑ دے نہ کہیں
یہ دستِ غیب سے پتّھر جو آ پڑا ہے مجھے
جو دے تو میری گواہی وہ شاخِ سبز ہی دے
پنہ میں جس کی یہ تیرِ قضا لگا ہے مجھے
عجب عذاب ہے یہ تہ رسی نگاہوں کی
چٹک کلی کی بھی اب خاک کی صدا ہے مجھے
میں اُس مقام پہ ماجدؔ پہنچ گیا ہوں جہاں
یہ خامشی بھی تری حرفِ مدّعا ہے مجھے
ماجد صدیقی

صورت کوئی بنے تو سفر ابتدا کریں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 7
ہر شخص رہنما ہے کِسے رہنما کریں
صورت کوئی بنے تو سفر ابتدا کریں
ہاں کچھ تو والدین کو بھیجا کریں ضرور
پیسے نہیں تو خط ہی کبھی لکھ دیا کریں
مانگے اگر حساب کوئی صاحبِ دکان
پھیکی سی اک ہنسی نہ فقط ہنس دیا کریں
ماجدؔ بطرزِ نو سخن آرا تو ہوں ضرور
لوگوں کے تبصروں سے نہ لیکن ڈرا کریں
ماجد صدیقی

نجانے کون سے جنگل میں آ بسا ہوں مَیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 12
نظر اُٹھے بھی تو خُود ہی کو دیکھتا ہوں مَیں
نجانے کون سے جنگل میں آ بسا ہوں مَیں
یہ کس ہجوم میں تنہا کھڑا ہوا ہوں مَیں
یہ اپنے آپ سے ڈرنے سا کیوں لگا ہوں مَیں
وگرنہ شدّتِ طوفاں کا مجھ کو ڈر کیا تھا
لرز رہا ہوں کہ اندر سے کھوکھلا ہوں مَیں
یہ کیوں ہر ایک حقیقت لگے ہے افسانہ
یہ کس نگاہ سے دُنیا کو دیکھتا ہوں مَیں
برس نہ مجھ پہ ابھی تندیِ ہوائے چمن
نجانے کتنے پرندوں کا گھونسلا ہوں مَیں
تمہاری راہ میں وہم و گماں کا جال تو تھا
مجھے یہ دُکھ ہے کہ اِس میں اُلجھ گیا ہوں مَیں
یہ کس طرح کی ہے دِل سوزی و خنک نظری
یہ آ کے کون سے اعراف پر کھڑا ہوں مَیں
اِس اپنے عہد میں، اِس روشنی کے میلے میں
قدم قدم پہ ٹھٹکنے سا کیوں لگا ہوں مَیں
مری زمیں کو مجھی پر نہ تنگ ہونا تھا
بجا کہ چاند کو قدموں میں روندتا ہوں مَیں
سکوتِ دہر کو توڑا تو مَیں نے ہے ماجدؔ
یہ ہنس دیا ہوں نجانے کہ رو دیا ہوں مَیں
ماجد صدیقی

نذرِ صرصر بھی ہمیں برگ ہُوا کرتے ہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
موسموں کو نئے عنوان دیا کرتے ہیں
نذرِ صرصر بھی ہمیں برگ ہُوا کرتے ہیں
اپنے احساس نے اِک رُوپ بدل رکھا ہے
بُت کی صورت جِسے ہم پُوج لیا کرتے ہیں
اُن سے شکوہ؟ مری توبہ! وہ دلوں کے مالک
جو بھی دیتے ہیں بصد ناز دیا کرتے ہیں
ہم کہ شیرینیِ لب جن سے ہے ماجدؔ منسُوب
کون جانے کہِ ہمیں زہر پِیا کرتے ہیں
ماجد صدیقی

اُس سا لیکن کوئی آشنا بھی نہ تھا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 76
اجنبی تھا وہ مجھ سے ملا بھی نہ تھا
اُس سا لیکن کوئی آشنا بھی نہ تھا
اِس اندھیرے میں کیسے وہ پہنچا یہاں
دل میں میرے تو جلتا دیا بھی نہ تھا
کھُل گئی جانے کیسے زباں خلق کی
اُس سے رشتہ کوئی برملا بھی نہ تھا
جانے وہ ہم سے کیوں جھینپتا رہ گیا
بھید اُس پر ہمارا کھُلا بھی نہ تھا
حق بجانب تھا مجھ سے وہ اغماض میں
اُس سے میرا کچھ ایسا گلہ بھی نہ تھا
ہاں بجا ہے وہ اچّھا نہ ہو گا مگر
تیرا ماجدؔ کچھ ایسا بُرا بھی نہ تھا
ماجد صدیقی

ہر گل کو ہم نے یوں بھی تمہارا پتہ دیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 79
آئینۂ خیال بہ دستِ صبا دیا
ہر گل کو ہم نے یوں بھی تمہارا پتہ دیا
فرصت تمہاری دید نے دی جب بھی درد سے
اِک چاند جگمگا اُٹھا اِک چاند بُجھ گیا
کر دیں یہ کس نے ذہن پہ عُریاں حقیقتیں
کہرام سا یہ کس نے نظر میں اُٹھا دیا
ماجدؔ ہو اِس سے شکوہ بہ لب تم جوہر نفس
سوچو تو زندگی کو ابھی تم نے کیا دیا
ماجد صدیقی

ہے بھی تو مجھے پتا نہیں ہے

نینا عادل ۔ غزل نمبر 24
خوابوں کا کوئی سرا نہیں ہے
ہے بھی تو مجھے پتا نہیں ہے

سانسوں میں کسک ہے اجنبی سی
اس نے تو ابھی چھوا نہیں ہے

تا دور غبار اڑ رہا ہے
ہونے کو تو کچھ ہوا نہیں ہے

پھر رات کی سر زمیں ہے میں ہوں
اور ہاتھ میں پھر دیا نہیں ہے

اک خواب کی لَو ہے چشمِ تر میں
تصویر میں کچھ نیا نہیں ہے

بیدار ہیں شہر کی ہوائیں
وہ شخص ابھی گیا نہیں ہے

صحرا میں گھٹا برس رہی ہے
یہ وقت مگر مرا نہیں ہے

میں وقت سے چل رہی ہوں آگے
تا دور کوئی صدا نہیں ہے

سرشار ہوں شعر کہہ کے نیناؔ
کچھ اور اگر صلہ نہیں ہے

نینا عادل

تو تو اس بستی سے خوش خوش چلا گیا، اور میں؟

احمد فراز ۔ غزل نمبر 64
شہرِ محبت، ہجر کا موسم، عہد وفا اور میں
تو تو اس بستی سے خوش خوش چلا گیا، اور میں؟
تو جو نہ ہو تو جیسے سب کو چپ لگ جاتی ہے
آپس میں کیا باتیں کرتے رات، دیا اور میں
سیرِ چمن عادت تھی پہلے اب مجبوری ہے
تیری تلاش میں‌چل پڑتے ہیں‌ بادِ صبا اور میں
جس کو دیکھو تیری خو میں پاگل پھرتا ہے
ورنہ ہم مشرب تو نہیں‌تھے خلقِ خدا اور میں
ایک تو وہ ہمراز مرا ہے، پھر تیرا مداح
بس تیرا ہی ذکر کیا کرتے ہیں‌ضیا اور میں
ایک زمانے بعد فراز یہ شعر کہے میں‌نے
اک مدت سے ملے نہیں‌ہیں‌یار مرا اور میں
احمد فراز

جبکہ خود پتھر کو بت، بت کو خدا میں نے کیا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 32
سنگ دل ہے وہ تو کیوں اس کا گلہ میں نے کیا
جبکہ خود پتھر کو بت، بت کو خدا میں نے کیا
کیسے نامانوس لفظوں کی کہانی تھا وہ شخص
اس کو کتنی مشکلوں سے ترجمہ میں نے کیا
وہ مری پہلی محبت وہ مری پہلی شکست
پھر تو پیمان وفا سو مرتبہ میں نے کیا
ہوں سزاوار سزا کیوں جب مقدر میں مرے
جو بھی اس جانِ جہاں نے لکھ دیا میں نے کیا
احمد فراز

اگر چلا ہے تو جو کچھ مجھے دیا لے جا

احمد فراز ۔ غزل نمبر 6
وفا کے خواب، محبت کا آسرا لے جا
اگر چلا ہے تو جو کچھ مجھے دیا لے جا
مقامِ سُود و زیاں آ گیا ہے پھر جاناں
یہ زخم میرے سہی، تِیر تو اٹھا لے جا
یہی ہے قسمتِ صحرا، یہی کرم تیرا
کہ بوند بوند عطا کر، گھٹا گھٹا لے جا
غرورِ دوست سے اتنا بھی دل شکستہ نہ ہو
پھر اس کے سامنے دامانِ التجا لے جا
ندامتیں ہوں تو سر بارِ دوش ہوتا ہے
فراز جاں کے عوض آبرو بچا لے جا
احمد فراز

ابھی فرہاد و قیس آئے تھے کہنے مرحبا مجھ کو

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 23
جنوں کے دم سے آخر مرتبہ کیسا ملا مجھ کو
ابھی فرہاد و قیس آئے تھے کہنے مرحبا مجھ کو
کسی صورت بھی رد ہوتا نہیں یہ فیصلہ دل کا
نظر آتا نہیں کوئی بھی تجھ سا دوسرا مجھ کو
سرِ کنجِ تمنا پھر خوشی سے گنگنائوں گا
اگر وہ لوٹ کر آئے تو پھر تم دیکھنا مجھ کو
نہ جانے رشک سے، غصے سے، غم سے یا رقابت سے
یہ کس انداز سے تکتا ہے تیرا آئنہ مجھ کو
کھلے تو سب زمانوں کے خزانے ہاتھ آ جائیں
درِ اقلیمِ صد عالم ہے وہ بندِ قبا مجھ کو
گماں میں بھی گماں لگتی ہے اب تو زندگی میری
نظر آتا ہے اب وہ خواب میں بھی خواب سا مجھ کو
کثافت بار پا سکتی نہیں ایسی لطافت میں
کرم اُس کا کہ بخشا دل کے بدلے آئنہ مجھ کو
صبا میری قدم بوسی سے پہلے گُل نہ دیکھے گی
اگر وحشت نے کچھ دن باغ میں رہنے دیا مجھ کو
نہ نکلی آج گر کوئی یہاں یکجائی کی صورت
تو کل سے ڈھونڈتے پھرنا جہاں میں جا بہ جا مجھ کو
گزر گاہِ نفس میں ہوں مثالِ برگِ آوارہ
کوئی دم میں اڑا لے جائے گی بادِ فنا مجھ کو
وہ دل آویز آنکھیں، وہ لب و رخسار، وہ زلفیں
نہیں اب دیکھنا کچھ بھی نہیں اس کے سوا مجھ کو
ازل سے تا ابد، دنیا سے لے کر آسمانوں تک
نظر آتا ہے تیری ہی نظر کا سلسلہ مجھ کو
مرے ہونے سے ہی کچھ اعتبار اس کا بھی قائم ہے
جنوں تم سے نمٹ لے گا جو دیوانہ کہا مجھ کو
کوئی عرفانؔ مجھ میں سے مجھے آواز دیتا ہے
ارے تُو سوچتا کیا ہے کبھی کچھ تو بتا مجھ کو
عرفان ستار

کس کو چشم شب میں ستارا کیا مجھے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 113
گونگے لبوں پہ حرفِ تمنا کیا مجھے
کس کو چشم شب میں ستارا کیا مجھے
زخمِ ہُنر کو سمجھے ہُوئے گُلِ ہنر
کس شہرِ ناسپاس میں پیدا کیا مجھے
جب حرف ناشناس یہاں لفظ فہم میں
کیوں ذوقِ شعر دے کے تماشا کیا مجھے
خوشبو ہے، چاندنی ہے،لبِ جُو ہے اور میں
کس بے پناہ رات میں تنہا کیا مجھے
دی تشنگی خدانے تو چشمے بھی دے دیے
سینے میں دشت،آنکھوں میں دریا کیا مجھے
مَیں یوں سنبھل گئی کہ تری بے وفائی نے
بے اعتباریوں سے شناسا کیا مجھے
وہ اپنی ایک ذات میں کُل کائنات تھا
دُنیا کے ہر فریب سے مِلوا دیا مجھے
اوروں کے ساتھ میرا تعارف بھی جب ہُوا
ہاتھوں میں ہاتھ لے کر وہ سوچا کیا مجھے
بیتے دنوں کا عکس نہ آئندہ کا خیال
بس خالی خالی آنکھوں سے دیکھا کیا مجھے
پروین شاکر

ایک گھر برق کو ہر سال دیا کرتے ہیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 77
کیا کوئی باغ میں ہم مفت رہا کرتے ہیں
ایک گھر برق کو ہر سال دیا کرتے ہیں
رخ اِدھر آنکھ ادھر آپ یہ کیا کرتے ہیں
پھر نہ کہنا مرے تیر خطا کرتے ہیں
اب تو پردے کو اٹھا دو مری لاش اٹھتی ہے
دیکھو اس وقت میں منہ دیکھ لیا کرتے ہیں
تیرے بیمار کی حالت نہیں دیکھی جاتی
اب تو احباب بھی مرنے کی دعا کرتے ہیں
صبحِ فرقت بھی قمر آنکھ کے آنسو رکے
یہ وہ تارے ہیں جو دن میں بھی گرا کرتے ہیں
قمر جلالوی

تلون سے ہے تم کو مدعا کیا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 33
کہا کل میں نے اے سرمایۂ ناز
تلون سے ہے تم کو مدعا کیا
کبھی مجھ پر عتابِ بے سبب کیوں
کبھی بے وجہ غیروں سے وفا کیا
کبھی محفل میں وہ بے باکیاں کیوں
کبھی خلوت میں یہ شرم و حیا کیا
کبھی تمکینِ صولت آفریں کیوں
کبھی الطافِ جرات آزما کیا
کبھی وہ طعنہ ہائے جاں گزا کیوں
کبھی یہ غمزہ ہائے جاں فزا کیا
کبھی شعروں سے میرے نغمہ سازی
کبھی کہنا کہ یہ تم نے کہا کیا
کبھی بے جرم یہ آزردہ ہونا
کہ کیا طاقت جو پوچھوں میں "خطا کیا”
کبھی اس دشمنی پر بہرِ تسکیں
پئے ہم جلوہ ہائے دلربا کیا
یہ سب طول اس نے سن کر بے تکلف
جواب اک مختصر مجھ کو دیا کیا
ابھی اے شیفتہ واقف نہیں تم
کہ باتیں عشق میں ہوتی ہیں کیا کیا
مصطفٰی خان شیفتہ

دل سے سب کچھ بھلا دیا تو نے

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 45
سبق ایسا پڑھا دیا تو نے
دل سے سب کچھ بھلا دیا تو نے
لاکھ دینے کا ایک دینا ہے
دلِ بے مُدّعا دیا تو نے
بے طلب جو ملا، ملا مجھ کو
بے غرض جو دیا، دیا تو نے
کہیں مشتاق سے حجاب ہوا
کہیں پردہ اٹھا دیا تو نے
مٹ گئے دل سے نقشِ باطل سب
نقش اپنا جما دیا تو نے
مجھ گناہگار کو جو بخش دیا
تو جہنم کو کیا دیا تو نے
داغ کو کون دینے والا تھا
اے خدا ! جو دیا، دیا تو نے
داغ دہلوی

بوسے کو پُوچھتا ہوں مَیں، منہ سےمجھے بتا کہ یُوں

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 160
غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوں
بوسے کو پُوچھتا ہوں مَیں، منہ سےمجھے بتا کہ یُوں
پُرسشِ طرزِ دلبری کیجئے کیا؟ کہ بن کہے
اُس کے ہر اک اشارے سے نکلے ہے یہ ادا کہ یُوں
رات کے وقت مَے پیے ساتھ رقیب کو لیے
آئے وہ یاں خدا کرے، پر نہ خدا کرے کہ یُوں
’غیر سے رات کیا بنی‘ یہ جو کہا تو دیکھیے
سامنے آن بیٹھنا، اور یہ دیکھنا کہ یُوں
بزم میں اُس کے روبرو کیوں نہ خموش بیٹھیے
اُس کی تو خامُشی میں بھی ہے یہی مدّعا کہ یُوں
میں نے کہا کہ “ بزمِ ناز چاہیے غیر سے تہی“
سُن کر ستم ظریف نے مجھ کو اُٹھا دیا کہ یُوں ؟
مجھ سے کہا جو یار نے ’جاتے ہیں ہوش کس طرح‘
دیکھ کے میری بیخودی، چلنے لگی ہوا کہ یُوں
کب مجھے کوئے یار میں رہنے کی وضع یاد تھی
آئینہ دار بن گئی حیرتِ نقشِ پا کہ یُوں
گر ترے دل میں ہو خیال، وصل میں شوق کا زوال
موجِ محیطِ آب میں مارے ہے دست و پا کہ یُوں
جو یہ کہے کہ ریختہ کیوں کر@ ہو رشکِ فارسی
گفتۂ غالب ایک بار پڑھ کے اُسے سُنا کہ یُوں
@ نسخۂ مہر میں ‘کہ’
مرزا اسد اللہ خان غالب

پیر فقیر اس بے دنداں کو ان نے دنداں مزد دیا

دیوان ششم غزل 1806
آج اس خوش پرکار جواں مطلوب حسین نے لطف کیا
پیر فقیر اس بے دنداں کو ان نے دنداں مزد دیا
آنسو کی بوند آنکھوں سے دونوں اب تو نکلتی ایک نہیں
دل کے طپیدن روز و شب نے خوب جگر کا لوہو پیا
مرتے جیسے صبر کیا تھا ویسی ہی بے صبری کی
ہائے دریغ افسوس کوئی دن اور نہ یہ بیمار جیا
ہاتھ رکھے رہتا ہوں دل پر برسوں گذرے ہجراں میں
ایک دن ان نے گلے سے مل کر ہاتھ میں میرا دل نہ لیا
میر تقی میر

کیا کیا کڑھایا جی سے مارا لوہو پیا افسوس افسوس

دیوان پنجم غزل 1633
کیا کیا تم نے ہم سے کہا تھا کچھ نہ کیا افسوس افسوس
کیا کیا کڑھایا جی سے مارا لوہو پیا افسوس افسوس
نور چراغ جان میں تھا کچھ یوں ہی نہ آیا لیکن وہ
گل ہو ہی گیا آخر کو یہ بجھتا سا دیا افسوس افسوس
رخصت میں پابوس کی سب کے جی جاتا تھا سوان نے
ہاتھ میں عاشق وارفتہ کا دل نہ لیا افسوس افسوس
میر کی آنکھیں مندنے پر وہ دیکھنے آیا تھا ظالم
اور بھی یہ بیمار محبت ٹک نہ جیا افسوس افسوس
میر تقی میر

پانی ہوا ہے کچھ تو میرا جگر جلا کچھ

دیوان چہارم غزل 1482
گرمی سے عاشقی کی آخر کو ہو رہا کچھ
پانی ہوا ہے کچھ تو میرا جگر جلا کچھ
آزردہ دل ہزاروں مرتے ہی ہم سنے ہیں
بیماری دلی کی شاید نہیں دوا کچھ
وارفتہ ہے گلستاں اس روے چمپئی کا
ہے فصل گل پہ گل کا اب وہ نہیں مزہ کچھ
وہ آرسی کے آگے پہروں ہے بے تکلف
منھ سے ہمارے اس کو آتی نہیں حیا کچھ
دل ہی کے غم میں گذرے دس دن جو عمر کے تھے
اچرج ہے اس نگر سے جاتا نہیں دہا کچھ
منھ کر بھی میری جانب سوتا نہیں کبھو وہ
کیا جانوں اس کے جی میں ہے اس طرف سے کیا کچھ
دل لے فقیر کا بھی ہاتھوں میں دل دہی کر
آجائے ہے جہاں میں آگے لیا دیا کچھ
یاروں کی آہ و زاری ہووے قبول کیوں کر
ان کی زباں میں کچھ ہے دل میں ہے کچھ دعا کچھ
ساری وہی حقیقت ملحوظ سب میں رکھیے
کہیے نمود ہووے جو اس کے ماسوا کچھ
حرف و سخن کی اس سے اپنی مجال کیا ہے
ان نے کہا ہے کیا کیا میں نے اگر کہا کچھ
کب تک یہ بدشرابی پیری تو میر آئی
جانے کے ہو مہیا اب کر چلو بھلا کچھ
میر تقی میر

ٹھنڈا دل اب ہے ایسا جیسے بجھا دیا ہے

دیوان سوم غزل 1260
سوز دروں نے آخر جی ہی کھپا دیا ہے
ٹھنڈا دل اب ہے ایسا جیسے بجھا دیا ہے
اب نیند کیونکے آوے گرمی نے عاشقی کی
دل ہے جدھر وہ پہلو سارا جلا دیا ہے
حرف غلط تھے کیا ہم صفحے پہ زندگی کے
جو صاف یوں قضا نے ہم کو مٹا دیا ہے
کڑھتے ہمیشہ رہنا ہم کو بغیر اس کے
کیا روگ دوستی نے جی کو لگا دیا ہے
اچرج ہے یہ کہ ہے وہ میرا چراغ تربت
کتنوں کا ورنہ خوں کر ان نے دبا دیا ہے
آنکھوں کی کچھ حیا تھی سو موند لیں ادھر سے
پردہ جو رہ گیا تھا وہ بھی اٹھا دیا ہے
ہم دل زدہ رہے ہیں انواع تلخ سنتے
ان شکریں لبوں نے ہم کو رجھا دیا ہے
جب طول میں دیا ہے نامے کو شوق کے تب
جوں کاغذ ہوائی ان نے اڑا دیا ہے
مرنے ہی کا مہیا اپنے رہا کیا ہوں
واں تیغ اٹھائی ان نے یاں سر جھکا دیا ہے
کیا بے نمک ہوا ہے پروانہ راکھ جل کر
رہ رہ کے ہم جلے تو ہم کو مزہ دیا ہے
تھے جوں چراغ مفلس مضطر نہ ترک تھا جب
بارے فقیری نے تو آرام سا دیا ہے
شہروں کے تنگ کوچے کاہے کو گوں ہیں اپنی
ہم وحشیوں کے قابل رہنے کے بادیہ ہے
نادردمند بلبل نالاں ہے بے تہی سے
دل ہم کو بھی خدا نے دردآشنا دیا ہے
کیا نامہ بر ہمارا ہے صاف بے مروت
خط نانوشتہ ہم کو اودھر سے لا دیا ہے
عالم شکار ہے وہ اس سن میں میر اس کو
ڈھب جان مارنے کا کن نے بتا دیا ہے
میر تقی میر

تب دل کے تئیں خوگر اندوہ کیا ہے

دیوان دوم غزل 1029
کئی برسوں جگر کا ہی لہو اپنا پیا ہے
تب دل کے تئیں خوگر اندوہ کیا ہے
ڈر کیوں نہ محلے میں رہے رونے سے میرے
سیلاب نے اس کوچے میں گھر مول لیا ہے
افسوس ہے نشمردہ قدم تم جو رکھو یاں
اس راہ میں سر یاروں نے ہر گام دیا ہے
کاہش ہے عبث تم کو مرے جینے کی خاطر
بیمار بھلا ایسا کوئی آگے جیا ہے
پلکوں سے رفو ان نے کیا چاک دل میر
کس زخم کو کس نازکی کے ساتھ سیا ہے
میر تقی میر

کیا کہہ کے تجھ کو روویں یہ کیا کیا پیارے

دیوان دوم غزل 968
میر ایک دم نہ اس بن تو تو جیا پیارے
کیا کہہ کے تجھ کو روویں یہ کیا کیا پیارے
رنگین ہم تو تجھ کو ایسا نہ جانتے تھے
تو نے تو عاشقوں کا لوہو پیا پیارے
دل کے تو زخم کا کچھ ہوتا نہیں تدارک
گو چاک سینہ تو نے میرا سیا پیارے
اس دام گاہ میں ہم جوں صید نیم بسمل
تڑپے بہت پہ تو نے کب دل لیا پیارے
ہو داغ میر تجھ بن مر بھی گیا ولے تو
آیا نہ گور پر ٹک لے کر دیا پیارے
میر تقی میر

تو بھی ہم غافلوں نے آ کے کیا کیا کیا کچھ

دیوان اول غزل 428
ہم سے کچھ آگے زمانے میں ہوا کیا کیا کچھ
تو بھی ہم غافلوں نے آ کے کیا کیا کیا کچھ
دل جگر جان یہ بھسمنت ہوئے سینے میں
گھر کو آتش دی محبت نے جلا کیا کیا کچھ
کیا کہوں تجھ سے کہ کیا دیکھا ہے تجھ میں میں نے
عشوہ و غمزہ و انداز و ادا کیا کیا کچھ
دل گیا ہوش گیا صبر گیا جی بھی گیا
شغل میں غم کے ترے ہم سے گیا کیا کیا کچھ
آہ مت پوچھ ستمگار کہ تجھ سے تھی ہمیں
چشم لطف و کرم و مہر و وفا کیا کیا کچھ
نام ہیں خستہ و آوارہ و بدنام مرے
ایک عالم نے غرض مجھ کو کہا کیا کیا کچھ
طرفہ صحبت ہے کہ سنتا نہیں تو ایک مری
واسطے تیرے سنا میں نے سنا کیا کیا کچھ
حسرت وصل و غم ہجر و خیال رخ دوست
مر گیا میں پہ مرے جی میں رہا کیا کیا کچھ
درد دل زخم جگر کلفت غم داغ فراق
آہ عالم سے مرے ساتھ چلا کیا کیا کچھ
چشم نمناک و دل پر جگر صد پارہ
دولت عشق سے ہم پاس بھی تھا کیا کیا کچھ
تجھ کو کیا بننے بگڑنے سے زمانے کے کہ یاں
خاک کن کن کی ہوئی صرف بنا کیا کیا کچھ
قبلہ و کعبہ خداوند و ملاذ و مشفق
مضطرب ہو کے اسے میں نے لکھا کیا کیا کچھ
پر کہوں کیا رقم شوق کی اپنے تاثیر
ہر سر حرف پہ وہ کہنے لگا کیا کیا کچھ
ایک محروم چلے میر ہمیں عالم سے
ورنہ عالم کو زمانے نے دیا کیا کیا کچھ
میر تقی میر

گل دستہ دستہ جس کو چراغی دیا کیا

دیوان اول غزل 145
اس آستان داغ سے میں زر لیا کیا
گل دستہ دستہ جس کو چراغی دیا کیا
کیا بعد مرگ یاد کروں گا وفا تجھے
سہتا رہا جفائیں میں جب تک جیا کیا
ہو تار تار سیتے ہی سیتے جو اڑ گیا
اب تک عبث میں اپنا گریباں سیا کیا
سن سن کے تیری بات کو کیا کیا نہ کہہ سنا
کیا کیا کہوں میں تجھ سے کہ کیا کچھ کیا کیا
اب وہ جگر طپش سے تڑپتا ہے تشنہ لب
مدت تلک جو میر کا لوہو پیا کیا
میر تقی میر

اے اندھیری بستیو! تم کو خدا روشن کرے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 267
کوئی بجلی ان خرابوں میں گھٹا روشن کرے
اے اندھیری بستیو! تم کو خدا روشن کرے
ننھے ہونٹوں پر کھلیں معصوم لفظوں کے گلاب
اور ماتھے پر کوئی حرفِ دُعا روشن کرے
زرد چہروں پر بھی چمکے‘ سرخ جذبوں کی دھنک
سانولے ہاتھوں کو بھی رنگِ حنا روشن کرے
ایک لڑکا شہر کی رونق میں سب کچھ بھول جائے
ایک بڑھیا روز چوکھٹ پر دیا روشن کرے
خیر‘ اگر تم سے نہ جل پائیں وفاؤں کے چراغ
تم بجھانا مت جو کوئی دوسرا روشن کرے
آگ جلتی چھوڑ آئے ہو تو اب کیا فکر ہے
جانے کتنے شہر یہ پاگل ہوا روشن کرے
دل ہی فانوسِ وفا‘ دل ہی خس و خارِ ہوس
دیکھنا یہ ہے کہ اس کا قرب کیا روشن کرے
یا تو اس جنگل میں نکلے چاند تیرے نام کا
یا مرا ہی لفظ میرا راستہ روشن کرے
عرفان صدیقی

سنگِ جہاں نزاد ہوں ، کوئی تراشتا مجھے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 589
ہوتے مرے بھی خال و خد، آئینہ دیکھتا مجھے
سنگِ جہاں نزاد ہوں ، کوئی تراشتا مجھے
کشفِ وصال و ہجر میں کیسا شعورِ ذات ہے
عشق کہے میں کون ہوں حسن کہے وفا مجھے
اس کے خرامِ ناز پر کوئی چراغ کیا جلا
شب کے نگار خانے میں بادِ صبا لگا مجھے
لکھی غزل ہے میر نے میرے چُرا چُرا کے خواب
غالبِ خستہ حال نے بارِ دگر کہا مجھے
قریہء ماہ تاب تک چھان کے آ گیا ہوں میں
منزلِ وصل کے لیے اتنا نہ اب پھرا مجھے
اس کو حیات بخش دی، مہر منیر ہو گیا
شاخِ صلیبِ شام پر جس نے کہا خدا مجھے
جانا جہاں تھا اس طرف اپنی ازل سے پیٹھ ہے
چلنا ابد تلک پڑا یوں ہی بے فائدہ مجھے
کتنے ہزار سال سے تجھ کو منا رہا ہوں میں
میرے قریب بیٹھ کر تُو بھی کبھی منا مجھے
مجھ سے ترا فروغ کن مجھ سے ہے گردشِ فلک
میرا مقام و مرتبہ، پستی نہیں ، اٹھا مجھے
میرے علاوہ اور بھی کچھ ہے ترے خیال میں
میرے مزاج آشنا! تجھ سے یہی گلہ مجھے
ٹوٹ کے شاخِ سبز سے دشت ستم خرام میں
لکھنا ہے گرم ریت پر پھولوں کا مرثیہ مجھے
میں نے کہا کہ آنکھ میں دھند بھری ہے رنگ کی
اس کے مہیں لباس پر کرنا تھا تبصرہ مجھے
خیمۂ کائنات کی ٹوٹی ہوئی طناب کو
حرف صدائے کن بتا، کیسے ہے تھامنا مجھے
اس کی طلب کے حکم پر رہنا جہاں پڑا مجھے
لوگ برے برے لگے شہر خراب سا مجھے
میرا طلسم جسم بس میرے محاصرے میں ہے
اپنے نواحِ ذات میں کھینچ دیا گیا مجھے
ایک کرن شعور کی، ایک بہار نور کی
اپنے چراغِ طور کی بخش کوئی چتا مجھے
مجھ سے بڑا کوئی نہیں ‘ رات کے اک چراغ نے
کھنچی ہوئی لکیر میں رہ کے یہی کہا مجھے
آمدِ یار کے لیے جمع چراغِ چشم ہیں
کھینچنا ہے گلی گلی نور کا حاشیہ مجھے
پاؤں میں ہے غبارِ رہ، آنکھ میں منظرِ سیہ
دل ہے مرا طلب کدہ کوئی دیا دکھا مجھے
اس کے وجودِ سنگ میں دل ہی نہیں رکھا گیا
پھر بھی گماں یہی کہ ہے دل پہ لکھا ہوا مجھے
کوئی نہیں بتا سکا کیسے جیوں ترے بغیر
دیتا تمام شہر ہے، جینے کا مشورہ مجھے
رستہ تھا روشنی بکف، گھر تھا چمن بنا ہوا
تیرے مگر فراق کے دکھ نے جگا دیا مجھے
میرا وہاں ہے آسماں تیری جہاں ہیں پستیاں
میرے بدن پہ پاؤں رکھ، قوس قزح بنا مجھے
کہتی ہے داستانِ نور، آ کے سیہ لباس میں
مرتے ہوئے دیار کی بجھتی ہوئی چتا مجھے
سنگ صفت دیار کی شام سیہ نصیب میں
چھوٹے سے اس مکان کا کتنا ہے آسرا مجھے
مستی سے بھر، ترنگ دے، دل کو کوئی امنگ دے
اپنے بدن کا رنگ دے، خود سے ذرا ملا مجھے
منصور آفاق

ابھی نہ مجھ پہ شجر رو ‘ ابھی ہرا ہوں میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 334
ابھی تو شاخ سے اپنی، جدا ہوا ہوں میں
ابھی نہ مجھ پہ شجر رو ‘ ابھی ہرا ہوں میں
یہ لگ رہا ہے کئی دن سے اپنے گھر میں مجھے
کسی کے ساتھ کہیں اور رہ رہا ہوں میں
وصالِ زانوئے جاناں کے انتظار میں رات
خود اپنے ہاتھ پہ سر رکھ کے سو گیا ہوں میں
لہو میں دوڑتی پھرتی ہے لمس کی خوشبو
تیر ے خیال سے شاید گلے ملا ہوں میں
ستم کہ جس کی جدائی میں بجھ رہا ہے بدن
اسی چراغ کی مانگی ہوئی دعا ہوں میں
یہ المیہ نہیں سورج مقابلے پر ہے
یہ المیہ ہے کہ بجھتا ہوا دیا ہوں میں
پڑے ہوئے ہیں زمانوں کے آبلے منصور
بس ایک رات کسی جسم پر چلا ہوں میں
منصور آفاق

سلام تجھ پہ ہو، باد صبا سلامتی ہو

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 236
تُو لائے یار کی خوشبو، سدا سلامتی ہو
سلام تجھ پہ ہو، باد صبا سلامتی ہو
میں دھڑکنوں کے تلاطم سے لطف لیتا ہوں
ہزار وحشتِ موجِ ہوا سلامتی ہو
مری حیاتِ گذشتہ سے لوٹ آتی ہوئی
صباحتِ لب و رخ کی صدا سلامتی ہو
ملالِ شامِ مسلسل کی حکمرانی ہے
الم نصیب، دلِ باوفا سلامتی ہو
تمام کون و مکاں کے لیے دعائے خیر
فقط یہاں ہی نہیں جا بجا سلامتی ہو
وہاں بچھانی ہے اک جانماز میں نے بھی
کنارِ چشمہء حمد و ثنا سلامتی ہو
میں چل رہا تھا کسی بد کلام بستی میں
کسی نے مجھ کو اچانک کہا سلامتی ہو
سیاہ دن سے گزرتی ہوئی سفید قبا
اٹھے ہوئے ہیں یہ دست دعا سلامتی ہو
پڑوس میں بھی ترے دم سے کچھ اجالا ہے
سلامتی مرے گھر کا دیا سلامتی ہو
میں خوشہ چین ہوں غالب ترے گلستاں کا
اے کائناتِ سخن کے خدا سلامتی ہو
شبِ فراق چمکتی ہے تیرے جلووں سے
اے مہتاب کی دھیمی ضیا سلامتی ہو
یہیں پہ خیر بھی رہتی ہے شر بھی ہے آباد
مری زمین پہ منصور کیا سلامتی ہو
منصور آفاق

پڑھتی ہے جن کو چوم کے بادِ صبا نماز

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 181
مٹی مرا وجود، زمیں میری جا نماز
پڑھتی ہے جن کو چوم کے بادِ صبا نماز
اک دلنواز شخص نے دیکھا مجھے تو میں
قوسِ قزح پہ عصر کی پڑھنے لگا نماز
پڑھتے ہیں سر پہ دھوپ کی دستار باندھ کر
سایہ بچھا کے اپنا ہم اہلِ صفا نماز
لات و منات اپنے بغل میں لیے ہوئے
کعبہ کی سمت پڑھتی ہے خلقِ خدا نماز
تیرا ہے کوئی اور تعین مرا میں آپ
تیری جدا نماز ہے میری جدا نماز
جانے کب آئے پھر یہ پلٹ کر شبِ وصال
ہو جائے گی ادا تو عشاء کی قضا نماز
میں نے کہا کہ صبح ہے اب تو افق کے پاس
اس نے کہا تو کیجیے اٹھ کر ادا نماز
مت پوچھ کیسی خواہشِ دیدار تھی مجھے
برسوں میں کوہِ طور پہ پڑھتا رہا نماز
قرباں خیالِ گنبدِ خضرا پہ ہیں سجود
اقرا مری دعا ، مری غارِ حرا نماز
اس مختصر قیام میں کافی یہی مجھے
میرا مکاں درود ہے میرا دیا نماز
پندارِ جاں میں آئی ہیں تجھ سے ملاحتیں
تجھ سے ہوئے دراز یہ دستِ دعا نماز
اے خواجہء فراق ! ملاقات کے لیے
پھر پڑھ کنارِ چشمۂ حمد و ثنا نماز
اے شیخ شاہِ وقت کے دربار سے نکل
دروازہ کر رہی ہے بغاوت کا وا نماز
اس کا خیال مجھ سے قضا ہی نہیں ہوا
لگتا ہے میرے واسطے منصور تھا نماز
منصور آفاق

منزلیں دیں گی کسے اپنا پتا میرے بعد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 157
کس طرف جائے گی اب راہ فنا میرے بعد
منزلیں دیں گی کسے اپنا پتا میرے بعد
رات کا دشت تھا کیا میرے لہو کا پیاسا
آسماں کتنا سحر پوش ہوا میرے بعد
یہ تو ہر طرح مرے جیسا دکھائی دے گا
کوزہ گر چاک پہ کیا تو نے رکھا میرے بعد
"کون پھر ہو گا حریفِ مے مرد افگنِ عشق؟”
کون دنیا کے لیے قبلہ نما میرے بعد
لڑکھڑاتی ہوئی گلیوں میں پھرے گی تقویم
وقت کا خاکہ اڑائے گی ہوا میرے بعد
میں خدا تو نہیں اس حسن مجسم کا مگر
کم نہیں میرا کیا اس نے گلہ میرے بعد
میں وہ سورج ہوں کہ بجھ کر بھی نظر آتا ہوں
اب نظر بند کرو میری ضیا میرے بعد
دشت میں آنکھ سمندر کو اٹھا لائی ہے
اب نہیں ہو گا کوئی آبلہ پا میرے بعد
تیرے کوچہ میں بھٹکتی ہی رہے گی شاید
سالہا سال تلک شام سیہ میرے بعد
گر پڑیں گے کسی پاتال سیہ میں جا کر
ایسا لگتا ہے مجھے ارض و سما میرے بعد
بعد از میر تھا میں میرِ سخن اے تشبیب
’کون کھولے گا ترے بند قبا میرے بعد‘
رات ہوتی تھی تو مہتاب نکل آتا تھا
اس کے گھر جائے گا اب کون بھلا میرے بعد
رک نہ جائے یہ مرے کن کی کہانی مجھ پر
کون ہو سکتا ہے آفاق نما میرے بعد
بزم سجتی ہی نہیں اب کہیں اہلِ دل کی
صاحبِ حال ہوئے اہل جفا میرے بعد
پھر جہالت کے اندھیروں میں اتر جائے گی
سر پٹختی ہوئی یہ خلق خدا میرے بعد
پہلے تو ہوتا تھا میں اوس بھی برگِ گل بھی
ہونٹ رکھے گی کہاں باد صبا میرے بعد
مجھ سے پہلے تو کئی قیس کئی مجنوں تھے
خاک ہو جائے گا یہ دشتِ وفا میرے بعد
بس یہی درد لیے جاتا ہوں دل میں اپنے
وہ دکھائے گی کسے ناز و ادا میرے بعد
جانے والوں کو کوئی یاد کہاں رکھتا ہے
جا بھی سکتے ہیں کہیں پائے حنا میرے بعد
زندگی کرنے کا بس اتنا صلہ کافی ہے
جل اٹھے گا مری بستی میں دیا میرے بعد
اس کو صحرا سے نہیں میرے جنون سے کد تھی
دشت میں جا کے برستی ہے گھٹا میرے بعد
میرے ہوتے ہوئے یہ میری خوشامد ہو گی
شکریہ ! کرنا یہی بات ذرا میرے بعد
میں ہی موجود ہوا کرتا تھا اُس جانب بھی
وہ جو دروازہ کبھی وا نہ ہوا میرے بعد
میرا بھی سر تھا سرِ صحرا کسی نیزے پر
کیسا سجدہ تھا… ہوا پھر نہ ادا میرے بعد
کاٹنے والے کہاں ہو گی یہ تیری مسند
یہ مرا سرجو اگر بول پڑا میرے بعد
پہلے تو ہوتی تھی مجھ پر یہ مری بزم تمام
کون اب ہونے لگا نغمہ سرا میرے بعد
میں کوئی آخری آواز نہیں تھا لیکن
کتنا خاموش ہوا کوہ ندا میرے بعد
میں بھی کر لوں گا گریباں کو رفو دھاگے سے
زخم تیرا بھی نہیں ہو گا ہرا میرے بعد
تیری راتوں کے بدن ہائے گراں مایہ کو
کون پہنائے گا سونے کی قبا میرے بعد
شمع بجھتی ہے‘ تو کیا اب بھی دھواں اٹھتا ہے
کیسی ہے محفلِ آشفتہ سرا میرے بعد
میں ہی لایا تھا بڑے شوق میں برمنگھم سے
اس نے پہنا ہے جو ملبوس نیا میرے بعد
عشق رکھ آیا تھا کیا دار و رسن پر منصور
کوئی سجادہ نشیں ہی نہ ہوا میرے بعد
منصور آفاق

وہ میرے ساتھ کوئی دن رہا تو اس نے کہا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 107
میں زندگی ہوں وہ جانے لگا تو اس نے کہا
وہ میرے ساتھ کوئی دن رہا تو اس نے کہا
مجھے زمین سے رکھنے ہیں اب مراسم بس
جب آسماں نے فسردہ کیا تو اس نے کہا
میں تتلیوں کے تعاقب میں جانے والا ہوں
کسی نے ماتھے پہ بوسہ دیا تو اس نے کہا
اداس رہنے کی عادت ہے مجھ کو ویسے ہی
گلی میں اس کی کوئی مرگیا تو اس نے کہا
مجھے بھی شام کی تنہائی اچھی لگتی ہے
مری اداسی کا قصہ سنا تو اس نے کہا
خیال رکھنا تجھے دل کا عارضہ بھی ہے
جب اس کے سامنے میں رو پڑا تو اس نے کہا
مجھے تو رات کی نیت خراب لگتی ہے
چراغ ہاتھ سے میرے گرا تو اس نے کہا
کوئی فرشتوں کی مجھ سے تھی دشمنی منصور
پڑھا نصیب کا لکھا ہوا تو اس نے کہا
منصور آفاق

دشتِکُن میں چشمۂ حمد و ثنا احمد رضا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 33
صبح دم شہرِ مدنیہ کی ہوا احمد رضا
دشتِکُن میں چشمۂ حمد و ثنا احمد رضا
حمد کی بہتی کرن وہ نعت کی اجلی شعاع
مدحتوں کے باغ کی بادِصبا احمد رضا
زندہ و جاوید رکھتا ہے انہیں عشقِ رسول
عشق کی بابت فنا نا آشنا احمد رضا
یہ سرِ فہرست عشاقِ محمدمیں ہے کون ؟
پوچھنے والے نے پھر خود ہی کہا احمد رضا
خانہ ء تاریک میں بھر دے اجالے لفظ سے
فیض کا سر چشمۂ صدق و صفا احمد رضا
کنزالایماں سے منور صحنِ اردو ہو گیا
آیتوں کا اختتامِ ترجمہ احمد رضا
روک دیتے ہیں بہارِ حکمت و عرفان سے
بد عقیدہ موسموں کا سلسلہ احمد رضا
آسماں کی بے کراں چھاتی پہ روز حشر تک
صبح نے کرنوں سے اپنی، لکھ دیا، احمد رضا
جل اٹھے ان سے سبھی علمِ عقائد کے چراغ
راستی کا روشنی کا راستہ احمد رضا
صاحبِ علم الکلام و حاملِ علم شعور
حاصلِ عہد علومِ فلسفہ احمد رضا
عالمِ علم لدنی ، عاملِ تسخیرِ ذات
روح و جاں میں قربِ احساسِ خدا احمد رضا
وہ صفاتِ حرف کی رو سے مخارج کے امیں
محرمِ احکامِ تجوید و نوا احمد رضا
بابتِ تفسیر قرآں جانتے تھے ایک ایک
معنی و تفہیمِ الہامِ الہ احمد رضا
وہ روایت اور درایت آشنا شیخ الحدیث
علمِ احوالِ نبی کے نابغہ احمد رضا
مالکی وشافعی ہوں یا کہ حنفی حنبلی
فقہ اربعہ پہ حرف انتہا احمد رضا
علمِ استخراجیہ ہویا کہ استقرائیہ
دیدہ ء منطق میں ہے چہرہ نما احمد رضا
علم ہندسہ و ریاضی کے نئے ادوار میں
موئے اقلیدس کی اشکال و ادا احمد رضا
علم جامع و جفر کی ہر ریاضت گاہ میں
جو ہرِ اعداد کی صوت و صدا احمد رضا
وہ بروج فلکیہ میں انتقال شمس ہیں
صاحبِعلمِ نجوم و زائچہ احمد رضا
وقت کی تاریخ ان کے ہاتھ پر تحریر ہے
جانتے ہیں سرگزشتِ ماجرا احمد رضا
روشنی علمِ تصوف کی انہی کی ذات سے
کثرتِ جاں میں لبِ وحدت سرا احمد رضا
حرفِ آخر تھے وہی عربی ادب پر ہند میں
والی ء تختِ علوم عربیہ احمد رضا
علمِ جاں ، علمِ فضائلِ علمِ لغت ،علم سیر
در علومِ خیرتجسیمِ ضیا احمد رضا
آسمانِ معرفت ، علمِ سلوک وکشف میں
منظرِبدرالدجیٰ ، شمس الضحیٰ احمد رضا
صبحِ عرفانِ الہی ، عابد شب زندہ دار
مسجدِ یاد خدا و مصطفی احمد رضا
عجز کا پندار ہے میرے قلم کی آنکھ میں
جو کچھ لکھا میں نے، کہیں اُس سے سوا احمد رضا
ٹوٹے پھوٹے لفظ تیری بارگاہ میں پیش ہیں
گرقبول افتدزہے عزوعطا احمد رضا
اعلی حضرت اہلِ سنت کے امام و پیشوا
اک نگہ مجھ پہ کرم کی اک نگہ احمد رضا
منصور آفاق

لیکن اٹھی نہیں کوئی چشمِ سوالیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 2
مدت کے بعد گاؤں میں آیا ہے ڈاکیا
لیکن اٹھی نہیں کوئی چشمِ سوالیا
رہنے کو آئی تھی کوئی زہرہ جبیں مگر
دل کا مکان درد نے خالی نہیں کیا
جو زندگی کی آخری ہچکی پہ گل ہوئی
اک شخص انتظار کی اس رات تک جیا
پوچھی گئی کسی سے جب اس کی کوئی پسند
آہستگی سے اس نے مرا نام لے لیا
تارے بجھے تمام، ہوئی رات راکھ راکھ
لیکن مزارِ چشم پہ جلتا رہا دیا
تکیے پہ بُن رہا ہے ترا شاعرِ فراق
منصور موتیوں سے محبت کا مرثیہ
منصور آفاق

رنگ آنکھوں میں آ گیا دل کا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 47
ہم چھپائیں گے بھید کیا دل کا
رنگ آنکھوں میں آ گیا دل کا
زندگی تیرگی میں ڈوب گئی
ہم جلاتے رہے دیا دل کا
تم زمانے کی راہ سے آئے
ورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا
زندگی بھر کوئی پتہ نہ چلا
دور گردوں کا، آپ کا، دل کا
وقت اور زندگی کا آئینہ
نوک غم اور آبلہ دل کا
آنکھ کھلتے ہی سامنے باقیؔ
ایک سنسان دشت تھا دل کا
باقی صدیقی

اور کچھ نشہ چڑھا ہے اپنا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 37
کیا پتا ہم کو ملا ہے اپنا
اور کچھ نشہ چڑھا ہے اپنا
کان پڑتی نہیں آواز کوئی
دل میں وہ شور بپا ہے اپنا
اب تو ہر بات پہ ہوتاہے گماں
واقعہ کوئی سنا ہے اپنا
ہر بگولے کو ہے نسبت ہم سے
دشت تک سایہ گیا ہے اپنا
خود ہی دروازے پہ دستک دی ہے
خود ہی در کھول دیا ہے اپنا
دل کی اک شاخ بریدہ کے سوا
چمن دہر میں کیا ہے اپنا
کوئی آواز، کوئی ہنگامہ
قافلہ رکنے لگا ہے اپنا
اپنی آواز پہ چونک اٹھتا ہے
دل میں جو چور چھپا ہے اپنا
کون تھا مدِ مقابل باقیؔ
خود پہ ہی وار پڑا ہے اپنا
باقی صدیقی