ٹیگ کے محفوظات: دہقانی

پھر بھی محبت صرف مسلسل ملنے کی آسانی تھی

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 153
ہر دھڑکن ہیجانی تھی ہر خاموشی طوفانی تھی
پھر بھی محبت صرف مسلسل ملنے کی آسانی تھی
جس دن اُس سے بات ہوئی تھی اس دن بھی بےکیف تھا میں
جس دن اُس کا خط آیا ہے اُس دن بھی ویرانی تھی
جب اُس نے مجھ سے کہا تھا عشق رفاقت ہی تو نہیں
تب میں نے ہر شخص کی صورت مشکل سے پہچانی تھی
جس دن وہ ملنے آئی ہے اس دن کی رُوداد یہ ہے
اس کا بلاؤز نارنجی تھا اس کی ساری دھانی تھی
اُلجھن سی ہونے لگتی تھی مجھ کو اکثر اور وہ یوں
میرا مزاجِ عشق تھا شہری اس کی وفا دہقانی تھی
اب تو اس کے بارے میں تم جو چاہو وہ کہہ ڈالو
وہ انگڑائی میرے کمرے تک تو بڑی روحانی تھی
نام پہ ہم قربان تھے اس کے لیکن پھر یہ طور ہوا
اس کو دیکھ کے رُک جانا بھی سب سے بڑی قربانی تھی
مجھ سے بچھڑ کر بھی وہ لڑکی کتنی خوش خوش رہتی ہے
اس لڑکی نے مجھ سے بچھڑ کر مر جانے کی ٹھانی تھی
عشق کی حالت کچھ بھی نہیں تھی بات بڑھانے کا فن تھا
لمحے لافانی ٹھیرے تھے قطروں کی طغیانی تھی
جس کو خود میں نے بھی اپنی روح کا عرفان سمجھا تھا
وہ تو شاید میرے پیاسے ہونٹوں کی شیطانی تھی
تھا دربارِ کلاں بھی اس کا نوبت خانہ اس کا تھا
تھی میرے دل کی جو رانی امروہے کی رانی تھی
جون ایلیا