ٹیگ کے محفوظات: دہر

دل خرابہ جیسے دلی شہر ہے

دیوان پنجم غزل 1775
دیدئہ گریاں ہمارا نہر ہے
دل خرابہ جیسے دلی شہر ہے
آندھی آئی ہو گیا عالم سیاہ
شور نالوں کا بلاے دہر ہے
دل جو لگتا ہے تڑپنے ہر زماں
اک قیامت ہے غضب ہے قہر ہے
بہ نہیں ہوتا ہے زخم اس کا لگا
آب تیغ یار یکسر زہر ہے
یاد زلف یار جی مارے ہے میر
سانپ کے کاٹے کی سی یہ لہر ہے
میر تقی میر

بالیں کی جاے ہر شب یاں سنگ زیر سر تھا

دیوان دوم غزل 700
ان سختیوں میں کس کا میلان خواب پر تھا
بالیں کی جاے ہر شب یاں سنگ زیر سر تھا
ان ابرو و مژہ سے کب میرے جی میں ڈر تھا
تیغ و سناں کے منھ پر اکثر مرا جگر تھا
ان خوبصورتوں کا کچھ لطف کم ہے مجھ پر
یک عمر ورنہ اس جا پریوں ہی کا گذر تھا
تیشے سے کوہکن کے کیا طرفہ کام نکلا
اپنے تو ناخنوں میں اس طور کا ہنر تھا
عصمت کو اپنی واں تو روتے ملک پھریں ہیں
لغزش ہوئی جو مجھ سے کیا عیب میں بشر تھا
کل ہم وہ دونوں یکجا ناگاہ ہو گئے تھے
وہ جیسے برق خاطف میں جیسے ابرتر تھا
ہوش اڑ گئے سبھوں کے شور سحر سے اس کے
مرغ چمن اگرچہ یک مشت بال و پر تھا
پھر آج یہ کہانی کل شب پہ رہ گئی ہے
سوتا نہ رہتا ٹک تو قصہ ہی مختصر تھا
رشک اس شہید کا ہے خضر و مسیح کو بھی
جو کشتہ اس کی جانب دوگام پیشتر تھا
ہشیاری اس کی دیکھو کیفی ہو مجھ کو مارا
تا سن کے سب کہیں یہ وہ مست و بے خبر تھا
صد رنگ ہے خرابی کچھ تو بھی رہ گیا ہے
کیا نقل کریے یارو دل کوئی گھر سا گھر تھا
تھا وہ بھی اک زمانہ جب نالے آتشیں تھے
چاروں طرف سے جنگل جلتا دہر دہر تھا
جب نالہ کش ہوا وہ تب مجلسیں رلائیں
تھا میر دل شکستہ یا کوئی نوحہ گر تھا
میر تقی میر

واقعہ ہے یہ ستمبر کی کسی سہ پہر کا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 65
ہانپتی ندی میں دم ٹوٹا ہوا تھا لہر کا
واقعہ ہے یہ ستمبر کی کسی سہ پہر کا
سرسراہٹ رینگتے لمحے کی سرکنڈوں میں تھی
تھا نشہ ساری فضا میں ناگنوں کے زہر کا
تھی صدف میں روشنی کی بوند تھرّائی ہوئی
جسم کے اند کہیں دھڑکا لگا تھا قہر کا
دل میں تھیں ایسے فساد آمادہ دل کی دھڑکنیں
ہو بھرا بُلوائیوں سے چوک جیسے شہر کا
آسماں اترا کناروں کو ملانے کے لئے
یہ بھی پھر دیکھا کہ پُل ٹوٹا ہوا تھا نہر کا
عیش بے معیاد ملتی، پر کہاں ملتی تجھے
میری مٹی کی مہک میں شائبہ ہے دہر کا
آفتاب اقبال شمیم

موج میں لہر میں ہم برہنہ ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 507
کشف کے قہر میں ہم برہنہ ہوئے
موج میں لہر میں ہم برہنہ ہوئے
رنگ گرتے رہے رقصِ مجذوب پر
نور کی نہر میں ہم برہنہ ہوئے
دیکھنے والا کوئی دکھائی نہ دے
اس لئے شہر میں ہم برہنہ ہوئے
واعظِ سگ بیاں سے نکلتی ہوئی
جھاگ کے زہر میں ہم برہنہ ہوئے
اک ابھی خاک سے شخص ڈھانپا گیا
اور پھر دہر میں ہم برہنہ ہوئے
اسم اللہ کا بس تصور کیا
پھر اُسی سحر میں ہم برہنہ ہوئے
ایک چہرہ اچانک گریزاں ہوا
غم کی دوپہر میں ہم برہنہ ہوئے
اور کیا کہتے منصور طوفان سے
شورشِ بحر میں ہم برہنہ ہوئے
منصور آفاق

یا فر اوہدے قد تے، دھوکا سی کجھ لہر دا

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 117
ہے سی ٹھاٹھاں مار دا، جوبن چڑھیا قہر دا
یا فر اوہدے قد تے، دھوکا سی کجھ لہر دا
ایہہ کی میں پیا ویکھناں، گُجھے درد حبیب توں
بازی لے لے جاوندا، دُکھڑا اک اک دہر دا
لگدا سی کر دئے گا، تھالی جنج دریاں نوں
پانی کنڈھیاں نال سی، مڑ مڑ کے اِنج کھیہر دا
اکھیاں وچ برسات جیہی، سرتے کالی رات جیہی
دل وچ اوہدی جھات جیہی، نقشہ بھری دوپہر دا
اکو سوہجھ خیال سی، چلدا نالوں نال سی
فکراں وچ ابال سی، قدم نئیں سی ٹھہر دا
سینے دے وچ چھیک سی‘ ڈاہڈا مِٹھڑا سیک سی
دل نوں اوہدی ٹیک سی، رنگ ائی ہورسی شہر دا
آئی تے اوہدے نال سی، پھُٹڈی پوہ وساکھ دی
گئی تے ماجدُ مکھ تے، سماں سی پچھلے پہر دا
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)