ٹیگ کے محفوظات: دہرانا

کس نے کس کو کتنا نیچا دِکھلانا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
عہد یہی اب اِنسانوں نے ٹھہرانا ہے
کس نے کس کو کتنا نیچا دِکھلانا ہے
چڑیوں نے ہے اپنی جان چھپائے پھرنا
شہبازوں نے اپنی دھونس پہ اِترانا ہے
دھوپ کے ہاتھوں اِن سے اوس کی نم چھننے پر
گرد نے پھولوں کو سہلانے آ جانا ہے
سورج کے ہوتے، جب تک محتاجِ ضیا ہے
چاند نے گھٹنا بڑھنا ہے اور گہنانا ہے
جانبِ تشنہ لباں پھر بڑھنے لگا مشکیزہ
جبر نے جِس پر تیر نیا پھر برسانا ہے
عاجز ہم اور قادر اور کوئی ہے ماجد
جیون بھر بس درس یہی اِک دہرانا ہے
ماجد صدیقی

لِیے کے لَوٹانے پر شور مچانا کیا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 44
پھل اور پُھول کے جھڑنے سے کترانا کیا
لِیے کے لَوٹانے پر شور مچانا کیا
آدم زاد ہوں میں، مردُودِ خدا بھی ہوں
کھو کر خود فردوسِ سکوں، پچتانا کیا
ڈالنی کیا مشکل میں سماعت شاہوں کی
بول نہ جو سمجھا جائے، دُہرانا کیا
بہرِ ترّحم جسم سے کچھ منہا بھی کرو
ہاتھ سلامت ہیں تو اُنہیں پَھیلانا کیا
سینکڑوں تَوجِیہیں ہیں جن کی خطاؤں پر
اپنے کئے پر شاہوں کا شرمانا کیا
بات سُجھاتی ہے تاریخ یہی اپنی
میدانوں میں اُتر کے پیٹھ دکھانا کیا
دیکھنے والوں کو ماجد! مت ہنسنے دو
پِٹ جائیں جو گال، اُنہیں سہلانا کیا
ماجد صدیقی

راہ میں کیسا یہ ویرانہ پڑا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 43
اپنی تنہائی پہ مر جانا پڑا
راہ میں کیسا یہ ویرانہ پڑا
کس طرف سے آئی تھی تیری صدا
ہر طرف تکنا پڑا، جانا پڑا
زندگی ہے، شورشیں ہی شورشیں
خود کو اکثر ڈھونڈ کر لانا پڑا
تیری رحمت سے ہوئے سب میرے کام
شکر ہے دامن نہ پھیلانا پڑا
کوئی دل کی بات کیا کہنے لگے
اپنا اک اک لفظ دہرانا پڑا
راستے میں اس قدر تھے حادثات
ہر قدم پھر دل کو سمجھانا پڑا
زندگی جیسے اسی کا نام ہے
اس طرح دھوکا کبھی کھانا پڑا
ہے کلی بے تاب کھلنے کے لئے
اور اگر کھلتے ہی مرجھانا پڑا
زندگی کا راز پانے کے لئے
زندگی کی راہ میں آنا پڑا
راستے سے اس قدر تھے بے خبر
مل گیا جو اس کو ٹھہرانا پڑا
دوستوں کی بے رُخی باقیؔ نہ پوچھ
دشمنوں میں دل کو بہلانا پڑا
باقی صدیقی