ٹیگ کے محفوظات: دھڑکن

وقت ہی سب کا محرم وقت ہی دشمن بھی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 59
جس سے بن بھی آئے، رہے ہے ان بن بھی
وقت ہی سب کا محرم وقت ہی دشمن بھی
ناداری دکھلائے سگی ماؤں میں بھی
اپنائیت بھی اور سوتیلا پن بھی
اپنے عزیز و اقارب راضی رکھنے کو
تن من بھی لگتا ہے، لگتا ہے دھن بھی
جیسے ہو بھونچال کا شور فضاؤں میں
گُونجے ہے یوں گاہے دل کی دھڑکن بھی
سب سے بڑا ہے داعیٔ امن بھی انساں ہی
اور انسانوں میں پڑتے ہیں رَن بھی
ناآگاہ ترے اخلاص سے اہلِ جہاں
کُھلا نہیں ماجِد اِن سب پہ ترا فن بھی
ماجد صدیقی

جاڑے میں رنگ و نور کا ایندھن تھا کون شخص

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 193
دھکے ہوئے لحاف کا دامن تھا کون شخص
جاڑے میں رنگ و نور کا ایندھن تھا کون شخص
خود ہی میں گھیر لایا تھا اڑتا ہوا وہ تیر
میرے علاوہ زخم کا ساجن تھا کون شخص
کچھ یاد آرہا ہے محبت مجھے بھی تھی
مری نظر تھا کون وہ دھڑکن تھا کون شخص
ممکن نہیں ہے پھینکے وہ پتھر مری طرف
کھڑکی میں یار کی مرا دشمن تھا کون شخص
منصور بزمِ یار میں میری طرح وجیہہ
برخاستن سے پہلے وہ گفتن تھا کون شخص
منصور آفاق