ٹیگ کے محفوظات: دھوم

واں گئے کیا ہو کچھ نہیں معلوم

دیوان ششم غزل 1837
کھا گئی یاں کی فکر سو موہوم
واں گئے کیا ہو کچھ نہیں معلوم
وصل کیونکر ہو اس خوش اختر کا
جذب ناقص ہے اور طالع شوم
نہ ہوئے تھے ابھی جواں افسوس
صبر مغفور و طاقت مرحوم
جب غبار اپنے دل کا نکلے ہے
دیر رہتی ہے آندھی کی سی دھوم
بھیگی اس کی مسوں کی خوبی سے
بے حواسی ہے ہم کو جوں مسموم
ہے عبث یہ تردد و تشویش
پہنچے ہے وقت پر جو ہے مقسوم
ہاتھ سے وے گئے جو سیمیں ساق
ہم رہے سر بہ زانوے مغموم
صاحب اپنا ہے بندہ پرور میر
ہم جہاں سے نہ جائیں گے محروم
میر تقی میر

متفرق اشعار

آفتاب اقبال شمیم ۔

متفرق اشعار
حیران ہوں کرشمۂ خطاط دیکھ کر
یہ چشم و لب ہیں یا کوئی آیت لکھی ہوئی
سر پھوڑیے ضرور مگر احتیاط سے
دیوار پر یہی ہے ہدایت لکھی ہوئی

ایّام کی کتاب میں مرقوم کچھ نہیں
کیا مقصدِ وجود ہے معلوم کچھ نہیں
رہ جائے گا سماں وہی میلے کی شام کا
یہ سب ہجوم اور یہ سب دھوم کچھ نہیں

تم ابھی چُپ رہو صبر خود بولتا ہے
نشۂ خون میں ، جبر خود بولتا ہے
شرط ہے تن پہ اک تازیانہ لگے
زیرِ زورِ ہوا ابر خود بولتا ہے
آفتاب اقبال شمیم