ٹیگ کے محفوظات: دھوتے

ایک رہتا ایک کھوتے عشق میں

دیوان دوم غزل 881
کاشکے دل دو تو ہوتے عشق میں
ایک رہتا ایک کھوتے عشق میں
پاس ظاہر ٹک نہ کرتے شب تو ہم
بھر رہے تھے خوب روتے عشق میں
خواب میں دیکھا اسی کو ایک رات
برسوں کاٹے ہم نے سوتے عشق میں
کاش پی جایا ہی کرتے اشک کو
داغ دل پر کے تو دھوتے عشق میں
دیکھے ہیں کیا کیا ڈھلکتے اشک میر
بیٹھے موتی سے پروتے عشق میں
میر تقی میر

آنکھیں پھر جائیں گی اب صبح کے ہوتے ہوتے

دیوان اول غزل 558
رات گذرے ہے مجھے نزع میں روتے روتے
آنکھیں پھر جائیں گی اب صبح کے ہوتے ہوتے
کھول کر آنکھ اڑا دید جہاں کا غافل
خواب ہوجائے گا پھر جاگنا سوتے سوتے
داغ اگتے رہے دل میں مری نومیدی سے
ہارا میں تخم تمنا کو بھی بوتے بوتے
جی چلا تھا کہ ترے ہونٹ مجھے یاد آئے
لعل پائیں ہیں میں اس جی ہی کے کھوتے کھوتے
جم گیا خوں کف قاتل پہ ترا میر زبس
ان نے رو رو دیا کل ہاتھ کو دھوتے دھوتے
میر تقی میر

صبح چپ ہے پرندوں کے ہوتے ہوئے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 503
شب گزار آئے گلیوں میں روتے ہوئے
صبح چپ ہے پرندوں کے ہوتے ہوئے
ہم نے دریا کا پانی بھی کالا کیا
دکھ کے کپڑے کناروں پہ دھوتے ہوئے
چاپ مانوس سی،صحنِ دل میں اٹھی
غم نکل آئے کمروں میں سوتے ہوئے
ہم نے ہر ایک کانٹے کا دکھ سن لیا
پاؤں کے آبلوں میں چبھوتے ہوئے
ہم نے دیکھا تھا کتنی جگہ ہے ابھی
تیراغم اپنے دل میں سموتے ہوئے
اب یہ دنیا بچوں کے حوالے کریں
بیج سچ کے دماغوں میں بوتے ہوئے
رفتہ رفتہ کیا راکھ بینائی کو
اپنی پلکوں میں سورج پروتے ہوئے
اپنی شادی شدہ زندگی کی قسم
جیسے کولہو میں دو بیل جوتے ہوئے
خالی فائر گیا اُس نظر کا مگر
جو اڑے میرے ہاتھوں کے طوتے ہوئے
ہم نے منصور مانگا ہے اذنِ کلام
آسماں کو دعا سے بھگوتے ہوئے
منصور آفاق