ٹیگ کے محفوظات: دھرنے

آنکھ میں اک نمی سی اُبھرنے لگی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 153
اب کے اُمید یُوں بھی نکھرنے لگی
آنکھ میں اک نمی سی اُبھرنے لگی
یہ اثر بھی ہے شاید مری آہ کا
آسماں سے بھی ہے آگ اُترنے لگی
خود تو اُجڑا مگر جس پہ تھا گھونسلا
شاخ تک وہ شجر پر بکھرنے لگی
نسلِ آدم ہوئی سنگ دل اور بھی
جب سے پاؤں سرِ ماہ دھرنے لگی
پیڑ کو جو سزا بھی ہوئی، ہو گئی
رُت کہاں اُس میں تخفیف کرنے لگی
کچھ دنوں سے ہے وہ سہم سا رُوح میں
سانپ سے جیسے چڑیا ہو ڈرنے لگی
یہ بھی دن ہیں کہ اَب اُس کے دیدار کی
بھوک بھی جیسے ماجدؔ ہے مرنے لگی
ماجد صدیقی

کہ زندہ جہاں لوگ مرنے کو تھے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 289
طلسمات تھا شہ سواروں کا شہر
کہ زندہ جہاں لوگ مرنے کو تھے
کرامت کوئی ہونے والی تھی رات
فقیر اس گلی سے گزرنے کو تھے
ادھر تیر چلنے کو تھے بے قرار
ادھر سارے مشکیزے بھرنے کو تھے
ذرا کشتگاں صبر کرتے تو آج
فرشتوں کے لشکر اترنے کو تھے
سمندر ادا فہم تھا‘ رک گیا
کہ ہم پاؤں پانی پہ دھرنے کو تھے
اگر ان کی بولی سمجھتا کوئی
تو دیوار و در بات کرنے کو تھے
ہوا نے ٹھکانے لگایا ہمیں
ہم اک چیخ تھے اور بکھرنے کو تھے
عرفان صدیقی