ٹیگ کے محفوظات: دھرتی

اپنے اندر کے جنگل میں گم ہو جانے سے ڈرتی ہوں

نینا عادل ۔ غزل نمبر 12
ہے بال و پر میں وحشت سی، بے سمت اڑانیں بھرتی ہوں
اپنے اندر کے جنگل میں گم ہو جانے سے ڈرتی ہوں
پھر آس کا دریا بہتا ہے، پھر سبزہ اُگ اُگ آتا ہے
پھر دھوپ کنارے بیٹھی میں اک خواب کی چھاگل بھرتی ہوں
کیوں آگ دہکتی ہے مجھ میں، کیوں بارش ہوتی ہے مجھ میں
جب دھیان سے ملتی ہوں تیرے، جب تیرے من میں اترتی ہوں
کب مجھ کو رہائی ملنی تھی، ناحق جو قفس بھی توڑ دیا
بج اٹھتی ہیں زنجیریں سی یہ پاؤں جہاں بھی دھرتی ہوں
اک پھول کی پتّی کا بستر، اک اوس کے موتی کا تکیہ
تتلی کے پروں کو اوڑھ کے میں خوابوں میں آن ٹھہرتی ہوں
دل غم سے رہائی چاہتا ہے اور وہ بھی جیتے جی صاحب
پھر تجھ میں پنہ لے لیتی ہوں پھر خود سے کنارہ کرتی ہوں
ہیں ناگ کا پھن کالی راتیں، لمحہ لمحہ ڈستی جاویں
سو بار تڑپتی ہوں صاحب سو بار میں جیتی مرتی ہوں
نینا عادل

کبھی چراغ بھی چلتا ہے اس حویلی میں

شکیب جلالی ۔ غزل نمبر 41
خزاں کے چاند نے پوچھا یہ جھک کے کھڑکی میں
کبھی چراغ بھی چلتا ہے اس حویلی میں
یہ آدمی ہیں کہ سائے ہیں آدمیت کے
گزر ہوا ہے مرا کس اجاڑ بستی میں
جھکی چٹان پھسلتی گرفت جھولتا جسم
میں اب گرا ہی گرا تنگ و تار گھاٹی میں
زمانے بھر سے نرالی ہے آپ کی منطق
ندی کو پار کیا کس نے الٹی کشتی میں
جلائے کیوں اگر اتنے ہی قیمتی تھے خطوط
کریدتے ہو عبث راکھ اب انگیٹھی میں
عجب نہیں جو اگیں یاں درخت پانی کے
کہ اشک بوئے ہیں شب بھر کسی نے دھرتی میں
مری گرفت میں آکر نکل گئی تتلی
پروں کے رنگ مگر رہ گئے ہیں مٹھی میں
چلو گے ساتھ مرے آگہی کی سرحد تک؟
یہ رہ گزار اترتی ہے گہرے پانی میں
میں اپنی بے خبری سے شکیب واقف ہوں
بتاؤ پیچ ہیں کتنے تمہاری پگڑی میں
شکیب جلالی

میری ایسی کبھی دھرتی تو نہ تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 486
خون سے اتنی سنورتی تو نہ تھی
میری ایسی کبھی دھرتی تو نہ تھی
چاند کھڑکی سے نکل آتا تھا
رات سیڑھی سے اترتی تو نہ تھی
موج ٹکراتی تھی ساحل سے مگر
ایسے سینے سے ابھرتی تو نہ تھی
یہ درِ یار پہ کیسا تھاہجوم
نئے عشاق کی بھرتی تو نہ تھی
لوگ کہتے ہیں محبت پہلے
اتنی آسانی سے مرتی تو نہ تھی
منصور آفاق