ٹیگ کے محفوظات: دھجیاں

اور نا خلف کے منہ سے مِلیں، گالیاں الگ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 4
ہوتا ہے ایسے ربط سے جی کا زیاں الگ
اور نا خلف کے منہ سے مِلیں، گالیاں الگ
ہونے کو ہو تو جائے ادا ایک فرضِ خاص
ماں باپ بھی ہوں خاک بہ سر، بیٹیاں الگ
جاتی ہے اپنی کم نظری سے اِدھر جو آن
اُڑتی ہیں جسم و جاں کی اُدھر دھجیاں الگ
ڈالی جو خاک سر پہ ہمارے، زمین نے
برسا کیا ہے ہم پہ اُدھر آسماں الگ
توقیر بھی بدلتی ہے، تحقیر میں کبھی
حالات جس طرح کا بھی دے دیں نشاں الگ
لیکھوں میں شخص شخص کے لکّھی ملے یہاں
ناطے سے بِنت بِنت کے اِک داستاں الگ
ہم گُل بہ کف تھے، سنگ بہ کف مل گئے ہمیں
اُترا ہے اب کے آنکھ میں ماجد سماں الگ
ماجد صدیقی

ہر قدم پر ہیں کیا کیا نئی تتلیاں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 56
خواہش لمس میں جن کے جاتی ہے جاں
ہر قدم پر ہیں کیا کیا نئی تتلیاں
اے ہوا! بارآور ہوئی ہٹ تِری
لے اُڑا لے گلِ زرد کی پتیاں
صحنِ گلشن میں گرداں ہیں جو چار سُو
جانے کِن عہد ناموں کی ہیں دھجیاں
پُوچھتے کیا ہو تم بس میں انسان کے
کِن درندوں کی ہیں خون آشامیاں
آئنہ، روز دکھلائے ماجدؔ ہمیں
سیلِ آلام کے جانے، کیا کیا نشاں
ماجد صدیقی

کہ ایسی بھیڑ میں جاؤ گے پیشِ حق کہاں ہو کر

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 45
یہ کہہ کر حشر میں وہ رو دیا کچھ بد گماں ہو کر
کہ ایسی بھیڑ میں جاؤ گے پیشِ حق کہاں ہو کر
یہ بچپن ہے جو پیش آتے ہو مجھ سے مہرباں ہو کر
نگاہیں کہہ رہیں ہیں آنکھ بدلو گے جواں ہو کر
کیا دستِ جنوں کو پیرہن نے جا بجا رسوا
گلی کوچوں میں دامن اڑ رہے ہیں دھجیاں ہو کر
چلا تھا توڑ کر زنجیر کو جب تیرا سودائی
خیالِ حلقۂ گیسو نے روکا بیڑیاں ہو کر
خدا رکھے تمھیں رنگِ حنا سے اتنا ڈرتے ہو
ابھی تو سینکڑوں کے خوں بہانے ہیں جواں ہو کر
خرامِ راز میں پنہاں نہ جانے کیسے محشر ہیں
وہیں اِک حشر ہوتا ہے نکلتے ہوں جہاں ہو کر
پریشاں بال، آنسو آنکھ میں، اتری ہوئی صورت
نصیبِ دشمناں ایسے میں آئے ہو کہاں ہو کر
قمر دل کو بچا کر لے گئے تھے تیر مژگاں سے
مگر ترچھی نگاہیں کام آئیں برچھیاں ہو کر
قمر جلالوی