ٹیگ کے محفوظات: دھاگے

ہے ایک اور ہوا، اس ہوا سے آگے بھی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 50
ہوا سلائے جسے خاک میں وہ جاگے بھی
ہے ایک اور ہوا، اس ہوا سے آگے بھی
نئی زمینیں ، نئے عفش منتظر ہیں ترے
جو طے شدہ ہے اُسے تو کبھی تیاگے بھی
بعید فہم ہے منطق ہمارے رشتوں کی
کہ پختہ نکلیں کبھی رسیوں سے دھاگے بھی
سما سکی ہے کہاں شر کی فربہی اس میں
کبھی یہ خیر کا کپڑا بدن پہ لاگے بھی
رُکے تو خود کو وہی اپنے رُوبرو پایا
ہم اپنے آپ سے وحشت میں اتنا بھاگے بھی
آفتاب اقبال شمیم