ٹیگ کے محفوظات: دھاک

دھوپ کی زرّیں قبا سو سو جگہ سے چاک تھی

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 70
تنگ سائے کے بدن پر کس قدر پوشاک تھی
دھوپ کی زرّیں قبا سو سو جگہ سے چاک تھی
در پہ ہوتی ہی رہیں بن کھٹکھٹائے دستکیں
ایک نامعلوم اندیشے کی گھر میں دھاک تھی
شہرِ دل میں تھا عجب جشنِ چراغاں کا سماں
ٹمٹماتی گرم بوندوں سے فضا نمناک تھی
مدتوں سے آشتی اپنی تھی اپنے آپ سے
اس رواداری میں لیکن عافیت کیا خاک تھی
تھے حدِ امکاں سے باہر بھی ارادے کے ہدف
حادثوں کو ورنہ کیوں دائم ہماری تاک تھی
ہم نے پایا تجربے کا بےبہا انعام تو
گو شکستِ خواب کی ساعت اذیت ناک تھی
حال آزادوں کو دورِ جبر میں کیا پوچھنا
اس فضا میں تو ہوا بھی حبس کی خوراک تھی
آفتاب اقبال شمیم

اُس سمت امیرِ مقتل بھی، ہے خصلت میں سفّاک بہت

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 22
اس سمت محلے گلیوں کے یہ لڑکے ہیں بیباک بہت
اُس سمت امیرِ مقتل بھی، ہے خصلت میں سفّاک بہت
ان سڑکوں پر جب خون بہا اور جب شاخیں بے برگ ہوئیں
دیکھا کہ پرانے قصّہ گو، کی آنکھیں تھیں نمناک بہت
آزاد ہے اُس کے قبضے سے تا حال علاقہ جذبوں کا
ویسے تو جہاں پر بیٹھی ہے اُس زور آور کی دھاک بہت
وُہ اوّل اوّل دیوانہ، تھا آخر آخر فرزانہ
اے دنیا! تیرا کیا کہنا، تو نکلی ہے چالاک بہت
کوتاہ نظر کا رشتہ ہے اور نوک ہنر بھی تیز نہیں
کچھ وقفۂ ہستی تھوڑا ہے اور سینے کو ہیں چاک بہت
دائم ناداری پیسوں کی اور یاری اپنے جیبوں کی
آئے ہیں ہمارے حصے میں اسباب بہت، اِملاک بہت
اکثر یہ شکایت کی ہم سے، اس شہر کے خوش پوشاکوں نے
وُہ جنم جنم کا آوارہ رستے میں اُڑانے خاک بہت
آفتاب اقبال شمیم