ٹیگ کے محفوظات: دھارے

نوازیں گے بڑھ کر اسے خود کنارے

بڑھے گا جو طوفان میں بے سہارے
نوازیں گے بڑھ کر اسے خود کنارے
جوانی سے ٹکرا رہی ہے جوانی
تمنا میں حل ہو رہے ہیں شرارے
نگاہیں اٹھا کر کسی نے جو دیکھا
وہیں دم بخود ہو گئے ماہ پارے
سنا جب کسی نے مرا قصہِ غم
گرے آنکھ سے ٹوٹ کر دو ستارے
حوادث میں ملتی ہے مجھ کو مسّرت
میں طوفاں میں پیدآ کروں گا کنارے
وہ دن حاصلِ عشق و اُلفت ہیں ہمدم
کہ جو میں نے فُرقت میں ان کی گزارے
ہوا جن پہ نفرت کا دھوکا جہاں کو
محبت نے ایسے بھی کچھ روپ دھارے
ذرا کوئی سازِ محبت تو چھیڑے
عجب کیا جو گانے لگیں یہ نظارے
کہیں محورِ غم، کہیں روحِ نغمہ
شکیبؔ! ان کی نظروں کے رنگیں اشارے
شکیب جلالی

‎محرومی کے بوجھ تلے بے چارے رہتے ہیں

اپنی اپنی مجبوری سے ہارے رہتے ہیں
‎محرومی کے بوجھ تلے بے چارے رہتے ہیں
‎بھوک، معاشی بدحالی اور بیماری سے تنگ
‎دونوں ہی ملکوں میں غم کے مارے رہتے ہیں
‎کون بھلا پھیلائےامن و محبت کا پیغام
‎شاعر بن کر نفرت کے ہرکارے رہتے ہیں
‎میرے پیارے ہی رہتے ہیں سرحد کے اِس پار
‎سرحد کے اُس پار بھی میرے پیارے رہتے ہیں
‎دن بھر پھرتے رہتے ہیں لاھور کی گلیوں میں
‎رات کو ہم دلّی میں پاؤں پسارے رہتے ہیں
‎آپ کے پیارے بلھے شاہ کا مسکن اِدھر قصور
‎اور اُدھر غالب اور میر ہمارے رہتے ہیں
‎ایک ہی ساگر بنتا ہے پانی کا انت پڑاؤ
‎الگ الگ چاہے دریا کے دھارے رہتے ہیں
عرفان ستار

زندہ ہیں راندۂ درگاہ تمہارے کیسے

پوچھ تو لیتے کہ ہیں درد کے مارے کیسے
زندہ ہیں راندۂ درگاہ تمہارے کیسے
اُن کی نفرت سے ملا میری محبت کو فروغ
رُخ مخالف ہی سہی، تند ہیں دھارے کیسے
لوگ مُنہ سے نہ کہیں دل میں تو سوچیں گے ضرور
ڈوبنے والوں نے پائے تھے سہارے کیسے
اہلِ اخلاص و محبت پہ عنایت کیجے
حسرتِ دید میں بیٹھے ہیں بِچارے کیسے
درد مندانِ محبت کی نہ غایت نہ غرض
کیسے فریاد کرے کوئی پکارے کیسے
بے رُخی ایک محبت ہی کا رُخ ہے ضامنؔ
چشمِ محتاط میں ہوتے ہیں اشارے کیسے
ضامن جعفری

پلکوں پہ وُہ جھلمل سے سارے، مری توبہ

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 20
رنجش میں پسِ چشم اشارے، مری توبہ
پلکوں پہ وُہ جھلمل سے سارے، مری توبہ
کس درجہ سبکسار کیا، جذبِ جنوں کو
محفل سے وُہ رخصت کیا اِشارے، مری توبہ
اظہارِ تمّنا ہی کیا تھا مگر اُس پر
انداز عتابی وہ تمہارے، مری توبہ
سُرخی سی لب و چشم میں وہ طیش و حیا کی
بپھرے ہوئے دریا کے کنارے، مری توبہ
اک شور سا رَگ رَگ میں، تمازت دل و جاں میں
آثار قیامت کے وُہ سارے، مری توبہ
جو پیکرِ اُمید تھا دل میں وُہی شق تھا
تھیں شوخ نگاہیں کہ وُہ آرے، مری توبہ
ماجدؔ سرِ اغیار جو گزری وُہی لکھے
کیا رُوپ قلم نے ترے دھارے، مری توبہ
ماجد صدیقی

بازخواہ خوں نہ تھا مارے گئے مارے گئے

دیوان پنجم غزل 1773
بے کسان عشق تھے ہم غم میں کھپ سارے گئے
بازخواہ خوں نہ تھا مارے گئے مارے گئے
بار کل تک ناتوانوں کو نہ تھا اس بزم میں
گرتے پڑتے ہم بھی عاجز آج واں بارے گئے
چھاتی میری سرد آہوں سے ہوئی تھی سب کرخت
استخواں اب اس کے اشک گرم سے دھارے گئے
بخت جاگے ہی نہ ٹک جو ہو خبر گھر میں اسے
صبح تک ہم رات دیواروں سے سر مارے گئے
میر قیس و کوہکن ناچار گذرے جان سے
دو جہاں حسرت لیے ہمراہ بیچارے گئے
میر تقی میر

آنکھ کے ایک کنارے پر رک جاتے ہیں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 383
ٹوٹنے والے تارے پر رک جاتے ہیں
آنکھ کے ایک کنارے پر رک جاتے ہیں
وقت کی تیز ٹریفک چلتی رہتی ہے
ہم ہی سرخ اشارے پر رک جاتے ہیں
جب میں سطحِ آب پہ چلتا پھرتا ہوں
دیکھ کے لوگ کنارے پر رک جاتے ہیں
ہم ایسوں کے کون مقابل آئے گا
ہم طوفان کے دھارے پر رک جاتے ہیں
روز نکلتے ہیں مہتاب نگر میں ہم
لیکن ایک ستارے پر رک جاتے ہیں
اڑتے اڑتے گر پڑتے ہیں آگ کے بیچ
شام کے وقت ہمارے پر رک جاتے ہیں
منصور آفاق