ٹیگ کے محفوظات: دھاریں

رک کر پھوٹ بہیں جو آنکھیں رود کی سی دو دھاریں ہیں

دیوان پنجم غزل 1697
دل کی تہ کی کہی نہیں جاتی کہیے تو جی ماریں ہیں
رک کر پھوٹ بہیں جو آنکھیں رود کی سی دو دھاریں ہیں
حرف شناس نہ تھے جب تم تو بے پرسش تھا بوسۂ لب
ایک اک بات کی مشتاقوں سے سو سو اب تکراریں ہیں
عشق کے دیوانے کی سلاسل ہلتی ہے تو ڈریں ہیں ہم
بگڑے پیل مست کی سی زنجیروں کی جھنکاریں ہیں
وے بھوویں جیدھر ہوں خمیدہ اودھر کا ہے خدا حافظ
یعنی جوہردار جھکی خوں ریز کی دو تلواریں ہیں
وے وے جن لوگوں کو پھرتے آنکھوں ہم نے دیکھا تھا
حد نظر تک آج انھوں کی گرد شہر مزاریں ہیں
پیچ و تاب میں بل کھا کھاکر کوئی مرے یاں ان کو کیا
واں وے لیے مشاطہ کو یکسو بال ہی اپنے سنواریں ہیں
بڑے بڑے تھے گھر جن کے یاں آثار ان کے ہیں یہ اب
میر شکستہ دروازے ہیں گری پڑی دیواریں ہیں
میر تقی میر

یہیں آگے بہاریں ہو گئی ہیں

دیوان اول غزل 354
جہاں اب خارزاریں ہو گئی ہیں
یہیں آگے بہاریں ہو گئی ہیں
جنوں میں خشک ہو رگ ہاے گردن
گریباں کی سی تاریں ہو گئی ہیں
سنا جاتا ہے شہر عشق کے گرد
مزاریں ہی مزاریں ہو گئی ہیں
اسی دریاے خوبی کا ہے یہ شوق
کہ موجیں سب کناریں ہو گئی ہیں
انھیں گلیوں میں جب روتے تھے ہم میر
کئی دریا کی دھاریں ہو گئی ہیں
میر تقی میر

فریاد کریں کس سے کہاں جاکے پکاریں

دیوان اول غزل 350
کر نالہ کشی کب تئیں اوقات گذاریں
فریاد کریں کس سے کہاں جاکے پکاریں
ہر دم کا بگڑنا تو کچھ اب چھوٹا ہے ان سے
شاید کسی ناکام کا بھی کام سنواریں
دل میں جو کبھو جوش غم اٹھتا ہے تو تا دیر
آنکھوں سے چلی جاتی ہیں دریا کی سی دھاریں
کیا ظلم ہے اس خونی عالم کی گلی میں
جب ہم گئے دوچار نئی دیکھیں مزاریں
جس جا کہ خس و خار کے اب ڈھیر لگے ہیں
یاں ہم نے انھیں آنکھوں سے دیکھیں ہیں بہاریں
کیونکر کے رہے شرم مری شہر میں جب آہ
ناموس کہاں اتریں جو دریا پہ ازاریں
وے ہونٹ کہ ہے شور مسیحائی کا جن کی
دم لیویں نہ دوچار کو تا جی سے نہ ماریں
منظور ہے کب سے سرشوریدہ کا دینا
چڑھ جائے نظر کوئی تو یہ بوجھ اتاریں
بالیں پہ سر اک عمر سے ہے دست طلب کا
جو ہے سو گدا کس کنے جا ہاتھ پساریں
ان لوگوں کے تو گرد نہ پھر سب ہیں لباسی
سوگز بھی جو یہ پھاڑیں تو اک گز بھی نہ واریں
ناچار ہو رخصت جو منگا بھیجی تو بولا
میں کیا کروں جو میر جی جاتے ہیں سدھاریں
میر تقی میر