ٹیگ کے محفوظات: دھاروں

کہ جیسے عکس پڑے جھیل میں ستاروں کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 16
وہ رنگ اپنے سخن میں ہے استعاروں کا
کہ جیسے عکس پڑے جھیل میں ستاروں کا
گلی سے جسم کنول سا نظر پڑا تھا جہاں
گزشتہ رات وہاں جمگھٹا تھا کاروں کا
رمِ حیات کہ بیساکھیوں میں اُترا ہے
کسی کو زعم دکھائے گا کیا سہاروں کا
ورق ورق پہ لکھا حال یُوں سفر کا لگے
گماں ہو خاک پہ جیسے لہو کی دھاروں کا
کھُلے نہ ہم پہ کہ ماجدؔ ہمارے حق میں ہی
رہے ہمیشہ گراں کیوں مزاج یاروں کا
ماجد صدیقی

نکلا چاند بھی گہنایا ہے سازش سے اندھیاروں کی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 97
‮بے معنی بے کیف ہوئی ہے آنکھ مچولی تاروں کی
نکلا چاند بھی گہنایا ہے سازش سے اندھیاروں کی
ژالے، سیل، بگولے، بارش، شور مچاتی سرد ہوا
لمبی ہے فہرست بڑی اِس گلشن کے آزاروں کی
ایوانوں کی چبھتی چھاؤں ہے ہر سمت گھروندوں پر
رہگیروں کے ماتھوں پر ہے دُھول لپکتی کاروں کی
دعوے دار وفاؤں کے تو پہنچے، نئی مچانوں پر
جانے کس پر آنکھ لگی ہے ہم اخلاص کے ماروں کی
رُت رُت کا فیضان مقدّر ٹھہرے اُن ہی لوگوں کا
رکھتے ہیں جو اہلِ نظر پہچان بدلتے دھاروں کی
اُس کے وصل کا قصّہ ہم نے جن لفظوں میں ڈھالا ہے
در آئی اُن لفظوں میں بھی حدّت سی انگاروں کی
جب تک خون میں دھڑکن ہے جب تک یہ نطق سلامت ہے
ٹوٹ نہیں سکتی ہے ماجدؔ ہم سے سانجھ نگاروں کی
ماجد صدیقی