ٹیگ کے محفوظات: دگر

شہرِ خوباں سے کوئی اچّھی خبر آتی نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 36
خواب میں آئے بہ دستِ نامہ بر آتی نہیں
شہرِ خوباں سے کوئی اچّھی خبر آتی نہیں
چہچہاتی ہیں تمنّاؤں کی چڑیاں چار سُو
شب بھی کچھ گہری نہیں لیکن سحر آتی نہیں
راہِ فرش و عرش جب ہوتی ہے قدموں کے تلے
زندگی میں وہ گھڑی بارِ دگر آتی نہیں
دیکھ کر لپکے جو ہونٹوں پر تبسّم کے گلاب
کوئی تتلی اب سرِ شاخِ نظر آتی نہیں
ماجد صدیقی

کب نصیبوں میں اپنے سحر دیکھنا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 42
گُل تمنّاؤں کے شاخ پر دیکھنا
کب نصیبوں میں اپنے سحر دیکھنا
دیکھنا نطق کلیوں سے چھَنتا ہوا
بے زباں باغ میں ہر شجر دیکھنا
شرط ٹھہری ہے گلشن میں اپنے لئے
کوئی منظر ہو با چشمِ تر دیکھنا
آب جذبوں کی آنکھوں میں سمٹی ہوئی
سیپیوں میں دمکتے گہر دیکھنا
دے گئی اُڑ کے تتلی سکوں کی ہمیں
کُو بہ کُو جھانکنا، در بہ در دیکھنا
دیکھ لینے پہ تجھ عید کے چاند کو
ہم پہ لازم ے بارِ دگر دیکھنا
لوگ ماجدؔ! ہیں معتوب ایسے سبھی
دیکھنا! تم بھی ہو باہنر، دیکھنا
ماجد صدیقی

جلوہ ترا برنگِ دِگر دیکھتا رہوں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 30
گہ تجھ کو، گاہ نورِ سحر دیکھتا رہوں
جلوہ ترا برنگِ دِگر دیکھتا رہوں
دِل کے دئیے سے اُٹھتی رہیں یاد کی لَویں
تیرا جمال شعلہ بہ سر دیکھتا رہوں
پل پل برنگِ برق ترا سامنا رہے
رہ رہ کے اپنی تابِ نظر دیکھتا رہوں
پہروں رہے خیال ترا ہمکنار دل
دن رات تیری راہگزر دیکھتا رہوں
ماجدؔ سناؤں شہر بہ تشریح اب کِسے
اِس سے تو آپ اپنا ہنر دیکھتا رہوں
ماجد صدیقی

چاند اُبھرے گا مگر آخرِ شب

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 58
جگمگائیں گے نگر آخر شب
چاند اُبھرے گا مگر آخرِ شب
سانس کی نَے سے پکارے گا تجھے
غم باندازِ دِگر آخرِ شب
طے کرے گی رُخِ جاناں کی ضیا
دل سے آنکھوں کا سفر آخر شب
خامشی گرد کی صورت پس و پیش
چاندنی خاک بہ سر آخرِ شب
پرتوِ کاہکشاں ٹھہرے گی
پیار کی راہگزر آخرِ شب
دل کو ویراں ہی نہ کر دے ماجدؔ
آرزوؤں کا مفر آخرِ شب
ماجد صدیقی

اک طبیعت ہے کہ آزارِ ہنر کھینچتی ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 96
ایک دنیا کی کشش ہے جو اُدھر کھینچتی ہے
اک طبیعت ہے کہ آزارِ ہنر کھینچتی ہے
ایک جانب لیے جاتی ہے قناعت مجھ کو
ایک جانب ہوسِ لقمۂ تر کھینچتی ہے
اک بصیرت ہے کہ معلوم سے آگے ہے کہیں
اک بصارت ہے کہ جو حدِ نظر کھینچتی ہے
ہجر کا عیش کہاں ہے مری قسمت میں کہ اب
زندگی رنج بہ اندازِ دگر کھینچتی ہے
ایک منزل ہے جو امکان سے باہر ہے کہیں
کیا مسافت ہے کہ بس گردِ سفر کھینچتی ہے
ایک خواہش ہے جسے سمت کا ادراک نہیں
اک خلش ہے جو نہ معلوم کدھر کھینچتی ہے
اک طرف دل کا یہ اصرار کہ خلوت خلوت
اک طرف حسرتِ تسکینِ نظر کھینچتی ہے
عرفان ستار

جیسے دکھائی دے کوئی صورت، مگر نہ ہو

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 24
اس طرح دیکھتا ہوں اُدھر وہ جدھر نہ ہو
جیسے دکھائی دے کوئی صورت، مگر نہ ہو
یہ شہرِ نا شناس ہے کیا اس کا اعتبار
اچھا رہے گا وہ جو یہاں معتبر نہ ہو
ایسے قدم قدم وہ سراپا غرور ہے
جیسے خرامِ ناز سے آگے سفر نہ ہو
میں آج ہوں سو مجھ کو سماعت بھی چاہیے
ممکن ہے یہ سخن کبھی بارِ دگر نہ ہو
ہونے دو آج شاخِ تمنا کو بارور
ممکن ہے کل صبا کا یہاں سے گزر نہ ہو
میں بھی دکھائوں شوق کی جولانیاں تجھے
یہ مشتِ خاک راہ میں حائل اگر نہ ہو
اک یہ فریب دیکھنا باقی ہے وقت کا
دل ڈوب جائے اور دوبارہ سحر نہ ہو
یہ کیا کہ ہم رکاب رہے خوفِ رہ گزر
کس کام کا جنوں جو قدم دشت بھر نہ ہو
عرفان ستار

کچھ یار کے آنے کی مگر گرم خبر ہے

دیوان پنجم غزل 1726
آنکھوں کی طرف گوش کی در پردہ نظر ہے
کچھ یار کے آنے کی مگر گرم خبر ہے
یہ راہ و روش سرو گلستاں میں نہ ہو گی
اس قامت دلچسپ کا انداز دگر ہے
یہ بادیۂ عشق ہے البتہ ادھر سے
بچ کر نکل اے سیل کہ یاں شیر کا ڈر ہے
وہ ناوک دلدوز ہے لاگو مرے جی کا
تو سامنے ہو ہمدم اگر تجھ کو جگر ہے
کیا پھیل پڑی مدت ہجراں کو نہ پوچھو
مہ سال ہوا ہم کو گھڑی ایک پہر ہے
کیا جان کہ جس کے لیے منھ موڑیے تم سے
تم آؤ چلے داعیہ کچھ تم کو اگر ہے
تجھ سا تو سوار ایک بھی محبوب نہ نکلا
جس دلبر خودکام کو دیکھا سو نفر ہے
شب شور و فغاں کرتے گئی مجھ کو تو اب تو
دم کش ہو ٹک اے مرغ چمن وقت سحر ہے
سوچے تھے کہ سوداے محبت میں ہے کچھ سود
اب دیکھتے ہیں اس میں تو جی ہی کا ضرر ہے
شانے پہ رکھا ہار جو پھولوں کا تو لچکی
کیا ساتھ نزاکت کے رگ گل سی کمر ہے
کر کام کسو دل میں گئی عرش پہ تو کیا
اے آہ سحرگاہ اگر تجھ میں اثر ہے
پیغام بھی کیا کریے کہ اوباش ہے ظالم
ہر حرف میاں دار پہ شمشیر و سپر ہے
ہر بیت میں کیا میر تری باتیں گتھی ہیں
کچھ اور سخن کر کہ غزل سلک گہر ہے
میر تقی میر

سو پر وا ہوئے نہ قفس کے بھی در پر

دیوان پنجم غزل 1609
بھروسا اسیری میں تھا بال و پر پر
سو پر وا ہوئے نہ قفس کے بھی در پر
سواران شائستہ کشتے ہیں تیرے
نہ تیغ ستم کر علم ہر نفر پر
کھلا پیش دنداں نہ اس کا گرہچہ
کنھوں نے بھی تھوکا نہ سلک گہر پر
جلے کیوں نہ چھاتی کہ اپنی نظر ہے
کسو شوخ پرکار رعنا پسر پر
نہ محشر میں چونکا مرا خون خفتہ
وہی تھا یہ خوابیدہ اس شور و شر پر
کئی زخم کھا کر تڑپتا رہا دل
تسلی تھی موقوف زخم دگر پر
سنا تھا اسے پاس لیکن نہ پایا
چلے دور تک ہم گئے اس خبر پر
سرشب کہے تھا بہانہ طلب وہ
گھڑی ایک رات آئی ہو گی پہر پر
کوئی پاس بیٹھا رہے کب تلک یوں
کہو ہو گی رخصت گئے اب سحر پر
جہاں میں نہ کی میر اقامت کی نیت
کہ مشعر تھا آنا مرا یاں سفر پر
میر تقی میر

ہے عجب طور کا سفر درپیش

دیوان سوم غزل 1146
فکر میں مرگ کے ہوں سر درپیش
ہے عجب طور کا سفر درپیش
کس کی آنکھیں پھرے ہیں آنکھوں میں
دم بہ دم ہے مری نظر درپیش
مستی بھی اہل ہوش کی ہے جنھیں
آوے ہے عالم دگر درپیش
کیا کروں نقل راہ ہستی میں
مرحلے آئے کس قدر درپیش
کیا پتنگے کو شمع روئے میر
اس کی شب کو بھی ہے سحر درپیش
میر تقی میر

جان کے دینے کو جگر چاہیے

دیوان اول غزل 484
عشق میں نے خوف و خطر چاہیے
جان کے دینے کو جگر چاہیے
قابل آغوش ستم دیدگاں
اشک سا پاکیزہ گہر چاہیے
حال یہ پہنچا ہے کہ اب ضعف سے
اٹھتے پلک ایک پہر چاہیے
کم ہے شناساے زر داغ دل
اس کے پرکھنے کو نظر چاہیے
سینکڑوں مرتے ہیں سدا پھر بھی یاں
واقعہ اک شام و سحر چاہیے
عشق کے آثار ہیں اے بوالہوس
داغ بہ دل دست بسر چاہیے
شرط سلیقہ ہے ہر اک امر میں
عیب بھی کرنے کو ہنر چاہیے
جیسے جرس پارہ گلو کیا کروں
نالہ و افغاں میں اثر چاہیے
خوف قیامت کا یہی ہے کہ میر
ہم کو جیا بار دگر چاہیے
میر تقی میر

ٹکڑے ٹکڑے ہوا جاتا ہے جگر مت پوچھو

دیوان اول غزل 404
نالۂ شب نے کیا ہے جو اثر مت پوچھو
ٹکڑے ٹکڑے ہوا جاتا ہے جگر مت پوچھو
پوچھتے کیا ہو مرے دل کا تم احوال کہ ہے
جیسے بیمار اجل روز بتر مت پوچھو
مرنے میں بند زباں ہونا اشارت ہے ندیم
یعنی ہے دور کا درپیش سفر مت پوچھو
کیا پھرے وہ وطن آوارہ گیا اب سو گیا
دل گم کردہ کی کچھ خیر خبر مت پوچھو
لذت زہر غم فرقت دلداراں سے
ہووے منھ میں جنھوں کے شہد و شکر مت پوچھو
دل خراشی و جگر چاکی و سینہ کاوی
اپنے ناحق میں ہیں سب اور ہنر مت پوچھو
جوں توں کر حال دل اک بار تو میں عرض کیا
میر صاحب جی بس اب بار دگر مت پوچھو
میر تقی میر

مذکور ہوچکا ہے مرا حال ہر کہیں

دیوان اول غزل 309
سن گوش دل سے اب تو سمجھ بے خبر کہیں
مذکور ہوچکا ہے مرا حال ہر کہیں
اب فائدہ سراغ سے بلبل کے باغباں
اطراف باغ ہوں گے پڑے مشت پر کہیں
خطرے سے ہونٹ سوکھ ہی جاتے تھے دیکھ کر
آتا نظر ہمیں جو کوئی چشم تر کہیں
عاشق ترے ہوئے تو ستم کچھ نہ ہو گیا
مرنا پڑا ہے ہم کو خدا سے تو ڈر کہیں
کچھ کچھ کہوں گا روز یہ کہتا تھا دل میں میں
آشفتہ طبع میر کو پایا اگر کہیں
سو کل ملا مجھے وہ بیاباں کی سمت کو
جاتا تھا اضطراب زدہ سا ادھر کہیں
لگ چل کے میں برنگ صبا یہ اسے کہا
کاے خانماں خراب ترا بھی ہے گھر کہیں
آشفتہ جا بہ جا جو پھرے ہے تو دشت میں
جاگہ نہیں ہے شہر میں تجھ کو مگر کہیں
خوں بستہ اپنی کھول مژہ پوچھتا بھی گر
رکھ ٹک تو اپنے حال کو مدنظر کہیں
آسودگی سی جنس کو کرتا ہے کون سوخت
جانے ہے نفع کوئی بھی جی کا ضرر کہیں
موتی سے تیرے اشک ہیں غلطاں کسو طرف
یاقوت کے سے ٹکڑے ہیں لخت جگر کہیں
تاکے یہ دشت گردی و کب تک یہ خستگی
اس زندگی سے کچھ تجھے حاصل بھی مر کہیں
کہنے لگا وہ ہو کے پرآشفتہ یک بیک
مسکن کرے ہے دہر میں مجھ سا بشر کہیں
آوارگوں کا ننگ ہے سننا نصیحتیں
مت کہیو ایسی بات تو بار دگر کہیں
تعیئن جا کو بھول گیا ہوں پہ یہ ہے یاد
کہتا تھا ایک روز یہ اہل نظر کہیں
بیٹھے اگرچہ نقش ترا تو بھی دل اٹھا
کرتا ہے جاے باش کوئی رہگذر کہیں
کتنے ہی آئے لے کے سر پر خیال پر
ایسے گئے کہ کچھ نہیں ان کا اثر کہیں
میر تقی میر

کہاں دماغ ہمیں اس قدر دروغ دروغ

دیوان اول غزل 247
ہم اور تیری گلی سے سفر دروغ دروغ
کہاں دماغ ہمیں اس قدر دروغ دروغ
تم اور ہم سے محبت تمھیں خلاف خلاف
ہم اور الفت خوب دگر دروغ دروغ
غلط غلط کہ رہیں تم سے ہم تنک غافل
تم اور پوچھو ہماری خبر دروغ دروغ
فروغ کچھ نہیں دعوے کو صبح صادق کے
شب فراق کو کب ہے سحر دروغ دروغ
کسو کے کہنے سے مت بدگماں ہو میر سے تو
وہ اور اس کو کسو پر نظر دروغ دروغ
میر تقی میر

مسافتوں کی ہوائے سحر سلام تجھے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 290
ہوئی ہے شاخ نوا تازہ تر، سلام تجھے
مسافتوں کی ہوائے سحر سلام تجھے
شعاع نور نہیں ہے حصار کی پابند
سو اے چراغ مکان دگر سلام تجھے
کھلا کہ میں ہی مراد کلام ہوں اب تک
اشارۂ سخن مختصر سلام تجھے
یہ فاصلوں کے کڑے کوس مملکت میری
مرے غبار، مرے تاج سر سلام تجھے
ندی کی تہہ میں اُترنا تجھی سے سیکھا ہے
خزینۂ صدف بے گہر سلام تجھے
فضا میں زندہ ہے پچھلی اُڑان کی آواز
مری شکستگئ بال و پر سلام تجھے
عرفان صدیقی

مٹی ہیں تو پھر شہر بدر ہم نہیں ہوتے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 260
خوشبو کی طرح گرم سفر ہم نہیں ہوتے
مٹی ہیں تو پھر شہر بدر ہم نہیں ہوتے
پل بھر کا تماشا ہے سو دیکھو ہمیں اس بار
ایک آئنے میں بار دگر ہم نہیں ہوتے
کیا ابر گریزاں سے شکایت ہو کہ دل میں
صحرا ہی کچھ ایسا ہے کہ تر ہم نہیں ہوتے
لے جاؤ تم اپنی مہ و انجم کی سواری
ہر شخص کے ہمراہ سفر ہم نہیں ہوتے
مدت سے فقیروں کا یہ رشتہ ہے فلک سے
جس سمت وہ ہوتا ہے اُدھر ہم نہیں ہوتے
عرفان صدیقی

شام آنکھوں سے یہ کہتی ہے گھر آنے کا نہیں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 194
خوابِ آسودگیِ بال و پر آنے کا نہیں
شام آنکھوں سے یہ کہتی ہے گھر آنے کا نہیں
دل کے آئینے سے رخصت ہوا زنگارِ ملال
اس میں اب کوئی بھی چہرا نظر آنے کا نہیں
اور کیا چاہیے پیروں سے گریزاں ہے زمیں
آسمانوں سے تو اذنِ سفر آنے کا نہیں
فیصلہ کر‘ کم و بیشِ تہہِ دریا کی نہ سوچ
مسئلہ ڈوبنے کا ہے ابھر آنے کا نہیں
کل اسی موج میں اپنا تھا تو بہہ جانا تھا
جانِ من اب کوئی سیلاب اِدھر آنے کا نہیں
جس کو ہونا ہے وہ فریاد میں شامل ہوجائے
بے نوا شہر میں بارِ دگر آنے کا نہیں
کوئے قاتل کی روایت ہی بدل دی میں نے
ورنہ دستور یہاں لوٹ کر آنے کا نہیں
عرفان صدیقی

میں تیرے فیصلۂ معتبر پہ راضی ہوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 146
جہانِ گم شدگاں کے سفر پہ راضی ہوں
میں تیرے فیصلۂ معتبر پہ راضی ہوں
ابھی مرا کوئی پیکر نہ کوئی میری نمود
میں خاک ہوں ہنرِ کوزہ گر پہ راضی ہوں
یہی خیال مجھے جگمگائے رکھتا ہے
کہ میں رضائے ستارہ نظر پہ راضی ہوں
عجیب لوگ تھے مجھ کو جلا کے چھوڑ گئے
عجب دیا ہوں طلوعِ سحر پہ راضی ہوں
نہ جانے کیسے گھنے جنگلوں کا دکھ ہے کہ آج
میں ایک سایۂ شاخِ شجر پہ راضی ہوں
مجھے اداس نہ کر اے زوالِ عمر کی رات
میں اس کے وعدۂ شامِ دگر پہ راضی ہوں
عرفان صدیقی

اسی چراغِ جہانِ دگر کے نام تمام

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 103
یہ درد رات مرے بے خبر کے نام تمام
اسی چراغِ جہانِ دگر کے نام تمام
کبھی جو زحمتِ کارِ رفو نہیں کرتا
ہمارے زخم اسی چارہ گر کے نام تمام
وہ ایک خواب سہی سایۂ سراب سہی
یہ عمر بھر کی تھکن اک شجر کے نام تمام
کسی نے بند کیا ہم پہ اپنے نام کا رزق
تو ہم بھی بھول گئے خشک و تر کے نام تمام
یہ ربطِ حرف و حکایت اسے قبول نہیں
تو اب ہمارے یہ خط نامہ بر کے نام تمام
یہ پھول جس نے کھلائے ہمارے پت جھڑ میں
اسی کے موسمِ برگ و ثمر کے نام تمام
اس ایک نام نے بخشا ہے جو خزانۂ درد
وہ ہم نے وقف کیا بحر و بر کے نام تمام
عرفان صدیقی

اچانک جی اٹھیں وہ بام و در ایسا نہیں ہو گا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 40
خرابہ ایک دن بن جائے گھر ایسا نہیں ہو گا
اچانک جی اٹھیں وہ بام و در ایسا نہیں ہو گا
وہ سب اک بجھنے والے شعلۂ جاں کا تماشا تھا
دوبارہ ہو وہی رقصِ شرر ایسا نہیں ہو گا
وہ ساری بستیاں وہ سارے چہرے خاک سے نکلیں
یہ دُنیا پھر سے ہو زیر و زبر ایسا نہیں ہو گا
مرے گم گشتگاں کو لے گئی موجِ رواں کوئی
مجھے مل جائے پھر گنجِ گہر ایسا نہیں ہو گا
خرابوں میں اب ان کی جستجو کا سلسلہ کیا ہے
مرے گردوں شکار آئیں ادھر ایسا نہیں ہو گا
ہیولے رات بھر محراب و در میں پھرتے رہتے ہیں
میں سمجھا تھا کہ اپنے گھر میں ڈر ایسا نہیں ہو گا
میں تھک جاؤں تو بازوئے ہوا مجھ کو سہارا دے
گروں تو تھام لے شاخِ شجر ایسا نہیں ہو گا
کوئی حرفِ دُعا میرے لیے پتوار بن جائے
بچا لے ڈوبنے سے چشمِ تر ایسا نہیں ہو گا
کوئی آزار پہلے بھی رہا ہو گا مرے دل کو
رہا ہو گا مگر اے چارہ گر ایسا نہیں ہو گا
بحدِ وسعتِ زنجیر گردش کرتا رہتا ہوں
کوئی وحشی گرفتارِ سفر ایسا نہیں ہو گا
بدایوں تیری مٹّی سے بچھڑ کر جی رہا ہوں میں
نہیں اے جانِ من، بارِ دگر ایسا نہیں ہو گا
عرفان صدیقی

یم بہ یم آج بھی جاری ہے سفر پانی کا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 36
خشک ہوتا ہی نہیں دیدۂ تر پانی کا
یم بہ یم آج بھی جاری ہے سفر پانی کا
دیکھنے میں وہی تصویر ہے سیرابی کی
اور دل پر ہے کوئی نقش دگر پانی کا
کوئی مشکیزہ سر نیزہ علم ہوتا ہے
دیکھئے دشت میں لگتا ہے شجر پانی کا
آج تک گریہ کناں ہے اسی حسرت میں فرات
کاش ہوتا در شبیر پہ سر پانی کا
تیری کھیتی لب دریا ہے تو مغروز نہ ہو
اعتبار اتنا مری جان نہ کر پانی کا
عرفان صدیقی

عکس در عکس ہے کیا چیز، نظر ہو تو کہوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 292
آئینہ کون ہے کچھ اپنی خبر ہو تو کہوں
عکس در عکس ہے کیا چیز، نظر ہو تو کہوں
اُس تجلی پہ کوئی نظم کوئی تازہ غزل
مہرباں قوسِ قزح بار دگر ہو تو کہوں
درد کے طے یہ مراحل تو ہوئے ہیں لیکن
قطرہ پہ گزری ہے کیا، قطرہ گہر ہو تو کہوں
ہمسفر میرا پتہ پوچھتے کیا ہو مجھ سے
کوئی بستی، کوئی چوکھٹ، کوئی در ہو تو کہوں
کوئی شہ نامہء شب، کوئی قصیدئہ ستم
معتبر کوئی کہیں صاحبِ زر ہو تو کہوں
قیس صحرا میں مجھے ساتھ تو لے جائے گا
آتشِ غم کا کوئی زادِ سفر ہو تو کہوں
کیسے لگتی ہے مجھے چلتی ہوئی بادِ سحر
کبھی برفائی ہوئی رات بسر ہو تو کہوں
یہ پرندے تو ہیں گل پوش رتوں کے ساتھی
موسمِ زرد میں آباد شجر ہو تو کہوں
کون بے چہرگیِ وقت پہ تنقید کرے
سر بریدہ ہے یہ دنیا، مرا سر ہو تو کہوں
رات آوارہ مزاجی کا سبب پوچھتی ہے
کیا کروں کوئی ٹھکانہ کوئی گھر ہو تو کہوں
کشتیاں کیوں بھری آتی ہیں بجھے گیتوں سے
کیا ہے اس پار مجھے کوئی خبر ہو تو کہوں
ایک ہی پیڑ بہت ہے ترے صحرا میں مجھے
کوئی سایہ سا، کوئی شاخِ ثمر ہو تو کہوں
دہر پھولوں بھری وادی میں بدل سکتا ہے
بامِ تہذیب پہ امکانِ سحر ہو تو کہوں
زندگی رنگ ہے خوشبو ہے لطافت بھی ہے
زندہ رہنے کا مرے پاس ہنر ہو تو کہوں
میں تماشا ہوں تماشائی نہیں ہو سکتا
آئینہ خانہ سے کوئی مجھے ڈر ہو تو کہوں
سچ کے کہنے سے زباں آبلہ لب ہوتی ہے
سینہء درد میں پتھر کا جگر ہو تو کہوں
میری افسردہ مزاجی بھی بدل سکتی ہے
دل بہاروں سے کبھی شیر و شکر ہو تو کہوں
تُو بجھا سکتی ہے بس میرے چراغوں کو ہو ا
کوئی مہتاب ترے پیشِ نظر ہو تو کہوں
رائیگانی کا کوئی لمحہ میرے پاس نہیں
رابطہ ہجر کا بھی زندگی بھر ہو تو کہوں
پھر بلایا ہے کسی نیلے سمندر نے مجھے
کوئی گرداب کہیں کوئی بھنور ہو تو کہوں
پھر تعلق کی عمارت کو بنا سکتا ہوں
کوئی بنیاد کہیں کوئی کھنڈر ہو تو کہوں
عید کا چاند لے آیا ہے ستم کے سائے
یہ بلائیں ہیں اگر ماہِ صفر ہو تو کہوں
اس پہ بھی ترکِ مراسم کی قیامت گزری
کوئی سسکاری کوئی دیدئہ تر ہو تو کہوں
ایک مفروضہ جسے لوگ فنا کہتے ہیں
"یہ تو وقفہ ہے کوئی ، ان کو خبر ہو تو کہوں
کتنے جانکاہ مراحل سے گزر آئی ہے
نرم و نازک کوئی کونپل جو ثمر ہو تو کہوں
یہ محبت ہے بھری رہتی ہے بھونچالوں سے
جو اُدھر ہے وہی تخریب اِدھر ہو تو کہوں
مجھ کو تاریخ کی وادی میں سدا رہنا ہے
موت کے راستے سے کوئی مفر ہو تو کہوں
آسماں زیرِ قدم آ گئے میرے لیکن
قریہء وقت کبھی زیر و زبر ہو تو کہوں
ختم نقطے کا ابھی دشت نہیں کر پایا
خود کو شاعر کبھی تکمیلِ ہنر ہو تو کہوں
اہل دانش کو ملا دیس نکالا منصور
حاکمِ شہر کوئی شہر بدر ہو تو کہوں
زندگی ایسے گزر سکتی نہیں ہے منصور
میری باتوں کا کوئی اس پہ اثر ہو تو کہوں
پوچھتے کیا ہو ازل اور ابد کا منصور
ان زمانوں سے کبھی میرا گزر ہو تو کہوں
منصور آفاق

بازارِ شام پر نہ ہو بارِ دگر وہ شام

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 215
وہ غم وہ بے کسی وہ لہو کا سفر وہ شام
بازارِ شام پر نہ ہو بارِ دگر وہ شام
ظالم شکاریوں کے نئے فائروں کی گونج
سہمے ہوئے پرندوں کا وہ مستقر وہ شام
وہ ساعتِ جدائی وہ ہجراں نگر وہ شام
اس دل میں حوصلہ تو بہت تھا مگر وہ شام
شانوں پہ اک خیال کے گیسو گرے ہوئے
وہ باغِ خامشی وہ عدم کا ثمر وہ شام
رکھے ہیں بام چشم پہ میں نے بھی کچھ چراغ
پھرآ رہی ہے درد پہن کر اگر وہ شام
شانوں پہ پھر فراق کی زلفیں بکھیر کر
افسردہ سی اداس سی آئی ہے گھر وہ شام
گرنی تو تھی افق میں گلابوں کی سرخ شاخ
لیکن گری کہیں بہ طریق دگر وہ شام
مژگاں کی نوک نوک پہ آویختہ کرے
منصور کاٹ کاٹ کے لختِ جگر وہ شام
منصور آفاق

اور پھر شہر کے پاؤں میں سفر باندھ دیا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 110
پہلے سورج کو سرِ راہ گزر باندھ دیا
اور پھر شہر کے پاؤں میں سفر باندھ دیا
چند لکڑی کے کواڑوں کو لگا کر پہیے
وقت نے کار کے پیچھے مرا گھر باندھ دیا
وہ بھی آندھی کے مقابل میں اکیلا نہ رہے
میں نے خیمے کی طنابوں سے شجر باندھ دیا
میری پیشانی پہ انگارے لبوں کے رکھ کے
اپنے رومال سے اس نے مرا سر باندھ دیا
لفظ کو توڑتا تھا میری ریاضت کا ثمر
وسعتِ اجر تھی اتنی کہ اجر باندھ دیا
ایک تعویز جسے میں نے اتارا تھا ابھی
اس نے بازو پہ وہی بارِ دگر باندھ دیا
پھر وہ چڑھنے لگی تیزی سے بلندی کی طرف
پہلے رسہ کہیں تا حدِ نظر باندھ دیا
چلنے سے پہلے قیامت کے سفر پر منصور
آنکھ کی پوٹلی میں دیدۂ تر باندھ دیا
منصور آفاق

حادثے زاد سفر لے آئے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 185
سوز دل، زخم جگر لے آئے
حادثے زاد سفر لے آئے
دست گلچیں ہے کہ شاخ گل ہے
جب اٹھے اک گل تر لے آئے
ننگ ہستی ہے سکوت ساحل
کوئی طوفاں کو ادھر لے آئے
اپنی حالت نہیں دیکھی جاتی
ہم کو حالات کدھر لے آئے
تجھ سے مل کر بھی نہ تجھ کو پایا
غم بہ انداز دگر لے آئے
زندگی اس کی ہے جو دنیا کو
زندگی دے کے نظر لے آئے
دامن لالۂ گل سے باقیؔ
مل سکے جتنے شرر لے آئے
باقی صدیقی