ٹیگ کے محفوظات: دکھایا

دِل میں جو بات ہے ہونٹوں پہ بھی لایا کیجے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 24
حدّتِ خوں کے تقاضے نہ چھپایا کیجے
دِل میں جو بات ہے ہونٹوں پہ بھی لایا کیجے
سرد مہری سا بُرا وار نہ کیجے ہم پر
جانبِ غیر ہی یہ تِیر چلایا کیجے
یہ جنہیں مطلعِٔ انوار سمجھتے ہیں سبھی
ان لبوں سے کوئی مژدہ بھی سُنایا کیجے
حاصلِ عمر ہے یہ حرف، میانِ لب و چشم
خواہش قرب نہ باتوں میں اُڑایا کیجے
تشنگی جس سے کبھی دیدۂ باطن کی مِٹے
ایسا منظر بھی کبھی کوئی دکھایا کیجے
سامنا پھر نہ کسی لمحۂ گُستاخ سے ہو
دل میں سوئے ہوئے ارماں نہ جگایا کیجے
ہم مصوّر تجھے ٹھہرائیں کہ شاعر ماجدؔ
عکسِ جاناں ہی بہ ہر حرف نہ لایا کیجے
ماجد صدیقی

یہ ہنر کِس کو دکھایا میں نے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 185
کر لیا خود کو جو تنہا میں نے
یہ ہنر کِس کو دکھایا میں نے
وہ جو تھا اس کو مِلا کیا مجھ سے
اس کو تو خواب ہی سمجھا میں نے
دل جلانا کوئی حاصل تو نہ تھا
آخرِ کار کیا کیا میں نے
دیکھ کر اس کو ہُوا مست ایسا
پھر کبھی اسکو نہ دیکھا میں نے
شوقِ منزل تھا بُلاتا مجھ کو
راستہ تک نہیں ڈھونڈا میں نے
اک پلک تجھ سے گزر کر ، تاعمر
خود ترا وقت گزارا میں نے
اب کھڑا سوچ رہا ہوں لوگو!
کیوں کیا تم کو اِکھٹا میں نے
جون ایلیا

کبریت نمط جن نے لیا مجھ کو جلایا

دیوان سوم غزل 1085
مجھ زار نے کیا گرمی بازار سے پایا
کبریت نمط جن نے لیا مجھ کو جلایا
بیتاب تہ تیغ ستم دیر رہا میں
جب تک نہ گئی جان مجھے صبر نہ آیا
جانا فلک دوں نے کہ سرسبز ہوا میں
گر خاک سے سبزہ کوئی پژمردہ اگایا
اس رخ نے بہت صورتیں لوگوں کی بگاڑیں
اس قد نے قیامت کا سا ہنگامہ اٹھایا
مت راہ سخن دے کہ پھر آپھی تو کہے گا
کیوں میں نے محبت کے عبث منھ کو کھلایا
ہر چند کہ تھی ریجھنے کی جاے ترے لب
پر گالیاں دیں اتنی انھوں سے کہ رجھایا
گردش میں رہا کرتے ہیں ہم دید میں ان کی
آنکھوں نے تری خوب سماں ہم کو دکھایا
کس روز یہ اندوہ جگر سوز تھا آگے
کب شب لب و یارب تھی مری یوں ہی خدایا
دن جی کے الجھنے کے ہی جھگڑے میں کٹے ہے
رات اس کے خیالات سے رہتے ہیں قضایا
کیا کہیے دماغ اس کا کہ گل گشت میں کل میر
گل شاخوں سے جھک آئے تھے پر منھ نہ لگایا
میر تقی میر

ایک دن تہ کر بساط ناز جایا چاہیے

دیوان دوم غزل 1014
دل شتاب اس بزم عشرت سے اٹھایا چاہیے
ایک دن تہ کر بساط ناز جایا چاہیے
یہ قیامت اور جی پر کل گئی پائیز میں
دل خس و خاشاک گلشن سے لگایا چاہیے
خانہ ساز دیں جو ہے واعظ سو یہ خانہ خراب
اینٹ کی خاطر جسے مسجد کو ڈھایا چاہیے
کام کیا بال ہما سے چترشہ سے کیا غرض
سر پر اک دیوار ہی کا اس کی سایہ چاہیے
اتقا پر خانقہ والے بہت مغرور ہیں
مست ناز ایدھر اسے یک بار لایا چاہیے
کیاریوں ہی میں پڑے رہیے گا سائے کی روش
اپنے ہوتے اب کے موسم گل کا آیا چاہیے
یہ ستم تازہ کہ اپنی ناکسی پر کر نظر
جن سے بگڑا چاہیے ان سے بنایا چاہیے
جی نہیں رہتا ہے ٹک ناچار ہم کو اس کی اور
گرتے پڑتے ضعف میں بھی روز جایا چاہیے
گاہ برقع پوش ہو گہ مو پراگندہ کرو
تم کو ہم سے منھ بہر صورت چھپایا چاہیے
وہ بھی تو ٹک دست و تیغ اپنے کی جانے قدر میر
زخم سارے ایک دن اس کو دکھایا چاہیے
میر تقی میر

بہت ان نے ڈھونڈا نہ پایا ہمیں

دیوان دوم غزل 902
محبت نے کھویا کھپایا ہمیں
بہت ان نے ڈھونڈا نہ پایا ہمیں
پھرا کرتے ہیں دھوپ میں جلتے ہم
ہوا ہے کہے تو کہ سایہ ہمیں
گہے تر رہیں گاہ خوں بستہ تھیں
ان آنکھوں نے کیا کیا دکھایا ہمیں
بٹھا اس کی خاطر میں نقش وفا
نہیں تو اٹھالے خدایا ہمیں
ملے ڈالے ہے دل کوئی عشق میں
یہ کیا روگ یارب لگایا ہمیں
ہوئی اس گلی میں تو مٹی عزیز
ولے خواریوں سے اٹھایا ہمیں
جوانی دوانی سنا کیا نہیں
حسینوں کا ملنا ہی بھایا ہمیں
نہ سمجھی گئی دشمنی عشق کی
بہت دوستوں نے جتایا ہمیں
کوئی دم کل آئے تھے مجلس میں میر
بہت اس غزل پر رلایا ہمیں
میر تقی میر

یعنی جدائی کا ہم صدمہ بڑا اٹھایا

دیوان دوم غزل 764
یہ چوٹ کھائی ایسی دل پر کہ جی گنوایا
یعنی جدائی کا ہم صدمہ بڑا اٹھایا
مدت میں وہ ہوا شب ہم بستر آ کے میرا
خوابیدہ طالعوں نے اک خواب سا دکھایا
الجھائو پڑ گیا سو سلجھی نہ اپنی اس کی
جھگڑے رہے بہت سے گذرے بہت قضایا
آئینہ رو ہمارا آیا نہ نزع میں بھی
وقت اخیر ان نے کیا خوب منھ چھپایا
اس بے مروتی کو کیا کہتے ہیں بتائو
ہم مارے بھی گئے پر وہ نعش پر نہ آیا
وہ روے خوب اب کے ہرگز گیا نہ دل سے
جب گل کھلا چمن میں تب داغ ہم نے کھایا
خلطہ ہمارا اس کا حیرت ہی کی جگہ ہے
ڈھونڈا جہاں ہم اس کو واں آپ کو ہی پایا
طرز نگہ سے اس کی بے ہوش کیا ہوں میں ہی
ان مست انکھڑیوں نے بہتیروں کو سلایا
آنکھیں کھلیں تو دیکھا جو کچھ نہ دیکھنا تھا
خواب عدم سے ہم کو کاہے کے تیں جگایا
باقی نہیں رہا کچھ گھٹتے ہی گھٹتے ہم میں
بیماری دلی نے چنگا بہت بنایا
تونے کہ پائوں دل سے باہر نہیں رکھا ہے
عیارپن یہ کن نے تیرے تئیں سکھایا
کس دن ملائمت کی اس بت نے میر ہم سے
سختی کھنچے نہ کیونکر پتھر سے دل لگایا
میر تقی میر

اس آگ نے بھڑک کر دربست گھر جلایا

دیوان دوم غزل 723
سوز دروں سے آخر بھسمنت دل کو پایا
اس آگ نے بھڑک کر دربست گھر جلایا
جی دے کے لیتے ایسے معشوق بے بدل کو
یوسفؑ عزیز دلہا سستا بہت بکایا
زلف سیاہ اس کی جاتی نہیں نظر سے
اس چشم رو سیہ نے روز سیہ دکھایا
نام اس کا سن کے آنسو گر ہی پڑے پلک سے
دل کا لگائو یارو چھپتا نہیں چھپایا
تھا لطف زیست جن سے وے اب نہیں میسر
مدت ہوئی کہ ہم نے جینے سے ہاتھ اٹھایا
مہندی لگی تھی تیرے پائوں میں کیا پیارے
ہنگام خون عاشق سر پر جو تو نہ آیا
یہ پیروی کسو سے کاہے کو ہوسکے ہے
رکھتا ہے داغ ہم کو قامت کا اس کی سایا
دیکھی نہ پیش جاتے ہرگز خردوری میں
دانستہ بائولا ہم اپنے تئیں بنایا
رہتی تھی بے دماغی اک شور ما و من میں
آنکھوں کے مند گئے پر آرام سا تو پایا
گل پھول سے بھی تو جو لیتا ہے منھ کو پھیرے
مکھڑے سے کس کے تونے اے میر دل لگایا
میر تقی میر

یا تن آدمی میں دل نہ بنایا ہوتا

دیوان دوم غزل 719
عشق کو بیچ میں یارب تو نہ لایا ہوتا
یا تن آدمی میں دل نہ بنایا ہوتا
دل نہ تھا ایسی جگہ جس کی نہ سدھ لیجے کبھو
اجڑی اس بستی کو پھر تونے بسایا ہوتا
عزت اسلام کی کچھ رکھ لی خدا نے ورنہ
زلف نے تیری تو زنار بندھایا ہوتا
گھر کے آگے سے ترے نعش گئی عاشق کی
اپنے دروازے تلک تو بھی تو آیا ہوتا
جو ہے سو بے خود رفتار ہے تیرا اے شوخ
اس روش سے نہ قدم تونے اٹھایا ہوتا
اب تو صد چند ستم کرنے لگے تم اے کاش
عشق اپنا نہ تمھیں میں نے جتایا ہوتا
دل سے خوش طرح مکاں پھر بھی کہیں بنتے ہیں
اس عمارت کو ٹک اک دیکھ کے ڈھایا ہوتا
دل پہ رکھتا ہوں کبھو سر سے کبھو ماروں ہوں
ہاتھ پائوں کو نہ میں تیرے لگایا ہوتا
کم کم اٹھتا وہ نقاب آہ کہ طاقت رہتی
کاش یک بار ہمیں منھ نہ دکھایا ہوتا
میر اظہار محبت میں گیا جی نہ ترا
ہائے نادان بہت تونے چھپایا ہوتا
میر تقی میر

اس گریباں ہی سے اب ہاتھ اٹھایا ہم نے

دیوان اول غزل 610
چاک پر چاک ہوا جوں جوں سلایا ہم نے
اس گریباں ہی سے اب ہاتھ اٹھایا ہم نے
حسرت لطف عزیزان چمن جی میں رہی
سر پہ دیکھا نہ گل و سرو کا سایہ ہم نے
جی میں تھا عرش پہ جا باندھیے تکیہ لیکن
بسترا خاک ہی میں اب تو بچھایا ہم نے
بعدیک عمر کہیں تم کو جو تنہا پایا
ڈرتے ڈرتے ہی کچھ احوال سنایا ہم نے
یاں فقط ریختہ ہی کہنے نہ آئے تھے ہم
چار دن یہ بھی تماشا سا دکھایا ہم نے
بارے کل باغ میں جا مرغ چمن سے مل کر
خوبی گل کا مزہ خوب اڑایا ہم نے
تازگی داغ کی ہر شام کو بے ہیچ نہیں
آہ کیا جانے دیا کس کا بجھایا ہم نے
دشت و کہسار میں سر مار کے چندے تجھ بن
قیس و فرہاد کو پھر یاد دلایا ہم نے
بے کلی سے دل بیتاب کی مر گذرے تھے
سو تہ خاک بھی آرام نہ پایا ہم نے
یہ ستم تازہ ہوا اور کہ پائیز میں میر
دل خس و خار سے ناچار لگایا ہم نے
میر تقی میر

یہ کون شگوفہ سا چمن زار میں لایا

دیوان اول غزل 106
اس چہرے کی خوبی سے عبث گل کو جتایا
یہ کون شگوفہ سا چمن زار میں لایا
وہ آئینہ رخسار دم بازپس آیا
جب حس نہ رہا ہم کو تو دیدار دکھایا
کچھ ماہ میں اس میں نہ تفاوت ہوا ظاہر
سو بار نکالا اسے اور اس کو چھپایا
اک عمر مجھے خاک میں ملتے ہوئے گذری
کوچے میں ترے آن کے لوہو میں نہایا
سمجھا تو مجھے مرگ کے نزدیک پس از دیر
رحمت ہے مرے یار بہت دور سے آیا
یہ باغ رہا ہم سے ولے جا نہ سکے ہم
بے بال و پری نے بھی ہمیں خوب اڑایا
میں صید رمیدہ ہوں بیابان جنوں کا
رہتا ہے مرا موجب وحشت مرا سایا
یا قافلہ در قافلہ ان رستوں میں تھے لوگ
یا ایسے گئے یاں سے کہ پھر کھوج نہ پایا
رو میں نے رکھا ہے در ترسا بچگاں پر
رکھیو تو مری شرم بڑھاپے میں خدایا
ٹالا نہیں کچھ مجھ کو پتنگ آج اڑاتے
بہتوں کے تئیں بائو کا رخ ان نے بتایا
ایسے بت بے مہر سے ملتا ہے کوئی بھی
دل میر کو بھاری تھا جو پتھر سے لگایا
میر تقی میر

اس کی دیوار کا سر سے مرے سایہ نہ گیا

دیوان اول غزل 65
جیتے جی کوچۂ دلدار سے جایا نہ گیا
اس کی دیوار کا سر سے مرے سایہ نہ گیا
کاو کاو مژئہ یار و دل زار و نزار
گتھ گئے ایسے شتابی کہ چھڑایا نہ گیا
وہ تو کل دیر تلک دیکھتا ایدھر کو رہا
ہم سے ہی حال تباہ اپنا دکھایا نہ گیا
گرم رو راہ فنا کا نہیں ہوسکتا پتنگ
اس سے تو شمع نمط سر بھی کٹایا نہ گیا
پاس ناموس محبت تھا کہ فرہاد کے پاس
بے ستوں سامنے سے اپنے اٹھایا نہ گیا
خاک تک کوچۂ دلدار کی چھانی ہم نے
جستجو کی پہ دل گم شدہ پایا نہ گیا
آتش تیز جدائی میں یکایک اس بن
دل جلا یوں کہ تنک جی بھی جلایا نہ گیا
مہ نے آ سامنے شب یاد دلایا تھا اسے
پھر وہ تاصبح مرے جی سے بھلایا نہ گیا
زیر شمشیر ستم میر تڑپنا کیسا
سر بھی تسلیم محبت میں ہلایا نہ گیا
جی میں آتا ہے کہ کچھ اور بھی موزوں کیجے
درد دل ایک غزل میں تو سنایا نہ گیا
میر تقی میر

اے کبک پھر بحال بھی آیا نہ جائے گا

دیوان اول غزل 48
اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا
اے کبک پھر بحال بھی آیا نہ جائے گا
ہم کشتگان عشق ہیں ابرو و چشم یار
سر سے ہمارے تیغ کا سایہ نہ جائے گا
ہم رہرو ان راہ فنا ہیں برنگ عمر
جاویں گے ایسے کھوج بھی پایا نہ جائے گا
پھوڑا سا ساری رات جو پکتا رہے گا دل
تو صبح تک تو ہاتھ لگایا نہ جائے گا
اپنے شہید ناز سے بس ہاتھ اٹھا کہ پھر
دیوان حشر میں اسے لایا نہ جائے گا
اب دیکھ لے کہ سینہ بھی تازہ ہوا ہے چاک
پھر ہم سے اپنا حال دکھایا نہ جائے گا
ہم بے خودان محفل تصویر اب گئے
آئندہ ہم سے آپ میں آیا نہ جائے گا
گو بے ستوں کو ٹال دے آگے سے کوہکن
سنگ گران عشق اٹھایا نہ جائے گا
ہم تو گئے تھے شیخ کو انسان بوجھ کر
پر اب سے خانقاہ میں جایا نہ جائے گا
یاد اس کی اتنی خوب نہیں میر باز آ
نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا
میر تقی میر

اس دل نے ہم کو آخر یوں خاک میں ملایا

دیوان اول غزل 24
مارا زمیں میں گاڑا تب اس کو صبر آیا
اس دل نے ہم کو آخر یوں خاک میں ملایا
اس گل زمیں سے اب تک اگتے ہیں سرو مائل
مستی میں جھکتے جس پر تیرا پڑا ہے سایا
یکساں ہے قتل گہ اور اس کی گلی تو مجھ کو
واں خاک میں میں لوٹا یاں لوہو میں نہایا
پوجے سے اور پتھر ہوتے ہیں یہ صنم تو
اب کس طرح اطاعت ان کی کروں خدایا
تا چرخ نالہ پہنچا لیکن اثر نہ دیکھا
کرنے سے اب دعا کے میں ہاتھ ہی اٹھایا
تیرا ہی منھ تکے ہے کیا جانیے کہ نوخط
کیا باغ سبز تونے آئینے کو دکھایا
شادابی و لطافت ہرگز ہوئی نہ اس میں
تیری مسوں پہ گرچہ سبزے نے زہر کھایا
آخر کو مر گئے ہیں اس کی ہی جستجو میں
جی کے تئیں بھی کھویا لیکن اسے نہ پایا
لگتی نہیں ہے دارو ہیں سب طبیب حیراں
اک روگ میں بساہا جی کو کہاں لگایا
کہہ ہیچ اس کے منھ کو جی میں ڈرا یہاں تو
بارے وہ شوخ اپنی خاطر میں کچھ نہ لایا
ہونا تھا مجلس آرا گر غیر کا تجھے تو
مانند شمع مجھ کو کاہے کے تیں جلایا
تھی یہ کہاں کی یاری آئینہ رو کہ تونے
دیکھا جو میر کو تو بے ہیچ منھ بنایا
میر تقی میر