ٹیگ کے محفوظات: دکھاتی

دھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 203
ایک ہی مژدہ صبح لاتی ہے
دھوپ آنگن میں پھیل جاتی ہے
رنگ موسم ہے اور باد صبا
شہر کوچوں میں خاک اڑاتی ہے
فرش پر کاغذ اڑتے پھرتے ہیں
میز پر گرد جمتی جاتی ہے
سوچتا ہوں کہ اس کی یاد آخر
اب کسے رات بھر جگاتی ہے
میں بھی اذن نواگری چاہوں
بے دلی بھی تو لب ہلاتی ہے
سو گئے پیڑ جاگ اٹھی خوشبو
زندگی خواب کیوں دکھاتی ہے
اس سراپا وفا کی فرقت میں
خواہش غیر کیوں ستاتی ہے
آپ اپنے سے ہم سخن رہنا
ہمنشیں! سانس پھول جاتی ہے
کیا ستم ہے کہ اب تری صورت
غور کرنے پہ یاد آتی ہے
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز اک چیز ٹوٹ جاتی ہے
جون ایلیا

عرش پر برچھیاں چلاتی ہے

دیوان اول غزل 554
آہ جس وقت سر اٹھاتی ہے
عرش پر برچھیاں چلاتی ہے
ناز بردار لب ہے جاں جب سے
تیرے خط کی خبر کو پاتی ہے
اے شب ہجر راست کہہ تجھ کو
بات کچھ صبح کی بھی آتی ہے
چشم بد دور چشم تر اے میر
آنکھیں طوفان کو دکھاتی ہے
میر تقی میر

چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 3
"آپ کی یاد آتی رہی رات بھر”
چاندنی دل دکھاتی رہی رات بھر
گاہ جلتی ہوئی، گاہ بجھتی ہوئی
شمعِ غم جھلملاتی رہی رات بھر
کوئی خوشبو بدلتی رہی پیرہن
کوئی تصویر گاتی رہی رات بھر
پھر صبا سایہء شاخِ گُل کے تلے
کوئی قِصہ سناتی رہی رات بھر
جو نہ آیا اسے کوئی زنجیرِ در
ہر صدا پربلاتی رہی رات بھر
ایک امید سے دل بہلتا رہا
اک تمنا ستاتی رہی رات بھر
مخدوم کی یاد میں
ماسکو
فیض احمد فیض