ٹیگ کے محفوظات: دکھائی

خدا اُس کو خدائی دے رہا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 39
جہاں جس کی دُہائی دے رہا ہے
خدا اُس کو خدائی دے رہا ہے
چُرا کر خضر کا جامہ ہمیں وہ
سلگتی جگ ہنسائی دے رہا ہے
پڑی زد جرم کی جس پر وہ چُپ ہے
جو مجرم ہے صفائی دے رہا ہے
بگولہ گھیر کر ہر ذِی طلب کو
ثمر تک نارسائی دے رہا ہے
وہ لاوا جو سِلے ہونٹوں کے پیچھے
دہکتا ہے سُنائی دے رہا ہے
وہ دے کر زر دریدہ عصمتوں کو
اُنہیں اُن کی کمائی دے رہا ہے
تناؤ ساس کے تیور کا ماجدؔ
دُلہن کو ’منہ دِکھائی‘ دے رہا ہے
ماجد صدیقی

یہی جُنوں ہے مِرا وُہ مجھے رہائی نہ دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 85
اسیرِ قرب کرے، وسعتِ خُدائی نہ دے
یہی جُنوں ہے مِرا وُہ مجھے رہائی نہ دے
وُہ مثلِ موج مِلے آ کے ریگِ ساحل سے
مگر اُسے بھی کبھی اذنِ آشنائی نہ دے
یہ عہدِ جیب تراشی ہے کیا کہ جس میں کہیں
کوئی بھی کھُل کے کسی اور کی صفائی نہ دے
یہی دُعا ہے کہ بے آب ہوں نہ حرف مِرے
سزا کوئی بھی وُہ دے، عجزِ بے نوائی نہ دے
امیرِ شہر کا کیا وُہ تو بس یہی چاہے
یہاں کوئی بھی کسی بات کی دُہائی نہ دے
یہ کیسا منبعِٔ ظلمت ہے دَورِ نو کہ جہاں
جز اپنی ذات کے ماجدؔ کوئی دکھائی نہ دے
ماجد صدیقی

جس کو اُونچا سُنائی دیتا ہے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 14
وُہ اُسے ہی خُدائی دیتا ہے
جس کو اُونچا سُنائی دیتا ہے
کون بَونا بنے چھُڑا کے مجھے
کون میری صفائی دیتا ہے
سر بلندی مجھی سے ہے جس کی
کب مجھے وُہ رہائی دیتا ہے
ہے قرابت اُسی سے مالی کی
پیڑ جو بھی کمائی دیتا ہے
کون ہے وُہ چمن کے آنگن سے
جو مہک کو جُدائی دیتا ہے
ہر ستم کوش کو چلن اُس کا
کتنا ارفع دکھائی دیتا ہے
سنگ کب موم میں ڈھلے ماجدؔ
دل یہ کس کی دہائی دیتا ہے
ماجد صدیقی

زخمِ ہُنر کو حوصلہ لب کشائی دے

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 98
یارب! مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے
زخمِ ہُنر کو حوصلہ لب کشائی دے
لہجے کو جُوئے آب کی وہ نے نوائی دے
دُنیا کو حرف حرف کا بہنا سنائی دے
رگ رگ میں اُس کا لمس اُترتا دکھائی دے
جو کیفیت بھی جسم کو دے ،انتہائی دے
شہرِ سخن سے رُوح کو وہ آشنائی دے
آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستہ سجھائی دے
تخیئلِ ماہتاب ہو، اظہارِ آئینہ
آنکھوں کو لفظ لفظ کا چہرہ دکھائی دے
دل کو لہو کروں تو کوئی نقش بن سکے
تو مجھ کو کربِ ذات کی سچی کمائی دے
دُکھ کے سفر میں منزلِ نایافت کُچھ نہ ہو
زخمِ جگر سے زخمِ ہُنر تک رسائی دے
میں عشق کائنات میں زنجیر ہوسکوں
مجھ کو حصارِ ذات کے شہر سے رہائی دے
پہروں کی تشنگی پہ بھی ثابت قدم رہوں
دشتِ بلا میں ، رُوح مجھے کربلائی دے
پروین شاکر

مری بخت آزمائی ہوچکی بس

دیوان سوم غزل 1143
امیروں تک رسائی ہوچکی بس
مری بخت آزمائی ہوچکی بس
بہار اب کے بھی جو گذری قفس میں
تو پھر اپنی رہائی ہوچکی بس
کہاں تک اس سے قصہ قضیہ ہر شب
بہت باہم لڑائی ہوچکی بس
نہ آیا وہ مرے جاتے جہاں سے
یہیں تک آشنائی ہوچکی بس
لگا ہے حوصلہ بھی کرنے تنگی
غموں کی اب سمائی ہوچکی بس
برابر خاک کے تو کر دکھایا
فلک بس بے ادائی ہوچکی بس
دنی کے پاس کچھ رہتی ہے دولت
ہمارے ہاتھ آئی ہوچکی بس
دکھا اس بت کو پھر بھی یا خدایا
تری قدرت نمائی ہوچکی بس
شرر کی سی ہے چشمک فرصت عمر
جہاں دی ٹک دکھائی ہوچکی بس
گلے میں گیروی کفنی ہے اب میر
تمھاری میرزائی ہوچکی بس
میر تقی میر

مجھ دل زدہ کو نیند نہ آئی تمام شب

دیوان دوم غزل 768
اندوہ سے ہوئی نہ رہائی تمام شب
مجھ دل زدہ کو نیند نہ آئی تمام شب
جب میں شروع قصہ کیا آنکھیں کھول دیں
یعنی تھی مجھ کو چشم نمائی تمام شب
چشمک چلی گئی تھی ستاروں کی صبح تک
کی آسماں نے دیدہ درائی تمام شب
بخت سیہ نے دیر میں کل یاوری سی کی
تھی دشمنوں سے اس کو لڑائی تمام شب
بیٹھے ہی گذری وعدے کی شب وہ نہ آپھرا
ایذا عجب طرح کی اٹھائی تمام شب
سناہٹے سے دل سے گذر جائیں سو کہاں
بلبل نے گو کی نالہ سرائی تمام شب
تارے سے میری پلکوں پہ قطرے سرشک کے
دیتے رہے ہیں میر دکھائی تمام شب
میر تقی میر

اے چاند، دکھائی دے تو جانوں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 136
جلنے سے رہائی دے تو جانوں
اے چاند، دکھائی دے تو جانوں
تنہا نہیں نواحِ شب میں
آہٹ ہی سنائی دے تو جانوں
کیا زندہ ہے زخم کھانے والا
اک بار دہائی دے تو جانوں
دکھ دل سے بڑا نہیں ہے‘ معبود
تو دل کو سمائی دے تو جانوں
اوروں کا لہو لٹانے والے
کچھ اپنی کمائی دے تو جانوں
اے ذہن میں بسنے والی دُنیا
آنکھوں کو دکھائی دے تو جانوں
عرفان صدیقی

کیا جلتی ہوئی آگ دکھائی نہیں دیتی

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 161
زنجیر ہوس دل کو رہائی نہیں دیتی
کیا جلتی ہوئی آگ دکھائی نہیں دیتی
دنیا کے لئے بھول گئے اپنے خدا کو
کیا قبر کی آواز سنائی نہیں دیتی
کیا اپنے سوا کوئی نظر آئے نہ ہم کو
کیوں دل کو سکوں بات پرائی نہیں دیتی
جو مانگنا ہے مانگئے اﷲ سے اپنے
تسکیں کبھی دنیا کی گدائی نہیں دیتی
احساس سفر سے یہ گرہ کھلتی ہے باقیؔ
منزل کی خبر آبلہ پائی نہیں دیتی
باقی صدیقی

شہر کیسا دکھائی دینے لگا

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 55
کیوں میں تیری دہائی دینے لگا
شہر کیسا دکھائی دینے لگا
لو غم آشنائی دینے لگا
میں جہاں کو دکھائی دینے لگا
اے خیال ہجوم ہم سفراں
تو بھی داغ جدائی دینے لگا
کون اندر سے اٹھ گیا باقیؔ
شور دل کا سنائی دینے لگا
باقی صدیقی