ٹیگ کے محفوظات: دکھاؤں

یہ رنگ بھی آ، تجھے دکھاؤں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 32
تن میں ترے مشعلیں جلاؤں
یہ رنگ بھی آ، تجھے دکھاؤں
چاہت کا وہِسحر تُجھ پہ پھونکوں
رگ رگ میں قیامتیں مچاؤں
تکمیل کروں کبھی تو اپنی
تجھ کو سرِ جسم و جاں سجاؤں
مخفی پسِ لب کلی کلی کے
جو راز ہے، وُہ تجھے بتاؤں
مَیں خود ہی جواب جن کا ٹھہروں
ایسے بھی سوال کُچھ اُٹھاؤں
غنچوں کی چٹک ہو جس پہ شیدا
وُہ زمزمہ اَب کے گنگناؤں
ہر لُطف ہے اِس میں ہر مزہ ہے
ماجدؔ کی غزل ہے کیوں نہ گاؤں
ماجد صدیقی

کس مان پہ تجھ کو آزماؤں

پروین شاکر ۔ غزل نمبر 6
اب کیا ہے جو تیرے پاس آؤں
کس مان پہ تجھ کو آزماؤں
زخم اب کے تو سامنے سے کھاؤں
دشمن سے نہ دوستی بڑھاؤں
تتلی کی طرح جو اُڑ چکا ہے
وہ لمحہ کہاں سے کھوج لاؤں
گروی ہیں سماعتیں بھی اب تو
کیا تیری صدا کو منہ دکھاؤں
اے میرے لیے نہ دُکھنے والے!
کیسے ترے دُکھ سمیٹ لاؤں
یوں تیری شناخت مجھ میں اُترے
پہچان تک اپنی بُھول جاؤں
تیرے ہی بھلے کو چاہتی ہوں
میں تجھ کو کبھی نہ یاد آؤں
قامت سے بڑی صلیب پاکر
دُکھ کو کیوں کر گلے لگاؤں
دیوار سے بیل بڑھ گئی ہے
پھر کیوں نہ ہَوا میں پھیل جاؤں
پروین شاکر

یہ ایک فاصلۂ درمیاں گھٹاؤں گا میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 158
اب اپنے زخم کو اپنی زباں بناؤں گا میں
یہ ایک فاصلۂ درمیاں گھٹاؤں گا میں
اسی سفر کا شجر ہے وہ پھر ملے گا مجھے
اسی زمین کا موسم ہوں لوٹ آؤں گا میں
کبھی کبھی تجھے دیکھوں گا تیری آنکھوں سے
کبھی کبھی ترے ہونٹوں سے مسکراؤں گا میں
کبھی کبھی کسی دُھن میں تجھے پکاروں گا
کبھی کبھی کسی بن میں الکھ جگاؤں گا میں
غرورِ جاں میں بھی رکھوں گا چاہتوں کا بھرم
کبھی کبھی ترے احسان بھی اٹھاؤں گا میں
مرے لہو کو یہی موجِ تشنگی ہے بہت
کنارِ جو ابھی خیمہ نہیں لگاؤں گا میں
اب ایک سنگ اس آئینے سے تراشوں گا
تجھے پھر اک ہنر رائیگاں دکھاؤں گا میں
یہی رہے گا تماشا مرے چراغوں کا
ہوا بجھاتی رہے گی جلائے جاؤں گا میں
میں چاہتا ہوں یہیں سارے فیصلے ہوجائیں
کہ اس کے بعد یہ دُنیا کہاں سے لاؤں گا میں
عرفان صدیقی