ٹیگ کے محفوظات: دُہائی

وُہ مانے گا نہ اَب کوئی صفائی

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 76
ترازُو ہاتھ جس منصف کے آئی
وُہ مانے گا نہ اَب کوئی صفائی
کھلائے گی کلی کو اور ہوا پھر
اُڑا لے جائے گی اُس کی کمائی
لگے، جیسے اندھیرے ہی میں بانٹے
وُہ جس کو بھی عطا کر دے خُدائی
بنے گا چھتر وُہ بیوہ کے سر کا
بڑوں نے جس کو اَب تختی تھمائی
ٹپکتی ہوں چھتیں جن کے سروں پر
لبوں پر کیوں نہ ہو اُن کے دُہائی
ہوئے بے اختیار ایسے کہ ہم سے
وُہ اِک اِک بات کی مانگے صفائی
نظر میں ٹُوٹتے تارے بسا کر
تِرا لہجہ ہوماجدؔ کیا رجائی
ماجد صدیقی

گر نہ تھی دل میں تو لب پر تیرے آئی کیوں کر

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 31
تو نے کی غیر سے کل میری بُرائی کیوں کر
گر نہ تھی دل میں تو لب پر تیرے آئی کیوں کر
نہ کہوں گا نہ کہوں گا نہ کہوں گا ہر گز
جا کے اُس بزم میں شامت میری آئی کیوں ‌کر
کھُل گئی بات جب اُن کی تو وہ یہ پوچھتے ہیں
منہ سے نکلی ہوئی ہوتی ہےَپرائی کیوں کر
داد خواہوں سے وہ کہتے ہیں‌کہو ہم بھی تو سنیں
دو گے تم حشر میں سب مل کے دُہائی کیوں کر
وہ یہاں آئیں وہاں‌غیر کا گھر ہو برباد
اس طرح سے ہو صفائی میں‌صفائی کیوں کر
آئینہ دیکھ کے وہ کہنے لگے آپ ہی آپ
ایسے اچھے کی کرے کوئی بُرائی کیوں کر
اُس نے صدقے میں‌کیئے آج ہزاروں آزاد
دیکھئے ہوتی ہے عاشق کی رہائی کیوں کر
داغ کو مہر کہا اشک کو دریا تم نے
اور پھر کرتے ہیں چھوٹوں‌ کی برائی کیوں کر
داغ کل تک تو دعا آپ کی مقبول نہ تھی
آج منہ مانگی مراد آپ نے پائی کیوں‌ کر
داغ دہلوی

مجھے فرقت سکھائی جا رہی ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 232
تری قیمت گھٹائی جا رہی ہے
مجھے فرقت سکھائی جا رہی ہے
یہ ہے تعمیرِ دنیا کا زمانہ
حویلی دل کی ڈھائی جا رہی ہے
وہ شے جو صرف ہندوستان کی تھی
وہ پاکستان لائی جا رہی ہے
کہاں کا دین۔۔کیسا دین۔۔کیا دین
یہ کیا گڑ بڑ مچائی جا رہی ہے
شعورِ آدمی کی سر زمیں تک
خدا کی اب دُہائی جا رہی ہے
بہت سی صورتیں منظر میں لا کر
تمنا آزمائی جا رہی ہے
مجھے اب ہوش آتا جا رہا ہے
خدا تیری خدائی جا رہی ہے
نہیں معلوم کیا سازش ہے دل کی
کہ خود ہی مات کھائی جا رہی ہے
***
نئی خواہش رچائی جا رہی ہے
تیری فرقت منائی جا رہی ہے
ہے ویرانی کی دھوپ اور ایک آنگن
اور اس پر لُو چلائی جا رہی ہے
نبھائی تھی نہ ہم نے جانے کس سے
کہ اب سب سے نبھائی جا رہی ہے
کہاں لذت وہ سوزِ جستجو کی
یہاں ہر چیز پائی جا رہی ہے
سُن اے سورج جدائی موسموں کے
میری کیاری جلائی جا رہی ہے
بہت بدحال ہیں بستی، تیرے لوگ
تو پھر تُو کیوں سجائی جا رہی ہے
خوشا احوال اپنی زندگی کا
سلیقے سے گنوائی جا رہی ہے
جون ایلیا

میں پاگل نوں، شام توں فجری تیکر نیند نہ آئی

ماجد صدیقی (پنجابی کلام) ۔ غزل نمبر 96
ممٹی وچوں اوہنے، پلّہ چھنڈ، بجھارت پائی
میں پاگل نوں، شام توں فجری تیکر نیند نہ آئی
جیون دی ایس شاخ دے ننگ نوں، جے کر ڈھک نہ سکیں
ڈَھیہہ پُو سُکھ دیا پِیلیا پَترا، کیہ توں کھڑ کھڑ لائی
ہائے اوہ پہل سمے دی سدھر، کلیوں پھل بنن دی
ہائے اوہ میرے دل دی ٹھنڈک، اکھیاں دی رشنائی
اوہنے ساڈے ہتھوں کیکن، اپنا آپ وکھایا
پیراں ہیٹھاں رُلدی دِسّے، چن ورگی اُچیائی
جیوندے جی کنج موت دے گنبد اندر، گھِر گئے اسیں
اکھیاں جنج قبراں دیاں بُتیاں، بُلھیاں دین دُہائی
ماجد صدیقی (پنجابی کلام)