ٹیگ کے محفوظات: دُنیا

ٹھوکر پہ مارتا ہوں خزانہ پڑا ہوا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 28
گھٹی میں ہے وِلا کا وہ نشہ پڑا ہوا
ٹھوکر پہ مارتا ہوں خزانہ پڑا ہوا
صدیوں سے چاکرِ درِ حیدرؑ ہوں دیکھ لو
گردن میں میری طوق ہے اُن کا پڑا ہوا
اور یہ بھی دیکھ لو اسی نسبت کے فیض سے
پیروں پہ ہے مرے سگِ دُنیا پڑا ہوا
سورج کے بعد ماہِ منوّر ہوا طلوُع
تھا بزمِ چار سوُ میں اندھیرا پڑا ہوا
باطل تمام حق سے الگ ہو کے جا گرا
کیا دستِ ذوالفقار تھا سچا پڑا ہوا
اُن کا فقیر دولتِ عالم سے بے نیاز
کاسے میں کائنات کا ٹکڑا پڑا ہوا
اپنے لہو میں مست ہیں تشنہ لبانِ عشق
صحرا میں چھوڑ آئے ہیں دریا پڑا ہوا
بخشش سو بے حساب، نوازش سو بے حساب
ہے مدح گو کو مدح کا چسکا پڑا ہوا
عرفان صدیقی

اور اس کے آگے بھی دریا نہیں ٹھہر جاؤ

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 7
مصافِ دشت تماشا نہیں ٹھہر جاؤ
اور اس کے آگے بھی دریا نہیں ٹھہر جاؤ
سوادِ شب میں کسی سمت کا سراغ کہاں
یہ سیمیا ہے ستارہ نہیں ٹھہر جاؤ
تم اس حریف کو پامال کر نہیں سکتے
تمہاری ذات ہے دُنیا نہیں ٹھہر جاؤ
یہ ہوُ کا وقت، یہ جنگل گھنا، یہ کالی رات
سنو یہاں کوئی خطرہ نہیں ٹھہر جاؤ
ہوا رکے تو وہی اک صدا سنائی دے
’’انیس دم کا بھروسا نہیں ٹھہر جاؤ‘‘
عرفان صدیقی