ٹیگ کے محفوظات: دو گواہیاں

دو گواہیاں

وقت کی کہانی میں عام داستانوں کی

منطقیں نہیں ہوتیں

کس طرح یہ فردا سا آگیا تھا ماضی میں

وہ جو روشنی دن کی، رات کی ولایت میں

آکے جھلملائی تھی

وہ جو تختِ زرداراں بے زروں نے اُلٹا تھا

خواب تو نہیں تھا وہ

آرزو کے کہنے پر، لاشعورِ ماضی سے

دفعتاً جو اُبھرا ہو مطلعِ بصارت پر

نیند ہے یا بیداری

ایک جُنڈ سپنوں کی نقرئی سفیدی کا

آنکھ نے بلندی پر پھڑ پھڑاتے دیکھا ہے

دُور کی فضاؤں میں

برگ و شاخ و طائر کے صبح خیز منظر کی

سرخیاں سی ابھری ہیں

اور میرے پاؤں سے اٹھ رہی ہیں جھنکاریں

بیڑیوں کے بجنے کی

آفتاب اقبال شمیم