ٹیگ کے محفوظات: دو نظمیں

دو نظمیں

۔ ۱ ۔

ہر اک دور میں ہر زمانے میں ہم

زہر پیتے رہے، گیت گاتے رہے

جان دیتے رہے زندگی کے لیے

ساعتِ وصل کی سرخوشی کے لیے

فقر و فاقہ کا توشہ سنبھالے ہوئے

جو بھی رستہ چنا اس پہ چلتے رہے

مال والے حقارت سے تکتے رہے

طعن کرتے رہے ہاتھ ملتے رہے

ہم نے اُن پر کیا حرفِ حق سنگ زن

جن کی ہبیت سے دنیا لرزتی رہی

جن پہ آنسو بہانے کو کوئی نہ تھا

اپنی آنکھ ان کے غم میں برستی رہی

سب سے اوجھل ہوئے حکمِ حاکم پہ ہم

قید خانے سہے، تازیانے سہے

لوگ سنتے رہے سازِ دل کی صدا

اپنے نغمے سلاخوں سے چھَنتے رہے

خونچکاں دہر کا خونچکاں آئینہ

دکھ بھری خلق کا دکھ بھرا دل ہیں ہم

طبعِ شاعر ہے جنگاہِ عدل و ستم

منصفِ خیر و شر، حق و باطل ہیں ہم

۔ ۲ ۔

شوپیں؎۱ کا نغمہ بجتا ہے

چھلنی ہے اندھیرے کا سینہ، برکھا کے بھالے برسے ہیں

دیواروں کے آنسو ہیں رواں، گھر خاموشی میں ڈوبے ہیں

پانی میں نہائے ہیں بوٹے

گلیوں میں ہُو کا پھیرا ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

اِک غمگیں لڑکی کے چہرے پر چاند کی زردی چھائی ہے

جو برف گری تھی اِس پہ لہو کے چھینٹوں کی رُشنائی ہے

خوں کا ہر داغ دمکتا ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

کچھ آزادی کے متوالے ، جاں کف پہ لیے میداں میں گئے

ہر سُو دشمن کا نرغہ تھا، کچھ بچ نکلے، کچھ کھیت رہے

عالم میں اُن کا شہرہ ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

اِک کونج کو سکھیاں چھوڑ گئیں آکاش کی نیلی راہوں میں

وہ یاد میں تنہا روتی تھی، لپٹائے اپنی باہوں میں

اِک شاہیں اس پر جھپٹا ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

غم نے سانچے میں ڈھالا ہے

اِک باپ کے پتھر چہرے کو

مردہ بیٹے کے ماتھے کو

اِک ماں نے رو کر چوما ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

پھر پھولوں کی رُت لوٹ آئی

اور چاہنے والوں کی گردن میں جھولے ڈالے باہوں نے

پھر جھرنے ناچے چھن چھن چھن

اب بادل ہے نہ برکھا ہے

شوپیں کا نغمہ بجتا ہے

(ماسکو، ؎۱ شوپیں Chopin پولینڈ کا ممتاز نغمہ ساز)

————————-

فیض احمد فیض