ٹیگ کے محفوظات: دوہرائے

وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 75
انھیں کیوں پھول دشمن عید میں پہنائے جاتے ہیں
وہ شاخِ گل کی صورت ناز سے بل کھائے جاتے ہیں
اگر ہم سے خوشی کے دن بھی وہ گھبرائے جاتے ہیں
تو کیا اب عید ملنے کو فرشتے آئے جاتے ہیں
رقیبوں سے نہ ملیے عید اتنی گرم جوشی سے
تمھارے پھول سے رخ پر پسینے آئے جاتے ہیں
وہ ہنس کہہ رہے ہیں مجھ سے سن کر غیر کے شکوے
یہ کب کب کے فسانے عید میں دوہرائے جاتے ہیں
نہ چھیڑ اتنا انھیں اے وعدۂ شب کی پشیمانی
کہ اب تو عید ملنے پر بھی وہ شرمائے جاتے ہیں
قمر افشاں چنی ہے رخ پہ اس نے اس سلیقے سے
ستارے آسماں سے دیکھنے کو آئے جاتے ہیں
قمر جلالوی