ٹیگ کے محفوظات: دوسرا

اب شاعری کو چاہیے اک دوسرا دماغ

اس فکرِ روزگار میں سب کھَپ گیا دماغ
اب شاعری کو چاہیے اک دوسرا دماغ
اب کوئی بات ٹھیک سے رہتی نہیں ہے یاد
وہ دل کہاں چلا گیا اور کیا ہُوا دماغ
اُٹھا جو یہ سوال کہ ثالث کسے بنائیں
میں نے کہا کہ دل سہی اُس نے کہا دماغ
تھا دل تو چیز کیا صفِ مژگاں کے سامنے
اس معرکے میں شکر یہ ہے بچ گیا دماغ
باصرِؔ یہ آدمی بھی ہے کتنی عجیب چیز
اِتنے سے اِس کے سَر میں ہے کتنا بڑا دماغ
باصر کاظمی

مگر یکساں رہے کب تک، زمانے کی ہوا جاناں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 69
تمہارے ٹھاٹھ بھی، اپنی جگہ سارے، بجا جاناں
مگر یکساں رہے کب تک، زمانے کی ہوا جاناں
ہماری آن جائے، ربطِ باہم میں کہ جاں جائے
نہیں ہٹ کر اب اس سے، کوئی رستہ دوسرا جاناں
جہاں بھی تم نے دیکھا والہانہ، ہم یہی سمجھے
کماں سے تیر نکلا، اور نشیمن کو چلا جاناں
اَب اُس تنکے کو بھی، مُٹھی میں دریا نے کیا اپنی
ازل سے ڈوبنے والوں کا تھا جو، آسرا جاناں
مہک کا اور صبا کا تھا ملن، گاہے ملاپ اپنا
دلانے یاد آتی ہے ہمیں، کیا کچھ صبا جاناں
اُسی کی بُھربُھری بنیاد سے چمٹا ہے اب تک یہ
وُہی جو قول ماجدؔ کو، کبھی تم نے دیا جاناں
ماجد صدیقی

اب تو بس معلوم کرنا ہے کہ کیا موجود ہے

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 84
یہ خبر ہے، مجھ میں کچھ میرے سِوا موجود ہے
اب تو بس معلوم کرنا ہے کہ کیا موجود ہے
ایک میں ہوں، جس کا ہونا ہو کے بھی ثابت نہیں
ایک وہ ہے جو نہ ہو کر جابجا موجود ہے
ہاں خدا ہے، اس میں کوئی شک کی گنجائش نہیں
اس سے تم یہ مت سمجھ لینا خدا موجود ہے
حل کبھی ہوتا نہیں یہ جسم سے چھوٹے بغیر
میں ابھی زندہ ہوں سو یہ مسئلہ موجود ہے
تاب آنکھیں لا سکیں اُس حسن کی، ممکن نہیں
میں تو حیراں ہوں کہ اب تک آئینہ موجود ہے
رات کٹتی ہے مزے میں چین سے ہوتی ہے صبح
چاندنی موجود ہے بادِ صبا موجود ہے
روشنی سی آرہی ہے اِس طرف چھنتی ہوئی
اور وہ حدۤت بھی جو زیرِ قبا موجود ہے
ایک پل فرصت کہاں دیتے ہیں مجھ کو میرے غم
ایک کو بہلا دیا تو دوسرا موجود ہے
درد کی شدۤت میں بھی چلتی ہے میرے دل کے ساتھ
اک دھڑکتی روشنی جو ہر جگہ موجود ہے
معتبر تو قیس کا قصہ بھی ہے اس ضمن میں
اس حوالے سے مرا بھی واقعہ موجود ہے
خواب میں اک زخم دیکھا تھا بدن پر جس جگہ
صبح دیکھا تو وہاں اک داغ سا موجود ہے
ایک ہی شعلہ سے جلتے آرہے ہیں یہ چراغ
میر سے مجھ تک وہی اک سلسلہ موجود ہے
یوں تو ہے عرفان ہر احساس ہی محدود سا
اک کسک سی ہے کہ جو بے انتہا موجود ہے
عرفان ستار

ابھی فرہاد و قیس آئے تھے کہنے مرحبا مجھ کو

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 23
جنوں کے دم سے آخر مرتبہ کیسا ملا مجھ کو
ابھی فرہاد و قیس آئے تھے کہنے مرحبا مجھ کو
کسی صورت بھی رد ہوتا نہیں یہ فیصلہ دل کا
نظر آتا نہیں کوئی بھی تجھ سا دوسرا مجھ کو
سرِ کنجِ تمنا پھر خوشی سے گنگنائوں گا
اگر وہ لوٹ کر آئے تو پھر تم دیکھنا مجھ کو
نہ جانے رشک سے، غصے سے، غم سے یا رقابت سے
یہ کس انداز سے تکتا ہے تیرا آئنہ مجھ کو
کھلے تو سب زمانوں کے خزانے ہاتھ آ جائیں
درِ اقلیمِ صد عالم ہے وہ بندِ قبا مجھ کو
گماں میں بھی گماں لگتی ہے اب تو زندگی میری
نظر آتا ہے اب وہ خواب میں بھی خواب سا مجھ کو
کثافت بار پا سکتی نہیں ایسی لطافت میں
کرم اُس کا کہ بخشا دل کے بدلے آئنہ مجھ کو
صبا میری قدم بوسی سے پہلے گُل نہ دیکھے گی
اگر وحشت نے کچھ دن باغ میں رہنے دیا مجھ کو
نہ نکلی آج گر کوئی یہاں یکجائی کی صورت
تو کل سے ڈھونڈتے پھرنا جہاں میں جا بہ جا مجھ کو
گزر گاہِ نفس میں ہوں مثالِ برگِ آوارہ
کوئی دم میں اڑا لے جائے گی بادِ فنا مجھ کو
وہ دل آویز آنکھیں، وہ لب و رخسار، وہ زلفیں
نہیں اب دیکھنا کچھ بھی نہیں اس کے سوا مجھ کو
ازل سے تا ابد، دنیا سے لے کر آسمانوں تک
نظر آتا ہے تیری ہی نظر کا سلسلہ مجھ کو
مرے ہونے سے ہی کچھ اعتبار اس کا بھی قائم ہے
جنوں تم سے نمٹ لے گا جو دیوانہ کہا مجھ کو
کوئی عرفانؔ مجھ میں سے مجھے آواز دیتا ہے
ارے تُو سوچتا کیا ہے کبھی کچھ تو بتا مجھ کو
عرفان ستار

ہزار زخم سہے، اور دل بڑا رکھا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 11
کبھی کسی سے نہ ہم نے کوئی گلہ رکھا
ہزار زخم سہے، اور دل بڑا رکھا
چراغ یوں تو سرِ طاقِ دل کئی تھے مگر
تمہاری لَو کو ہمیشہ ذرا جدا رکھا
خرد سے پوچھا، جنوں کا معاملہ کیا ہے؟
جنوں کے آگے خرد کا معاملہ رکھا
ہزار شکر ترا، اے مرے خدائے جنوں
کہ مجھ کو راہِ خرد سے گریزپا رکھا
خیال روح کے آرام سے ہٹایا نہیں
جو خاک تھا سو اُسے خاک میں ملا رکھا
چھپا ہُوا نہیں تجھ سے دلِ تباہ کا حال
یہ کم نہیں کہ ترے رنج کو بچا رکھا
وہ ایک زلف کہ لپٹی رہی رگِ جاں سے
وہ اک نظر کہ ہمیں جس نے مبتلا رکھا
بس ایک آن میں گزرا میں کس تغیّر سے
کسی نے سر پہ توجّہ سے ہاتھ کیا رکھا
سنائی اپنی کہانی بڑے قرینے سے
کہیں کہیں پہ فسانے میں واقعہ رکھا
سنا جو شور کہ وہ شیشہ گر کمال کا ہے
تو ہم لپک کے گئے اور قلب جا رکھا
میں جانتا تھا کہ دنیا جو ہے، وہ ہے ہی نہیں
سو خود کو خواہشِ دنیا سے ماورا رکھا
مرے جنوں نے کیے رد وجود اور عدم
الگ ہی طرح سے ہونے کا سلسلہ رکھا
خوشی سی کس نے ہمیشہ ملال میں رکھی؟
خوشی میں کس نے ہمیشہ ملال سا رکھا؟
یہ ٹھیک ہے کہ جو مجھ پاس تھا، وہ نذر کیا
مگر یہ دل کہ جو سینے میں رہ گیا رکھا؟
کبھی نہ ہونے دیا طاقِ غم کو بے رونق
چراغ ایک بجھا، اور دوسرا رکھا
نگاہ دار مرا تھا مرے سِوا نہ کوئی
سو اپنی ذات پہ پہرا بہت کڑا رکھا
تُو پاس تھا، تو رہے محو دیکھنے میں تجھے
وصال کو بھی ترے ہجر پر اٹھا رکھا
ترا جمال تو تجھ پر کبھی کھلے گا نہیں
ہمارے بعد بتا آئینے میں کیا رکھا؟
ہر ایک شب تھا یہی تیرے خوش گمان کا حال
دیا بجھایا نہیں اور در کھلا رکھا
ہمی پہ فاش کیے راز ہائے حرف و سخن
تو پھر ہمیں ہی تماشا سا کیوں بنا رکھا؟
ملا تھا ایک یہی دل ہمیں بھی آپ کو بھی
سو ہم نے عشق رکھا، آپ نے خدا رکھا
خزاں تھی، اور خزاں سی خزاں، خدا کی پناہ
ترا خیال تھا جس نے ہرا بھرا رکھا
جو ناگہاں کبھی اذنِ سفر ملا عرفان
تو فکر کیسی کہ سامان ہے بندھا رکھا
عرفان ستار

کہیے کہیے مجھے برا کہیے

داغ دہلوی ۔ غزل نمبر 48
ناروا کہیے ناسزا کہیے
کہیے کہیے مجھے برا کہیے
تجھ کو بد عہد و بے وفا کہیے
ایسے جھوٹے کو اور کیا کہیے
پھر نہ رکیے جو مدّعا کہیے
ایک کے بعد دوسرا کہیے
آپ اب میرا منہ نہ کھلوائیں
یہ نہ کہیے کہ مدّعا کہیے
وہ مجھے قتل کر کے کہتے ہیں
مانتا ہی نہ تھا یہ کیا کہیے
دل میں رکھنے کی بات ہے غمِ عشق
اس کو ہرگز نہ برملا کہیے
تجھ کو اچھا کہا ہے کس کس نے
کہنے والوں کو اور کیا کہیے
وہ بھی سن لیں گے یہ کبھی نہ کبھی
حالِ دل سب سے جابجا کہیے
مجھ کو کہیے برا نہ غیر کے ساتھ
جو ہو کہنا جدا جدا کہیے
انتہا عشق کی خدا جانے
دمِ آخر کو ابتدا کہیے
میرے مطلب سے کیا غرض مطلب
آپ اپنا تو مدّعا کہیے
صبر فرقت میں آ ہی جاتا ہے
پر اسے دیر آشنا کہیے
آ گئی آپ کو مسیحائی
مرنے والوں کو مرحبا کہیے
آپ کا خیر خواہ میرے سوا
ہے کوئی اور دوسرا کہیے
ہاتھ رکھ کر وہ اپنے کانوں پر
مجھ سے کہتے ہیں ماجرا کہیے
ہوش جاتے رہے رقیبوں کے
داغ کو اور با وفا کہیے
داغ دہلوی

وہ زندگی کو بطورِ سزا قبول کرے

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 63
وفا یہی ہے کہ اُن کی رضا قبول کرے
وہ زندگی کو بطورِ سزا قبول کرے
رکھی ہے شرطِ ضرورت پہ منصفی کی اساس
خطا ہو اُس سے مگر دوسرا قبول کرے
برائے سیرِ شہر ہو اُفق اس کا
سوائے قیدِ مکاں اور کیا قبول کرے
یہ اور بات، ستم کی فضا نہیں بدلی
تری نیازِ دل و جاں ، خدا قبول کرے!
یہ سلسلہ تو چلے بارِ جبر ڈال اتنا
بقدرِ ظرف جسے حوصلہ قبول کرے
آفتاب اقبال شمیم

خود میں مثال نقشۂ دنیا بٹا رہا

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 19
میں کیا ہوں کیا نہیں ، یہی جھگڑا پڑا رہا
خود میں مثال نقشۂ دنیا بٹا رہا
کرتا بھی کیا کہ آتشِ دل تیز تھی بہت
تا عمر اپنی جان میں پگھلا ہوا رہا
ہر بار خود سے ڈر گیا آئینہ دیکھ کر
میں اپنے آپ میں بھی کوئی دوسرا رہا
اِس گھر سے لمحہ وار نکالا گیا مجھے
یک طرفہ مجھ پہ ہست کا دروازہ وا رہا
شاید کہ زندگی کوئی تمثیل گاہ تھی
ورنہ میں کیوں خود اپنا تماشا بنا رہا
جس کی زباں تھی جس کے اشاروں سے مختلف
میں اُس کے در پہ اپنا پتا پوچھتا رہا
آفتاب اقبال شمیم

اے اندھیری بستیو! تم کو خدا روشن کرے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 267
کوئی بجلی ان خرابوں میں گھٹا روشن کرے
اے اندھیری بستیو! تم کو خدا روشن کرے
ننھے ہونٹوں پر کھلیں معصوم لفظوں کے گلاب
اور ماتھے پر کوئی حرفِ دُعا روشن کرے
زرد چہروں پر بھی چمکے‘ سرخ جذبوں کی دھنک
سانولے ہاتھوں کو بھی رنگِ حنا روشن کرے
ایک لڑکا شہر کی رونق میں سب کچھ بھول جائے
ایک بڑھیا روز چوکھٹ پر دیا روشن کرے
خیر‘ اگر تم سے نہ جل پائیں وفاؤں کے چراغ
تم بجھانا مت جو کوئی دوسرا روشن کرے
آگ جلتی چھوڑ آئے ہو تو اب کیا فکر ہے
جانے کتنے شہر یہ پاگل ہوا روشن کرے
دل ہی فانوسِ وفا‘ دل ہی خس و خارِ ہوس
دیکھنا یہ ہے کہ اس کا قرب کیا روشن کرے
یا تو اس جنگل میں نکلے چاند تیرے نام کا
یا مرا ہی لفظ میرا راستہ روشن کرے
عرفان صدیقی

وہ رت بھی آئے کہ اس کا بدن گھٹا ہوجائے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 251
مرے وجود کا جنگل ہرا بھرا ہوجائے
وہ رت بھی آئے کہ اس کا بدن گھٹا ہوجائے
وہ مجھ کو حرف و نوا سے زیادہ جانتا ہے
میں کچھ نہ بولوں اور اس سے مکالمہ ہوجائے
عجب ہے میرے ستارہ ادا کی ہم سفری
وہ ساتھ ہو تو بیاباں میں رتجگا ہوجائے
مجھے وہ لفظ جو لکھّے تو کوئی اور لگے
سخن کرے کبھی مجھ سے تو دوسرا ہوجائے
وہ خوش بدن ہے نویدِ بہار میرے لیے
میں اس کو چھولوں تو سب کچھ نیا نیا ہوجائے
عرفان صدیقی

ستارہ ڈوبے ستارہ نما نکل آئے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 238
زوالِ شب میں کسی کی صدا نکل آئے
ستارہ ڈوبے ستارہ نما نکل آئے
عجب نہیں کہ یہ دریا نظر کا دھوکا ہو
عجب نہیں کہ کوئی راستہ نکل آئے
یہ کس نے دستِ بریدہ کی فصل بوئی تھی
تمام شہر میں نخلِ دُعا نکل آئے
بڑی گھٹن ہے‘ چراغوں کا کیا خیال کروں
اب اس طرف کوئی موجِ ہوا نکل آئے
خدا کرے صفِ سر دادگاں نہ ہو خالی
جو میں گروں تو کوئی دوسرا نکل آئے
عرفان صدیقی

بس ایک لکھتا رہا دوسرا سمجھتا رہا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 58
غرض نہیں کہ کوئی اور کیا سمجھتا رہا
بس ایک لکھتا رہا دوسرا سمجھتا رہا
ہوا کے ہاتھ میں رکھ دی کسی نے چنگاری
تمام شہر اسے حادثا سمجھتا رہا
جہاں پناہ یہ ساری زمین آپ کی ہے
میں آج تک اسے ملک خدا سمجھتا رہا
عرفان صدیقی

ابھی دیکھا تھا اپنی روشنی کے ساتھ تھا سورج

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 145
کسی نے کچھ کہا ہے کیا، کہاں یہ چل دیا سورج
ابھی دیکھا تھا اپنی روشنی کے ساتھ تھا سورج
اسے معلوم تھی شاید مری راتوں کی برفابی
مری آنکھوں کے بالکل سامنے دن بھر رہا سورج
چپک جاتا ہے خاموشی سے میرے ساتھ بستر میں
یہ نم دیدہ دسمبر کی اداسی سے بھرا سورج
برہنہ پانیوں پر شام کی کرنیں ٹپکتی تھیں
مگر پھر یوں ہوا نیلا سمندر ہو گیا سورج
مرے دریا کے پانی کو ہوا ہونے نہیں دیتا
کہیں برفیلے کہساروں کو پگھلاتا ہوا سورج
یہ کافی دیر سے کھڑکی کھلی ہے میرے کمرے کی
ابھی نکلا نہیں ہے اِس گلی میں صبح کا سورج
ابھی کچھ دیر رہنا چاہتا ہوں میں اجالوں میں
بلاتا ہے مجھے اپنی طرف پھر ڈوبتا سورج
مجھے دل کی گلی میں بھی تپش محسوس ہوتی ہے
خود اپنے ہجر میں اتنا زیادہ جل بجھا سورج
اُدھر پوری طرح اترا نہیں وہ روشنی کا تھال
نکلتا آ رہا ہے یہ کدھر سے دوسرا سورج
رکھا ہے ایک ہی چہرہ بدن کے بام پر میں نے
کوئی مہتاب کہتا ہے کسی کا تبصرہ سورج
نگاہوں کو شعاعوں کی ضرورت تھی بہت لیکن
کہاں تک میری گلیوں میں مسلسل جاگتا سورج
جہاں اس وقت روشن ہے تبسم تیرے چہرے کا
انہی راتوں میں برسوں تک یہ آوارہ پھرا سورج
اسے اچھے نہیں لگتے سلگتے رتجگے شاید
اکیلا چھوڑ جاتا ہے ہمیشہ بے وفا سورج
اجالے کا کفن بُننا کوئی آساں نہیں ہوتا
نظر آتا ہے شب کے پیرہن سے جا بجا سورج
ابھرنا ہی نہیں میں نے نکلنا ہی نہیں میں نے
اتر کر عرش کے نیچے یہی ہے سوچتا سورج
افق پر اک ذرا آندھی چلی تھی شام کی منصور
کہیں ٹوٹی ہوئی ٹہنی کی صورت گر پڑا سورج
منصور آفاق