ٹیگ کے محفوظات: دوانہ

مرنا عاشق کا بہانہ ہو گیا

دیوان پنجم غزل 1559
بات کہتے جی کا جانا ہو گیا
مرنا عاشق کا بہانہ ہو گیا
جاے بودن تو نہ تھی دنیاے دوں
اتفاقاً اپنا آنا ہو گیا
ماہ اس کو کہہ کے سارے شہر میں
مجھ کو مشکل منھ دکھانا ہو گیا
کر رکھا تعویذ طفلی میں جسے
اب سو وہ لڑکا سیانا ہو گیا
اس بلا سے آہ میں غافل رہا
یک بہ یک دل کا لگانا ہو گیا
کنج لب سے یار کے اچٹا نہ ٹک
الغرض دل کا ٹھکانا ہو گیا
رفتہ رفتہ اس پری کے عشق میں
میر سا دانا دوانہ ہو گیا
میر تقی میر

اس جان کی جوکھوں کو اس وقت نہ جانا تھا

دیوان سوم غزل 1070
کیا کام کیا ہم نے دل یوں نہ لگانا تھا
اس جان کی جوکھوں کو اس وقت نہ جانا تھا
تھا جسم کا ترک اولیٰ ایام میں پیری کے
جاتا تھا چلا ہر دم جامہ بھی پرانا تھا
ہر آن تھی سرگوشی یا بات نہیں گاہے
اوقات ہے اک یہ بھی اک وہ بھی زمانہ تھا
پامالی عزیزوں کی رکھنی تھی نظر میں ٹک
اتنا بھی تمھیں آ کر یاں سر نہ اٹھانا تھا
اک محوتماشا ہیں اک گرم ہیں قصے کے
یاں آج جو کچھ دیکھا سو کل وہ فسانہ تھا
کیونکر گلی سے اس کی میں اٹھ کے چلا جاتا
یاں خاک میں ملنا تھا لوہو میں نہانا تھا
جو تیر چلا اس کا سو میری طرف آیا
اس عشق کے میداں میں میں ہی تو نشانہ تھا
جب تونے نظر پھیری تب جان گئی اس کی
مرنا ترے عاشق کا مرنا کہ بہانہ تھا
کہتا تھا کسو سے کچھ تکتا تھا کسو کا منھ
کل میر کھڑا تھا یاں سچ ہے کہ دوانہ تھا
کب اور غزل کہتا میں اس زمیں میں لیکن
پردے میں مجھے اپنا احوال سنانا تھا
میر تقی میر

کیا گلہ کیجے غرض اب وہ زمانہ ہی گیا

دیوان اول غزل 125
تجھ سے ہر آن مرے پاس کا آنا ہی گیا
کیا گلہ کیجے غرض اب وہ زمانہ ہی گیا
چشم بن اشک ہوئی یا نہ ہوئی یکساں ہے
خاک میں جب وہ ملا موتی کا دانہ ہی گیا
بر مجنوں میں خردمند کوئی جا نہ سکا
عاقبت سر کو قدم کر یہ دوانہ ہی گیا
ہم اسیروں کو بھلا کیا جو بہار آئی نسیم
عمر گذری کہ وہ گلزار کا جانا ہی گیا
جی گیا میر کا اس لیت و لعل میں لیکن
نہ گیا ظلم ہی تیرا نہ بہانہ ہی گیا
میر تقی میر

اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 325
بدن میں جیسے لہو تازیانہ ہو گیا ہے
اسے گلے سے لگائے زمانہ ہو گیا ہے
چمک رہا ہے افق تک غبارِ تیرہ شبی
کوئی چراغ سفر پر روانہ ہو گیا ہے
ہمیں تو خیر بکھرنا ہی تھا کبھی نہ کبھی
ہوائے تازہ کا جھونکا بہانہ ہو گیا ہے
غرض کہ پوچھتے کیا ہو مآلِ سوختگاں
تمام جلنا جلانا فسانہ ہو گیا ہے
فضائے شوق میں اس کی بساط ہی کیا تھی
پرند اپنے پروں کا نشانہ ہو گیا ہے
کسی نے دیکھے ہیں پت جھڑ میں پھول کھلتے ہوئے
دل اپنی خوش نظری میں دوانہ ہو گیا ہے
عرفان صدیقی