ٹیگ کے محفوظات: دمساز

وُہ شوخ مرا دمساز نہیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 3
یہ بات کُھلی ہے راز نہیں
وُہ شوخ مرا دمساز نہیں
ہم قُرب پہ اُس کے فخر کریں
حاصل یہ ہمیں اعزاز نہیں
کہتے ہیں یہ دل وہ شیشہ ہے
ٹُوٹے تو کوئی آواز نہیں
بج اُٹّھے بِن مضراب کے جو
یہ جیون ایسا ساز نہیں
جو خوش الحان ہوئے اُن پر
کب زنداں کے در باز نہیں
حق بات ہے یہ گر جان سکیں
کنجشک ہیں ہم شہباز نہیں
ماجدؔ ہیں ہمیں جو غم، اُن کے
یہ اشک بھی اَب غمّاز نہیں
ماجد صدیقی

ہم ہیں واقف قلب دشت انداز سے

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 204
خار چن لے گا بہار ناز سے
ہم ہیں واقف قلب دشت انداز سے
تیرے قصّوں نے پریشاں کر دیا
ہم نہ تھے مانوس ہر آواز سے
یہ ابھرتے ڈوبتے چہرے تو دیکھ
آشنا سے، غیر سے، دمساز سے
دام گلشن تک تو باقیؔ آ گئی
بات چل کر حسرت پرواز سے
باقی صدیقی