ٹیگ کے محفوظات: دمبدم

اس پیڑ سے ہی لپٹے رہیں گے خزاں میں ہم

 
حاصل ہو اس کا جو بھی، زیادہ کہ چاہے کم
اس پیڑ سے ہی لپٹے رہیں گے خزاں میں ہم
یہ تھاپ آنسوؤں کی چھما چھم، چھما چھمم
سنتے ہیں ہم حیات کے نغموں کے زیر و بم
ہو جاتا وہ خمارِ مِلن ہم کو بھی بہم
ہاتھوں میں اک لکیر جو ایسے نہ ہوتی خم
کچھ بھی نہیں حیات، حقیقت میں کچھ نہیں
بس دم دما دمم کا سنو گیت دمبدم
بن جائے اپنا کچھ بھی، نہ بن پائے بھی تو کیا
کچھ بھی نہیں کریں گے، کریں گے نہ کچھ بھی ہم
یہ گلستانِ شعر نہ بنجر کبھی ہوا
صد شکر نم ہے آنکھوں کی اس کو رہی بہم
میرے بزرگ دوست مرے میری جان ہیں
ماجدؔ ہوں آفتابؔ یا خاقانؔ یا عدمؔ
یاؔور کی یہ غزل ہے سنی داد کچھ تو دیں
غالب سے بھی زیادہ ہیں گو آپ محترم
یاور ماجد

ہم انسانوں ہی جیسے ہیں خدایا کیوں کرم تیرے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 29
کسی پر ہیں زیادہ اور کہیں احساں ہیں کم تیرے
ہم انسانوں ہی جیسے ہیں خدایا کیوں کرم تیرے
ہمیں ہی کیا؟ سرِ آفاق اک نیچا دکھانا تھا
ہمارے حق میں، کیا لکّھا کئے، لوح و قلم تیرے
نجانے کیوں کریں تضحیک، اِک اِک بانجھ خطّے کی
زمیں پر جس قدر بھی کھیت ہیں، شاداب و نم تیرے
گدا کے ہاتھ میں کشکول ہی تیرا نہیں ورنہ
چھلکتے جام ہیں جتنے یہاں، تیرے ہیں، جم تیرے
کسی نے اِس کی نسبت آج تک تجھ سے نہیں مانی
قصیدے لکھ رہا ہے گرچہ ماجدؔ دمبدم تیرے
ماجد صدیقی