ٹیگ کے محفوظات: دل

کہیں ڈوبی ہوئی کشتی ملا کرتی ہے ساحل سے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 119
لحد والے امیدِ فاتحہ اور تجھ کو قاتل سے
کہیں ڈوبی ہوئی کشتی ملا کرتی ہے ساحل سے
یہ تم نے کیا کہا مجھپر زمانہ ہے فدا دل سے
ہزاروں میں وفا والا ملا کرتا ہے دل سے
نہ تھے جب آپ تو یہ حال تھا بیتابیِ دل سے
کبھی جاتا تھا محفل میں کبھی آتا تھا محفل سے
نگاہیں ان کو دیکھیں دیکھ کر یہ کہہ دیا دل سے
جو تو بیٹھا تو فتنے سینکڑوں اٹھیں گے محفل سے
دلوں میں آگئے جب فرق تو جاتے نہیں دل سے
کہ یہ ٹوٹے ہوئے شیشے جڑا کرتے ہیں مشکل سے
چمن مل جائے گا اہلِ چمن مل جائیں گے چھٹ کر
مگر تنکے نشیمن کے ملیں گے مجھ کو مشکل سے
ہماری کچھ نہ پوچھو ہم بری تقدیر والے ہیں
کہ جیتے ہیں تو مشکل سے جو مرتے ہیں تو مشکل سے
بگولا جب اٹھا میں راہ گم کردہ یہی سمجھا
کوئی رستہ بتانے آرہا ہے مجھ کو منزل سے
خموشی پر یہ حالت ہے خدا معلوم کیا کرتا
کوئی آواز آ جاتی اگر مجنوں کو محمل سے
صدا سن کر نہ طوفاں میں کسی نے دستگیری کی
کھڑے دیکھا کیے سب ڈوبنے والے کو ساحل سے
نہ ہو بیزار مجھ سے یکھ لینا ورنہ اے دنیا
نہ آؤں گا کبھی ایسا اٹھوں گا تیری محفل سے
قمر کے سامنے شب بھر سنوارو شوق سے گیسو
وہ آئینہ نہیں ہے کہ ہٹ جائے مقابل سے
قمر جلالوی

دل کو ہے درد ،درد کو ہے دل لیئے ہوئے

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 113
دونوں ہیں ان کے ہجر کا حاصل لیئے ہوئے
دل کو ہے درد ،درد کو ہے دل لیئے ہوئے
دیکھا خدا پہ چھوڑ کہ کشتی کو نا خدا
جیسے خود آگیا کوئی ساحل لیئے ہوئے
دیکھ ہمارے صبر کی ہمت نہ ٹوٹ جائے
تم رات دن ستاؤ مگر دل لیئے ہوئے
وہ شب بھی یاد ہے کہ میں پہنچا تھا بزم میں !
اور تم اٹھے تھے رونق محفل لیئے ہوئے
اپنی ضروریات ہیں اپنی ضروریات
آنا پڑا مطلب تمہیں دل لیئے ہوئے
بیٹھا جو دل تو چاند دکھا کر کہا قمر !
وہ سامنے چراغ ہے منزل لیئے ہوئے
قمر جلالوی

جاؤ بس اب مل چکے کشتی سے تم ساحل سے ہم

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 54
چھوٹ سکتے ہیں نہیں طوفاں کی شکل سے ہم
جاؤ بس اب مل چکے کشتی سے تم ساحل سے ہم
جا رہے ہیں راہ میں کہتے ہوئے یوں دل سے ہم
تو نہ رہ جانا کہیں اٹھیں اگر محفل سے ہم
وہ سبق آئیں ہیں لے کر اضطرابِ دل سے ہم
یاد رکھیں گے کہ اٹھتے تھے تری محفل سے ہم
اب نہ آوازِ جرس ہے اور نہ گردِ کارواں
یا تو منزل رہ گئی یا رہ گئے منزل سے ہم
روکتا تھا نا خدا کشتی کہ طوفاں آگیا
تم جہاں پر ہو بس اتنی دور تھے ساحل سے ہم
شکریہ اے قمر تک پہنچانے والو شکریہ
اب اکیلے ہی چلے جائیں گے اس منزل سے ہم
لاکھ کوشش کی مگر پھر بھی نکل کر ہی رہے
گھر سے یوسفؑ خلد سے آدمؑ تری محفل سے ہم
ڈب جانے کی خبر لائی تھیں موجیں تم نہ تھے
یہ گوآ ہی بھی دلا دیں گے لبِ ساحل سے ہم
شام کی باتیں سحر تک خواب میں دیکھا کیے
جیسے سچ مچ اٹھ رہے ہیں آپ کی محفل سے ہم
کیسی دریا کی شکایت کیسا طوفاں گلہ
اپنی کشتی آپ لے کر آئے تھے ساحل سے ہم
جور میں رازِ کرم طرزِ کرم میں رازِ جور
آپ کی نظروں کو سمجھے ہیں بڑی مشکل سے ہم
وہ نہیں تو اے قمر ان کی نشانی ہی سہی
داغِ فرقت کو لگائے پھر رہے ہیں دل سے ہم
قمر جلالوی

راہبر تو لوٹ لے شکوہ کریں منزل سے ہم

قمر جلالوی ۔ غزل نمبر 53
متفق کیونکر ہوں ایسے مشورے پر دل سے ہم
راہبر تو لوٹ لے شکوہ کریں منزل سے ہم
راہبر کا ہو بھلا پہلے ہی گھر لٹو دئیے
لوٹ کر جائیں تو جائیں بھی کہاں منزل سے ہم
شمع گل کر دینے والے ہو گئی روشن یہ بات
ٹھوکریں کھاتے ہوئے نکلیں تری محفل سے ہم
ہم کو دریا برد کرنے والے وہ دن یاد کر
تجھ کو طوفاں میں بچانے آئے تھے ساحل سے ہم
یہ نہیں کہتے کہ دولت رات میں لٹ جائے گی
ہم پہ احساں ہے کہ سوتے ہیں بڑی مشکل سے ہم
ہی نہ کہئیے غم ہوا کشتی کا یوں فرمائیے
اک تماشہ تھا جسے دیکھا کیے ساحل سے ہم
اب تو قتلِ عام اس صورت سے روکا جائے گا
بڑھ کے خنجر چھین کیں گے پنجۂ قاتل سے ہم
رسمِ حسن و عشق میں ہوتی ہیں کیا پابندیاں
آپ پوچھیں شمع سے پروانۂ محفل سے ہم
کس خطا پر خوں کیئے اے مالکِ روزِ جزا
تو اگر کہہ دے تو اتنا پوچھ لیں قاتل سے ہم
موجِ طوفاں سے بچا لانے پہ اتنا خوش نہ ہو
اور اگر اے ناخدا ٹکرا گئے ساحل سے ہم
نام تو اپنا چھپا سکتے ہیں لیکن کیا کریں
اے قمر مجبور ہو جاتے ہیں داغِ دل سے ہم
قمر جلالوی

جیسے بہار میں ہو عنادل کو اضطراب

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 38
یوں بزمِ گل رخاں میں ہے اس دل کو اضطراب
جیسے بہار میں ہو عنادل کو اضطراب
نیرنگِ حسن و عشق کے کیا کیا ظہور ہیں
بسمل کو اضطراب ہے، قاتل کو اضطراب
آ جائے ہم نشیں وہ پری وش تو کیا نہ ہو
دیوانہ وار ناصحِ عاقل کو اضطراب
سیماب وار سارے بدن کو ہے یاں تپش
تسکین ہو سکے جو ہو اک دل کو اضطراب
وہ با ادب شہید ہوں میرا جو نام لے
قاتل، تو پھر نہ ہو کسی بسمل کو اضطراب
افسوس بادِ آہ سے ہل بھی نہ جائے اور
یوں ہو ہوا سے پردۂ محمل کو اضطراب
میں جاں بہ لب ہوں اور خبرِ وصل جاں طلب
کیا کیا نہیں دہندہ و سائل کو اضطراب
لکھا ہے خط میں حال دلِ بے قرار کا
ہو گا ضرور شیفتہ حامل کو اضطراب
مصطفٰی خان شیفتہ

بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کفِ قاتل میں ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 278
سادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہے
بس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کفِ قاتل میں ہے
دیکھنا تقریر کی لذّت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
گرچہ ہے کس کس برائی سے ولے با ایں ہمہ
ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے
بس ہجومِ نا امیدی خاک میں مل جائے گی
یہ جو اک لذّت ہماری سعئِ بے حاصل میں ہے
رنجِ رہ کیوں کھینچیے؟ واماندگی کو عشق ہے
اٹھ نہیں سکتا ہمارا جو قدم منزل میں ہے
جلوہ زارِ آتشِ دوزخ ہمارا دل سہی
فتنۂ شورِ قیامت کس کی آب و گِل میں ہے
ہے دلِ شوریدۂ غالب طلسمِ پیچ و تاب
رحم کر اپنی تمنّا پر کہ کس مشکل میں ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

کہ تارِ دامن و تارِ نظر میں فرق مشکل ہے

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 262
ہجومِ غم سے یاں تک سر نگونی مجھ کو حاصل ہے
کہ تارِ دامن و تارِ نظر میں فرق مشکل ہے
رفوئے زخم سے مطلب ہے لذّت زخمِ سوزن کی
سمجھیو مت کہ پاسِ درد سے دیوانہ غافل ہے
وہ گل جس گلستاں میں جلوہ فرمائی کرے غالب
چٹکنا غنچۂ گل کا صدائے خندۂ دل ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

تماشائے بہ یک کف بُردنِ صد دل، پسند آیا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 106
شمار سبحہ،” مرغوبِ بتِ مشکل” پسند آیا
تماشائے بہ یک کف بُردنِ صد دل، پسند آیا
بہ فیضِ بے دلی، نومیدئ جاوید آساں ہے
کشائش کو ہمارا عقدۂ مشکل پسند آیا
ہوائے سیرِگل، آئینۂ بے مہرئ قاتل
کہ اندازِ بخوں غلطیدن @ بسمل پسند آیا
اصل نسخۂ نظامی میں ’غلتیدن‘ ہے جو سہوِ کتابت ہے
مرزا اسد اللہ خان غالب

جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 104
عرضِ نیازِ عشق کے قابل نہیں رہا
جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
جاتا ہوں داغِ حسرتِ ہستی لیے ہوئے
ہوں شمعِ کشتہ درخورِ محفل نہیں رہا
مرنے کی اے دل اور ہی تدبیر کر کہ میں
شایانِ دست و خنجرِ قاتل نہیں رہا
بر روئے شش جہت درِ آئینہ باز ہے
یاں امتیازِ ناقص و کامل نہیں رہا
وا کر دیے ہیں شوق نے بندِ نقابِ حسن
غیر از نگاہ اب کوئی حائل نہیں رہا
گو میں رہا رہینِ ستم ہاے روزگار
لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
دل سے ہوائے کشتِ وفا مٹ گئی کہ واں
حاصل سواے حسرتِ حاصل نہیں رہا
بیدادِ عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسدؔ
جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
مرزا اسد اللہ خان غالب

تپشِ شوق نے ہر ذرّے پہ اک دل باندھا

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 103
جب بہ تقریبِ سفر یار نے محمل باندھا
تپشِ شوق نے ہر ذرّے پہ اک دل باندھا
اہل بینش نے بہ حیرت کدۂ شوخئ ناز
جوہرِ آئینہ کو طوطئ بسمل باندھا
یاس و امید نے اک عرَبدہ میداں مانگا
عجزِ ہمت نے طِلِسمِ دلِ سائل باندھا
نہ بندھے تِشنگئ ذوق کے مضموں، غالب
گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا
مرزا اسد اللہ خان غالب

ناقصوں میں رہیے کیا رہیے تو صاحب دل کے پاس

دیوان پنجم غزل 1630
کوئی دن کریے معیشت جاکسو کامل کے پاس
ناقصوں میں رہیے کیا رہیے تو صاحب دل کے پاس
بوے خوں بھک بھک دماغوں میں چلی آتی ہے کچھ
نکلی ہے ہوکر صبا شاید کسو گھائل کے پاس
شور و ہنگامہ بہت دعویٰ ضروری ہے بہت
کاشکے مجھ کو بلاویں حشر میں قاتل کے پاس
گرد سے ہے ناقۂ سلمیٰ کو مشکل رہروی
خاک کس کی ہے کہ مشتاق آتی ہے محمل کے پاس
تل سے تیرے منھ کے دل تھا داغ اے برناے چرب
خال یہ اک اور نکلا ظالم اگلے تل کے پاس
دل گداز عشق سے سب آب ہوکر بہ گیا
مرگئے پر گور میری کریے تو بے دل کے پاس
ملیے کیونکر نہ کف افسوس جی جاتا ہے میر
ڈوبتی ہے کشتی ورطے سے نکل ساحل کے پاس
میر تقی میر

لوہو لگا کے وہ بھی شہیدوں میں مل گیا

دیوان پنجم غزل 1567
ناخن سے بوالہوس کا گلا یوں ہی چھل گیا
لوہو لگا کے وہ بھی شہیدوں میں مل گیا
دل جمع تھا جو غنچہ کے رنگوں خزاں میں تھا
اے کیا کہوں بہار گل زخم کھل گیا
بے دل ہوئے پہ کرتے تدارک جو رہتا ہوش
ہم آپ ہی میں آئے نہیں جب سے دل گیا
دیکھا نہیں پہاڑ گراں سنگ یا سبک
زوروں چڑھا تھا عشق میں فرہاد پل گیا
شبنم کی سی نمود سے تھا میں عرق عرق
یعنی کہ ہستی ننگ عدم تھی خجل گیا
غم کھینچتے ہلا نہیں جاگہ سے کیا کروں
دل جا لگے ہے دم بہ دم اودھر ہی ہل گیا
صورت نہ دیکھی ویسی کشادہ جبیں کہیں
میں میر اس تلاش میں چین و چگل گیا
میر تقی میر

یہ دوانہ بائولا عاقل ہے میاں

دیوان دوم غزل 904
کیا عبث مجنوں پئے محمل ہے میاں
یہ دوانہ بائولا عاقل ہے میاں
قند کا کون اس قدر مائل ہے میاں
جو ہے ان ہونٹوں ہی کا قائل ہے میاں
ہم نے یہ مانا کہ واعظ ہے ملک
آدمی ہونا بہت مشکل ہے میاں
چشم تر کی خیر جاری ہے سدا
سیل اس دروازے کا سائل ہے میاں
مرنے کے پیچھے تو راحت سچ ہے لیک
بیچ میں یہ واقعہ حائل ہے میاں
دل کی پامالی ستم ہے قہر ہے
کوئی یوں دلتا ہے آخر دل ہے میاں
آج کیا فرداے محشر کا ہراس
صبح دیکھیں کیا ہو شب حامل ہے میاں
دل تڑپتا ہی نہیں کیا جانیے
کس شکار انداز کا بسمل ہے میاں
چاہیے پیش از نماز آنکھیں کھلیں
حیف اس کا وقت جو غافل ہے میاں
رنگ بے رنگی جدا تو ہے ولے
آب سا ہر رنگ میں شامل ہے میاں
سامنے سے ٹک ٹلے تو دق نہ ہو
آسماں چھاتی پر اپنی سل ہے میاں
دل لگی اتنی جہاں میں کس لیے
رہگذر ہے یہ تو کیا منزل ہے میاں
بے تہی دریاے ہستی کی نہ پوچھ
یاں سے واں تک سو جگہ ساحل ہے میاں
چشم حق بیں سے کرو ٹک تم نظر
دیکھتے جو کچھ ہو سب باطل ہے میاں
دردمندی ہی تو ہے جو کچھ کہ ہے
حق میں عاشق کے دوا قاتل ہے میاں
برسوں ہم روتے پھرے ہیں ابر سے
زانو زانو اس گلی میں گل ہے میاں
کہنہ سالی میں ہے جیسے خورد سال
کیا فلک پیری میں بھی جاہل ہے میاں
کیا دل مجروح و محزوں کا گلہ
ایک غمگیں دوسرے گھائل ہے میاں
دیکھ کر سبزہ ہی خرم دل کو رکھ
مزرع دنیا کا یہ حاصل ہے میاں
مستعدوں پر سخن ہے آج کل
شعر اپنا فن سو کس قابل ہے میاں
کی زیارت میر کی ہم نے بھی کل
لاابالی سا ہے پر کامل ہے میاں
میر تقی میر

سب درد ہو شدت کا اس دل ہی کو دل ڈالا

دیوان دوم غزل 733
اب چھاتی کے جلنے نے کچھ طور بدل ڈالا
سب درد ہو شدت کا اس دل ہی کو دل ڈالا
ہم عاجزوں کا کھونا مشکل نہیں ہے ایسا
کچھ چونٹیوں کو لے کر پائوں تلے مل ڈالا
اٹھکھیلی کی بھی اس کی دل تاب نہیں لاتا
کیا پگڑی کے پیچوں میں لے بالوں کو بل ڈالا
تشویش سے اب خالی کس دن ہے مزاج اپنا
اس دل کی خلش نے بھی کیا آہ خلل ڈالا
مجھ مست کو کیا نسبت اے میر مسائل سے
منھ شیخ کا مسجد میں میں رک کے مسل ڈالا
میر تقی میر

گذرنا جان سے آساں بہت مشکل ہے کیا جانے

دیوان اول غزل 592
مرے اس رک کے مرجانے سے وہ غافل ہے کیا جانے
گذرنا جان سے آساں بہت مشکل ہے کیا جانے
کوئی سر سنگ سے مارو کسی کا واپسیں دم ہو
وہ آئینے میں اپنے ناز پر مائل ہے کیا جانے
نظر مطلق نہیں ہجراں میں اس کو حال پر میرے
مرا دل اس کے غم میں گویا اس کا دل ہے کیا جانے
جنونی خبطی دیوانہ سڑا کوئی عشق کو سمجھے
فلاطوں سے نہیں یاں بحث وہ عاقل ہے کیا جانے
تڑپنا نقش پاے ناقہ پر جانے ہے اک مجنوں
بیاباں میں وہ لیلیٰ کا کدھر محمل ہے کیا جانے
پڑھایا اس کو بہتیرا کہ مت لا راز دل منھ پر
پہ طفل اشک کو دیکھا تو ناقابل ہے کیا جانے
طرف ہونا مرا مشکل ہے میر اس شعر کے فن میں
یوہیں سوداؔ کبھو ہوتا ہے سو جاہل ہے کیا جانے
میر تقی میر

میں کشتہ ہوں انداز قاتل کا اپنے

دیوان اول غزل 556
تڑپنا بھی دیکھا نہ بسمل کا اپنے
میں کشتہ ہوں انداز قاتل کا اپنے
نہ پوچھو کہ احوال ناگفتہ بہ ہے
مصیبت کے مارے ہوئے دل کا اپنے
دل زخم خوردہ کے اور اک لگائی
مداوا کیا خوب گھائل کا اپنے
جو خوشہ تھا صد خرمن برق تھا یاں
جلایا ہوا ہوں میں حاصل کا اپنے
ٹک ابرو کو میری طرف کیجے مائل
کبھو دل بھی رکھ لیجے مائل کا اپنے
ہوا دفتر قیس آخر ابھی یاں
سخن ہے جنوں کے اوائل کا اپنے
بنائیں رکھیں میں نے عالم میں کیا کیا
ہوں بندہ خیالات باطل کا اپنے
مقام فنا واقعے میں جو دیکھا
اثر بھی نہ تھا گور منزل کا اپنے
میر تقی میر

ّسینکڑوں ہم خوں گرفتہ ہیں وہ قاتل ایک ہے

دیوان اول غزل 526
کیا مرے سرورواں کا کوئی مائل ایک ہے
ّسینکڑوں ہم خوں گرفتہ ہیں وہ قاتل ایک ہے
راہ سب کو ہے خدا سے جان اگر پہنچا ہے تو
ہوں طریقے مختلف کتنے ہی منزل ایک ہے
اس مرے بت نے سبھوں کو حق سے توڑ اپنا کیا
کام میں اپنے بھی وہ معبود باطل ایک ہے
کیا عرب میں کیا عجم میں ایک لیلیٰ کا ہے شور
مختلف ہوں گو عبارات ان کا محمل ایک ہے
ایک سے ہے خرمن غم دانۂ اشک ایک سے
دیدہ و دل الغرض دونوں کا حاصل ایک ہے
اس شکار افگن کے کوچے سے نہیں جاتا ہے ظلم
ایک اگر جی سے گیا تو نیم بسمل ایک ہے
چشم و ابرو ناز و خوبی زلف و کاکل خال و خط
دیکھیے کیا ہو بلائیں اتنی ہیں دل ایک ہے
کام کچھ دنیا کی آسانی میں ہو تو میر کر
مردن دشوار بھی درپیش منزل ایک ہے
میر تقی میر

ہاتھ پہنچا نہ پاے قاتل تک

دیوان اول غزل 260
دست و پا مارے وقت بسمل تک
ہاتھ پہنچا نہ پاے قاتل تک
کعبہ پہنچا تو کیا ہوا اے شیخ
سعی کر ٹک پہنچ کسی دل تک
درپئے محمل اس کے جیسے جرس
میں بھی نالاں ہوں ساتھ منزل تک
بجھ گئے ہم چراغ سے باہر
کہیو اے باد شمع محفل تک
نہ گیا میر اپنی کشتی سے
ایک بھی تختہ پارہ ساحل تک
میر تقی میر

آ کے ڈوبی جاتی ہے کشتی مری ساحل کے پاس

دیوان اول غزل 237
کیونکے نکلا جائے بحر غم سے مجھ بے دل کے پاس
آ کے ڈوبی جاتی ہے کشتی مری ساحل کے پاس
ہے پریشاں دشت میں کس کا غبار ناتواں
گرد کچھ گستاخ آتی ہے چلی محمل کے پاس
گرم ہو گا حشر کو ہنگامۂ دعویٰ بہت
کاشکے مجھ کو نہ لے جاویں مرے قاتل کے پاس
دور اس سے جوں ہوا دل پر بلا ہے مضطرب
اس طرح تڑپا نہیں جاتا کسو بسمل کے پاس
بوے خوں آتی ہے باد صبح گاہی سے مجھے
نکلی ہے بے درد شاید ہو کسو گھائل کے پاس
آہ نالے مت کیا کر اس قدر بیتاب ہو
اے ستم کش میر ظالم ہے جگر بھی دل کے پاس
میر تقی میر

کیا کہوں اے ہم نشیں میں تجھ سے حاصل دل گیا

دیوان اول غزل 57
خواہ مجھ سے لڑ گیا اب خواہ مجھ سے مل گیا
کیا کہوں اے ہم نشیں میں تجھ سے حاصل دل گیا
اپنے ہی دل کو نہ ہو واشد تو کیا حاصل نسیم
گو چمن میں غنچۂ پژمردہ تجھ سے کھل گیا
دل سے آنکھوں میں لہو آتا ہے شاید رات کو
کشمکش میں بے قراری کی یہ پھوڑا چھل گیا
قیس کا کیا کیا گیا اودھر دل و دیں ہوش و صبر
جس طرف صحرا سے لیلیٰ کا چلا محمل گیا
رشک کی جا گہ ہے مرگ اس کشتۂ حسرت کی میر
نعش کے ہمراہ جس کی گور تک قاتل گیا
میر تقی میر

کنارے آ لگے عمرِ رواں یا دل ٹھہر جائے

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 32
کہیں تو کاروانِ درد کی منزل ٹھہر جائے
کنارے آ لگے عمرِ رواں یا دل ٹھہر جائے
اماں کیسی کہ موجِ خوں ابھی سر سے نہیں گزری
گزر جائے تو شاید بازوئے قاتل ٹھہر جائے
کوئی دم بادبانِ کشتیِ صہبا کو تہہ رکھو
ذرا ٹھہرو غبارِ خاطرِ محفل ٹھہر جائے
خُمِ ساقی میں جز زہرِ ہلاہل کچھ نہیں باقی
جو ہو محفل میں اس اکرام کے قابل، ٹھہر جائے
ہماری خامشی بس دل سے لب تک ایک وقفہ ہے
یہ طوفاں ہے جو پل بھر بر لبِ ساحل ٹھہر جائے
نگاہِ منتظر کب تک کرے گی آئینہ بندی
کہیں تو دشتِ غم میں یار کا محمل ٹھہر جائے
فیض احمد فیض

ہم لوگ سرخرو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں

فیض احمد فیض ۔ غزل نمبر 2
سب قتل ہوکے تیرے مقابل سے آئے ہیں
ہم لوگ سرخرو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں
شمعِ نظر، خیال کے انجم ، جگر کے داغ
جتنے چراغ ہیں، تری محفل سے آئے ہیں
اٹھ کر تو آگئے ہیں تری بزم سے مگر
کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں
ہر اک قدم اجل تھا، ہر اک گام زندگی
ہم گھوم پھر کے کوچہء قاتل سے آئے ہیں
بادِ خزاں کا شکر کرو، فیض جس کے ہاتھ
نامے کسی بہار شمائل سے آئے ہیں
فیض احمد فیض

یہ مرا گھر بھی تو ہے کوچۂ قاتل ہے تو کیا

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 75
خاک میں اس کی اگر خون بھی شامل ہے تو کیا
یہ مرا گھر بھی تو ہے کوچۂ قاتل ہے تو کیا
دل پہ چل جائے تو جادو ہے تری عشوہ گری
صرف گردن میں ترا ہاتھ حمائل ہے تو کیا
آنکھ ہر لحظہ تماشائے دگر چاہتی ہے
عکس تیرا ہی سرِ آئینۂ دل ہے تو کیا
ساری آوازوں کا انجام ہے چپ ہوجانا
نعرۂ ہوُ ہے تو کیا، شورِ سلاسل ہے تو کیا
عشق میں جان کہ تن کوئی تو کندن بن جائے
ورنہ یہ راکھ ہی اس آگ کا حاصل ہے تو کیا
میرے اندر ابھی محفوظ ہے اک لوحِ طلسم
اک طلسم اور ابھی میرے مقابل ہے تو کیا
عرفان صدیقی

آنکھ کھلی تو فیری ساحل چھوڑ گئی تھی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 487
سونی سونی پورٹ کی جھلمل چھوڑ گئی تھی
آنکھ کھلی تو فیری ساحل چھوڑ گئی تھی
فلم کا ہیرو دیکھ کے بھولی بھالی لڑکی
سینما ہال کی کرسی پر دل چھوڑ گئی تھی
شاید ملک سے باہر ننگ زیادہ تھا کچھ
مزدوروں کو کپڑے کی مل چھوڑ گئی تھی
اس نے میرے ہاتھ پہ رکھا تھا اک وعدہ
جاتے ہوئے کچھ اور مسائل چھوڑ گئی تھی
میں نے اپنے جسم سے پردہ کھنچ لیا تھا
اور مجھے پھر ساری محفل چھوڑ گئی تھی
منصور آفاق

اک سیہ مورت سے مل کے صبح شرمندہ ہوئی

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 445
کالکیں چہرے سے چھل کے صبح شرمندہ ہوئی
اک سیہ مورت سے مل کے صبح شرمندہ ہوئی
جس کی نس نس میں اندھیرے تھے تبسم آفریں
اس کلی کے ساتھ کھل کے صبح شرمندہ ہوئی
وہ مجسم رات وہ کالی صراحی کے خطوط
دامنِ خوباں میں سل کے صبح شرمندہ ہوئی
حسرتوں کی ٹھیکرے تھے، ڈھیر تھے افسوس کے
پھر کھنڈر میں آ کے دل کے صبح شرمندہ ہوئی
اس نے زلفوں کو بکھیرا اور سورج بجھ گیا
سامنے لہراتے ظل کے صبح شرمندہ ہوئی
ہر نمو مٹی کی کالی قبر سے آباد تھی
بیچ شہرِآب و گل کے صبح شرمندہ ہوئی
یار کے رخسار پر ہے اک عجب کالا گلاب
پھر مقابل ایک تل کے صبح شرمندہ ہوئی
کنجِ لب سے ہی نکلتی یار کے تو بات تھی
بس افق کے پاس کھل کے صبح شرمندہ ہوئی
جھانک سکتی ہی نہیں مٹی کے اندر روشنی
خاک پہ منصور پل کے صبح شرمندہ ہوئی
منصور آفاق

سفر رستہ رہے گا بس، کبھی منزل نہیں ہو گا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 73
تمہیں یہ پاؤں سہلانے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا
سفر رستہ رہے گا بس، کبھی منزل نہیں ہو گا
مجھے لگتا ہے میری آخری حد آنے والی ہے
جہاں آنکھیں نہیں ہوں گی دھڑکتا دل نہیں ہو گا
محبت کے سفر میں تیرے وحشی کو عجب ضد ہے
وہاں کشتی سے اترے گا جہاں ساحل نہیں ہو گا
مری جاں ویری سوری اب کبھی چشمِ تمنا سے
یہ اظہارِ محبت بھی سرِ محفل نہیں ہو گا
سکوتِ دشت میں کچھ اجنبی سے نقشِ پا ہوں گے
کوئی ناقہ نہیں ہو گا کہیں محمل نہیں ہو گا
ذرا تکلیف تو ہو گی مگر اے جانِ تنہائی
تجھے دل سے بھلا دینا بہت مشکل نہیں ہو گا
یہی لگتا ہے بس وہ شورشِ دل کا سبب منصور
کبھی ہنگامہء تخلیق میں شامل نہیں ہو گا
منصور آفاق

قدم کوئی کہاں رکھے؟ جدھر دیکھو اُدھر دل ہے

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 46
وہ کہتے ہیں، نکلنا اب تو دروازے پہ مشکل ہے
قدم کوئی کہاں رکھے؟ جدھر دیکھو اُدھر دل ہے
کہیں ایسا نہ ہو تجھ پر بھی کوئی وار چل جائے
قضا ہٹ جا کہ جھنجھلایا ہوا اِس وقت قاتل ہے
طنابیں کھینچ دے یارب، زمینِ کوئے جاناں کی
کہ میں ہوں ناتواں، اور دن ہے آخر، دور منزل ہے
مرے سینے پہ رکھ کر ہاتھ کہتا ہے وہ شوخی سے
یہی دل ہے جو زخمی ہے، یہی دل ہے جو بسمل ہے
نقاب اُٹھی تو کیا حاصل؟ حیا اُٹھے تو آنکھ اُٹھے
بڑا گہرا تو یہ پردہ ہمارے اُنکے حائل ہے
الہٰی بھیج دے تربت میں کوئی حور جنت سے
کہ پہلی رات ہے، پہلا سفر ہے، پہلی منزل ہے
جدھر دیکھو اُدھر سوتا ہے کوئی پاؤں پھیلائے
زمانے سے الگ گورِ غریباں کی بھی محفل ہے
عجب کیا گر اُٹھا کر سختیِ فرقت ہوا ٹکڑے
کوئ لوہا نہیں، پتھر نہیں، انسان کا دل ہے
سخی کا دل ہے ٹھنڈا گرمیِ روزِ قیامت میں
کہ سر پر چھَترِ رحمت سایۂ دامانِ سائل ہے
امیرِ خستہ جاں کی مشکلیں آساں ہوں یارب
تجھے ہر بات آساں ہے اُسے ہر بات مشکل ہے
امیر مینائی

کچھ اور بلا ہوتی ہے وہ دل نہیں ہوتا

امیر مینائی ۔ غزل نمبر 3
ان شوخ حسینوں پہ بھی مائل نہیں ہوتا
کچھ اور بلا ہوتی ہے وہ دل نہیں ہوتا
کچھ وصل کے وعدے سے بھی حاصل نہیں ہوتا
خوش اب تو خوشی سے بھی میرا دل نہیں ہوتا
گردن تن بسمل سے جدا ہو گئی کب سے
گردن سے جدا خنجر قاتل نہیں ہوتا
دنیا میں پری زاد دئیے خلد میں حوریں
بندوں سے وہ اپنے کبھی غافل نہیں ہوتا
دل مجھ سے لیا ہے تو ذرا بولیے ہنسئے
چٹکی میں مسلنے کے لئے دل نہیں ہوتا
عاشق کے بہل جانے سے کو اتنا بھی ہے کافی
غم دل کا تو ہوتا ہے اگر دل نہیں ہوتا
فریاد کروں دل کے ستانے کی اسی سے
راضی مگر اس پر بھی مرا دل نہیں ہوتا
مرنے کے بتوں پر یہ ہوئی مشق کہ مرنا
سب کہتے ہیں مشکل، مجھے مشکل نہیں ہوتا
جس بزم میں وہ رخ سے اٹھا دیتے ہیں پردہ
پروانہ وہاں شمع پہ مائل نہیں ہوتا
کہتے ہیں کہ دل کے تڑپتے ہیں جو عاشق
ہوتا ہے کہاں درد اگر دل نہیں ہوتا
یہ شعر وہ فن ہے کہ امیر اس کو جو برتو
حاصل یہی ہوتا ہے کہ حاصل نہیں ہوتا
آتا ہے جو کچھ منہ میں وہ کہہ جاتا ہے واعظ
اور اُس پہ یہ طرّہ ہے کہ قائل نہیں ہوتا
جب درد محبت میں یہ لذّت ہے تو یارب
ہر عضو میں، ہر جوڑ میں، کیوں دل نہیں ہوتا
دیوانہ ہے، دنیا میں جو دیوانہ نہیں ہے
عاقل وہی ہوتا ہے جو عاقل نہیں ہوتا
تم کو تو میں کہتا نہیں کچھ، حضرتِ ناصح
پر جس کو ہو تک ایسی وہ عاقل نہیں ہوتا
امیر مینائی

یرے دشمن رہیں میرے دل میں

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 112
کیا ہے اس اجڑی ہوئی منزل میں
میرے دشمن رہیں میرے دل میں
وہم آنے لگے کیا کیا دل میں
رک گیا قافلہ کس منزل میں
سوچتا کچھ ہے تو کرتا کچھ ہے
آدمی ہوتا ہے جب مشکل میں
موج جو آتی ہے لٹ جاتی ہے
کون سی بات نہیں ساحل میں
جانے کیا دل کو ہوا ہے باقیؔ
جی نہیں لگتا کسی محفل میں
باقی صدیقی

کیا تیرےغم سے روشنی کچھ مل گئی ہے پھر

باقی صدیقی ۔ غزل نمبر 77
احساس زندگی کی کلی کھل گئی ہے پھر
کیا تیرے غم سے روشنی کچھ مل گئی ہے پھر
ہر نقش اک خراش ہے، ہر رنگ ایک داغ
تصویر آئنے کے مقابل گئی ہے پھر
دو چار گام ساتھ چلے ہیں پھر اہل غم
کچھ دور تک صدائے سلاسل گئی ہے پھر
کچھ آدمی گلی میں کھڑے ہیں ادھر ادھر
شاید جہاں کو بات کوئی مل گئی ہے پھر
ٹوٹا ہے پھر غبار سرراہ کا طلسم
ہر راہرو کے سامنے منزل گئی ہے پھر
چلئے کہیں تو کچھ مجھے اپنی خبر ملے
وہ اک نظر جو لے کے مرا دل گئی ہے پھر
باقیؔ وہ بادباں کھلے وہ کشتیاں چلیں
وہ ایک موج جانب ساحل گئی ہے پھر
باقی صدیقی