ٹیگ کے محفوظات: دلے

متصل شمع سے روتے ہیں گلے جاتے ہیں

دیوان ششم غزل 1842
سر سے ایسی لگی ہے اب کہ جلے جاتے ہیں
متصل شمع سے روتے ہیں گلے جاتے ہیں
اس گلستاں میں نمود اپنی ہے جوں آب رواں
دم بہ دم مرتبے سے اپنے چلے جاتے ہیں
تن بدن ہجر میں کیا کہیے کہ کیسا سوکھا
ہلکی بھی باؤ میں تنکے سے ہلے جاتے ہیں
رہتے دکھلائی نہیں دیتے بلاکش اس کے
جی کھپے جاتے ہیں دل اپنے دلے جاتے ہیں
پھر بخود آئے نہ بدحالی میں بیخود جو ہوئے
آپ سے جاتے ہیں ہم بھی تو بھلے جاتے ہیں
خاک پا اس کی ہے شاید کسو کا سرمۂ چشم
خاک میں اہل نظر اس سے رلے جاتے ہیں
گرم ہیں اس کی طرف جانے کو ہم لیکن میر
ہر قدم ضعف محبت سے ڈھلے جاتے ہیں
میر تقی میر

رہتے ہیں ان کے گلے لگنے کے برسوں سے گلے

دیوان پنجم غزل 1756
عیدیں آئیں بارہا لیکن نہ وے آکر ملے
رہتے ہیں ان کے گلے لگنے کے برسوں سے گلے
اس زمانے کی تری سے لہر بہر اگلی کہاں
بے تہی کرنے لگے دریا دلوں کے حوصلے
غنچگی میں دیکھے ہیں صد رنگ جور آسماں
اب جو گل سا بکھرا ہوں دیکھوں کہ کیسا گل کھلے
سارے عالم کے حواس خمسہ میں ہے انتشار
ایک ہم تم ہی نہیں معلوم ہوتے دہ دلے
میر طے ہو گا بیابان محبت کس طرح
راہ ہے پرخار میرے پائوں میں ہیں آبلے
میر تقی میر

ہے آج عید صاحب میرے لگے گلے تم

دیوان چہارم غزل 1434
پوشاک تنگ پہنے بارے کہاں چلے تم
ہے آج عید صاحب میرے لگے گلے تم
اس نازکی سے گذرے کس کے خیال میں شب
مرجھائے پھول سے ہو جو کچھ ملے دلے تم
کیا ظلم ہے کہ کھینچے شمشیر وہ کہے ہے
آزردہ ہوں گا پھر میں جاگہ سے جو ہلے تم
کم پائی اس قدر ہے منزل ہے دور اتنی
طے کس طرح کروگے یارو یہ مرحلے تم
اکثر نڈھال ہیں ہم پر یوں نہیں وہ کہتا
کیا ہے کہ جاتے ہو گے کچھ اتنے ہی ڈھلے تم
یہ جانتے نہ تھے ہم ایسے برے ہوئے ہو
ہونٹوں پہ جان آئی تم بن گئے بھلے تم
قربانی اس کی ٹھہری پر یہ طرح نہ چھوڑی
تکتے ہو میر اودھر تلوار کے تلے تم
میر تقی میر

بدوضع یاں کے لڑکے کیا خوش معاملے ہیں

دیوان دوم غزل 901
دل لے کے کیسے کیسے جھگڑے مجادلے ہیں
بدوضع یاں کے لڑکے کیا خوش معاملے ہیں
گھبرانے لگتیاں ہیں رک رک کے تن میں جانیں
کرتے ہیں جو وفائیں ان ہی کے حوصلے ہیں
کیا قدر تھی سخن کی جب یاں بھی صحبتیں تھیں
ہر بات جائزہ ہے ہر بیت پر صلے ہیں
جب کچھ تھی جہت مجھ سے تب کس سے ملتے تھے تم
اطراف کے یہ بے تہ اب تم سے آملے ہیں
تھا واجب الترحم مظلوم عشق تھا میں
اس کشتۂ ستم کو تم سے بہت گلے ہیں
سوز دروں سے کیونکر میں آگ میں نہ لوٹوں
جوں شیشۂ حبابی سب دل پر آبلے ہیں
میں جی سنبھالتا ہوں وہ ہنس کے ٹالتا ہے
یاں مشکلیں ہیں ایسی واں یہ مساہلے ہیں
اندیشہ زاد رہ کا رکھیے تو ہے مناسب
چلنے کو یاں سے اکثر تیار قافلے ہیں
پانچوں حواس گم ہیں ہر اک کے اس سمیں میں
کیا میر جی ہی تنہا ان روزوں دہ دلے ہیں
میر تقی میر