ٹیگ کے محفوظات: دلگیر

تِنکا ہونے پر بھی ٹھہرے آنکھوں کا شہتیر ہمیں

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 41
ساتھ ہَوا کے اڑنا چاہا اور ہوئے زنجیر ہمیں
تِنکا ہونے پر بھی ٹھہرے آنکھوں کا شہتیر ہمیں
دُکھ جاتے ہیں جُھوٹ ریا کاروں کا ننگا کر کے بھی
دل کا زہر اُنڈیل کے بھی ہو جاتے ہیں دِلگیر ہمیں
حد سے بڑھ کر بھرنے لگ پڑتے ہیں پھُونک غبارے میں
پھٹ جائے تو بچّوں جیسے بن جائیں تصویر ہمیں
قادرِ مطلق پر بھی دعویٰ ہر لحظہ ایقان کا ہے
اور نجومی سے بھی پوچھیں نِت اپنی تقدیر ہمیں
آئینہ بھی، جیسے ہوں، دِکھلائے خدوخال وُہی
سوچیں تو اپنے ہر خواب کی ہیں ماجدؔ، تعبیر ہمیں
ماجد صدیقی

جوانوں کو انھیں ایام میں زنجیر کرتے ہیں

دیوان ششم غزل 1847
بہار آئی مزاجوں کی سبھی تدبیر کرتے ہیں
جوانوں کو انھیں ایام میں زنجیر کرتے ہیں
برہمن زادگان ہند کیا پرکار سادے ہیں
مسلمانوں کی یارانے ہی میں تکفیر کرتے ہیں
موئے پر اور بھی کچھ بڑھ گئی رسوائی عاشق کی
کہ اس کی نعش کو اب شہر میں تشہیر کرتے ہیں
ہمارے حیرت عشقی سے چپ رہ جانے کی اس سے
مخالف مدعی کس کس طرح تقریر کرتے ہیں
تماشا دیکھنا منظور ہو تو مل فقیروں سے
کہ چٹکی خاک کو لے ہاتھ میں اکسیر کرتے ہیں
نہ لکھتے تھے کبھو یک حرف اسے جو ہاتھ سے اپنے
سو کاغذ دستے کے دستے ہم اب تحریر کرتے ہیں
در و دیوار افتادہ کو بھی کاش اک نظر دیکھیں
عمارت ساز مردم گھر جو اب تعمیر کرتے ہیں
خدا ناکردہ رک جاؤں جہاں رک جائے گا سارا
غلط کرتے ہیں لڑکے جو مجھے دلگیر کرتے ہیں
اسے اصرار خوں ریزی پہ ہے ناچار ہیں اس میں
وگرنہ عجزتابی تو بہت سی میر کرتے ہیں
میر تقی میر

یعنی سایۂ سرو و گل میں اب مجھ کو زنجیر کرو

دیوان پنجم غزل 1713
موسم گل آیا ہے یارو کچھ میری تدبیر کرو
یعنی سایۂ سرو و گل میں اب مجھ کو زنجیر کرو
پیش سعایت کیا جائے ہے حق ہے میری طرف سو ہے
میں تو چپ بیٹھا ہوں یکسو گر کوئی تقریر کرو
کان لگا رہتا ہے غیر اس شوخ کماں ابرو کے بہت
اس تو گناہ عظیم پہ یارو ناک میں اس کی تیر کرو
پھیر دیے ہیں دل لوگوں کے مالک نے کچھ میری طرف
تم بھی ٹک اے آہ و نالہ قلبوں میں تاثیر کرو
آگے ہی آزردہ ہیں ہم دل ہیں شکستہ ہمارے سب
حرف رنجش بیچ میں لاکر اور نہ اب دلگیر کرو
کیا ہو محو عمارت منعم اے معمار خرابی ہے
بن آوے تو گھر ویراں درویشوں کے تعمیر کرو
عاشق ہو ترسا بچگاں پر تاکیفیت حاصل ہو
اور کشود کار جو چاہو پیر مغاں کو پیر کرو
شعر کیے موزوں تو ایسے جن سے خوش ہیں صاحب دل
روویں کڑھیں جو یاد کریں اب ایسا تم کچھ میر کرو
میر تقی میر

گئی کل ٹوٹ میرے پائوں کی زنجیر بھی آخر

دیوان دوم غزل 814
جنوں میں اب کے کام آئی نہ کچھ تدبیر بھی آخر
گئی کل ٹوٹ میرے پائوں کی زنجیر بھی آخر
اگر ساکت ہیں ہم حیرت سے پر ہیں دیکھنے قابل
کہ اک عالم رکھے ہے عالم تصویر بھی آخر
یکایک یوں نہیں ہوتے ہیں پیارے جان کے لاگو
کبھو آدم ہی سے ہوجاتی ہے تقصیر بھی آخر
کلیجہ چھن گیا پر جان سختی کش بدن میں ہے
ہوئے اس شوخ کے ترکش کے سارے تیر بھی آخر
نہ دیکھی ایک واشد اپنے دل کی اس گلستاں میں
کھلے پائے ہزاروں غنچۂ دلگیر بھی آخر
سروکار آہ کب تک خامہ و کاغذ سے یوں رکھیے
رکھے ہے انتہا احوال کی تحریر بھی آخر
پھرے ہے بائولا سا پیچھے ان شہری غزالوں کے
بیاباں مرگ ہو گا اس چلن سے میر بھی آخر
میر تقی میر

مداوا سے مرض گذرا کہو اب میر کیا کریے

دیوان اول غزل 635
چلی جاتی ہی نکلی جان ہے تدبیر کیا کریے
مداوا سے مرض گذرا کہو اب میر کیا کریے
نہ رکھا کرکے زنجیری پریشاں دل ہمارے کو
ہوئی یہ اب تو تیری زلف سے تقصیر کیا کریے
کریں استادگی آیا تھا جی پہ قتل ہونے میں
یہ اپنا کام ہے قاتل یہ اس کو دیر کیا کریے
نہیں آتا ہے کوئی ڈھب ہمیں آسودہ ہونے میں
بھلا تو ہی بتا اے خاطر دلگیر کیا کریے
میر تقی میر

شاید کہ بہار آئی زنجیر نظر آئی

دیوان اول غزل 451
کچھ موج ہوا پیچاں اے میر نظر آئی
شاید کہ بہار آئی زنجیر نظر آئی
دلی کے نہ تھے کوچے اوراق مصور تھے
جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی
مغرور بہت تھے ہم آنسو کی سرایت پر
سو صبح کے ہونے کو تاثیر نظر آئی
گل بار کرے ہے گا اسباب سفر شاید
غنچے کی طرح بلبل دلگیر نظر آئی
اس کی تو دل آزاری بے ہیچ ہی تھی یارو
کچھ تم کو ہماری بھی تقصیر نظر آئی
میر تقی میر

اب تو اس مٹی کے ہر ذی روح ذرّے میں بھی ہے تصویرِ دل

مجید امجد ۔ غزل نمبر 60
جاوداں قدروں کی شمعیں بجھ گئیں تو جل اٹھی تقدیرِ دل
اب تو اس مٹی کے ہر ذی روح ذرّے میں بھی ہے تصویرِ دل
اپنے دل کی راکھ چن کر، کاش ان لمحوں کی بہتی آگ میں
میں بھی اک سیّال شعلے کے ورق پر لکھ سکوں تفسیرِ دل
میں نہ سمجھا، ورنہ ہنگاموں بھری دنیا میں، اک آہٹ کے سنگ
کوئی تو تھا، آج جس کا قہقہہ دل میں ہے دامن گیرِ دل
رُت بدلتے ہی چمن جُو ہم صفیر اب کے بھی کوسوں دور سے
آ کے جب اس شاخ پر چہکے، مرے دِل میں بجی زنجیرِ دل
کیا سفر تھا، بےصدا صدیوں کے پل کے اس طرف، اس موڑ تک
پے بہ پے ابھرا سنہری گرد سے اک نالۂ دلگیرِ دل
وار دنیا نے کیے مجھ پر تو امجد میں نے اس گھمسان میں
کس طرح، جی ہار کر، رکھ دی نیامِ حرف میں شمشیرِ دل
مجید امجد

اے موجۂ ہوا، تہہِ زنجیر کون ہیں

مجید امجد ۔ غزل نمبر 10
اک شوقِ بےاماں کے یہ نخچیر کون ہیں
اے موجۂ ہوا، تہہِ زنجیر کون ہیں
دیوارِ دل کے ساتھ بہ پیکانِ غم گڑے
آ دیکھ یہ ترے ہدفِ تیر کون ہیں
یہ بدلیوں کا شور، یہ گھنگھور قربتیں
بارش میں بھیگتے یہ دو رہگیر کون ہیں
ان ریزہ ریزہ آئنوں کے روپ میں بتا
صدیوں کے طاق پر، فلکِ پیر، کون ہیں
جن کی پلک پلک پہ ترے بام و در کے دیپ
پہچان تو سہی کہ یہ دلگیر کون ہیں
امجد، دیارِ لعل و گہر میں کسے خبر
وہ جن کی خاکِ پا بھی ہے اکسیر، کون ہیں
مجید امجد

رات بھر نعرئہ تکبیر لگا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 77
سینہء ہجر میں پھر چیر لگا
رات بھر نعرئہ تکبیر لگا
دھجیاں اس کی بکھیریں کیا کیا
ہاتھ جب دامنِ تقدیر لگا
وہ تو بے وقت بھی آسکتا ہے
خانہء دل پہ نہ زنجیر لگا
میں نے کھینچی جو کماں مٹی کی
چاند کی آنکھ میں جا تیر لگا
اس سفیدی کا کوئی توڑ نکال
خالی دیوار پہ تصویر لگا
کیوں سرِ آئینہ اپنا چہرہ
کبھی کابل کبھی کشمیر لگا
سر ہتھیلی پہ تجھے پیش کیا
اب تو آوازئہ تسخیر لگا
آسماں گر نہ پڑے، جلدی سے
اٹھ دعا کا کوئی شہتیر لگا
رہ گئی ہے یہی غارت گر سے
داؤ پہ حسرتِ تعمیر لگا
پھر قیامت کا کوئی قصہ کر
زخم سے سینہء شمشیر لگا
بند کر پاپ کے سرگم منصور
کوئی اب نغمہ دلگیر لگا
منصور آفاق