ٹیگ کے محفوظات: دلربا

تلون سے ہے تم کو مدعا کیا

مصطفٰی خان شیفتہ ۔ غزل نمبر 33
کہا کل میں نے اے سرمایۂ ناز
تلون سے ہے تم کو مدعا کیا
کبھی مجھ پر عتابِ بے سبب کیوں
کبھی بے وجہ غیروں سے وفا کیا
کبھی محفل میں وہ بے باکیاں کیوں
کبھی خلوت میں یہ شرم و حیا کیا
کبھی تمکینِ صولت آفریں کیوں
کبھی الطافِ جرات آزما کیا
کبھی وہ طعنہ ہائے جاں گزا کیوں
کبھی یہ غمزہ ہائے جاں فزا کیا
کبھی شعروں سے میرے نغمہ سازی
کبھی کہنا کہ یہ تم نے کہا کیا
کبھی بے جرم یہ آزردہ ہونا
کہ کیا طاقت جو پوچھوں میں "خطا کیا”
کبھی اس دشمنی پر بہرِ تسکیں
پئے ہم جلوہ ہائے دلربا کیا
یہ سب طول اس نے سن کر بے تکلف
جواب اک مختصر مجھ کو دیا کیا
ابھی اے شیفتہ واقف نہیں تم
کہ باتیں عشق میں ہوتی ہیں کیا کیا
مصطفٰی خان شیفتہ

یعنی قربانی کرتا ہوا شیر تھا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 96
اک سیہ بھیڑ تھی اک سیہ شیر تھا
یعنی قربانی کرتا ہوا شیر تھا
بلی کوبادشہ کیسے مانے وہ شخص
جس کی آنکھوں میں شیرِ خدا شیر تھا
شہر میں ہو گیا ہے درندہ صفت
جنگلوں میں مہذب ذرا شیر تھا
نوکری پیشہ یعنی کہ سرکس زدہ
لومڑی کا کوئی دلربا شیر تھا
ایک گیڈر جو گلیوں سے گزرا مری
شور اٹھا شیر تھا شیر تھاشیر تھا
ڈھاڑتا تھاجو منصور کو دیکھ کر
آدمی تھا کوئی ناطقہ شیر تھا
منصور آفاق