ٹیگ کے محفوظات: دلاں

کس نے عذاب جاں سہا کون عذاب جاں میں ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 222
ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے
کس نے عذاب جاں سہا کون عذاب جاں میں ہے
لمحہ بہ لمحہ دم بہ دم آن بہ آن رم بہ رم
میں بھی گزشتگاں میں ہوں تو بھی گزشتگاں میں ہے
آدم و ذات کبریا کرب میں ہیں جدا جدا
کیا کہوں ان کا ماجرا جو بھی ہے امتحاں میں ہے
شاخ سے اڑ گیا پرند ہے دل شام درد مند
صحن میں ہے ملال سا حزن سا آسماں میں ہے
خودمیں بھی بےاماں ہوں میں،تجھ میں بھی بےاماں ہوں میں
کون سہے گا اس کا غم وہ جو مری اماں میں ہے
کیسا حساب کیا حساب حالت حال ہے عذاب
زخم نفس نفس میں ہے زہر زماں زماں میں ہے
اس کا فراق بھی زیاں اس کا وصال بھی زیاں
ایک عجیب کشمکش حلقہ بے دلاں میں ہے
بود نبود کا حساب میں نہیں جانتا مگر
سارے وجود کی نہیں میرے عدم کی ہاں میں ہے
جون ایلیا

پھر مہرباں ہوئی کسی نا مہرباں کی یاد

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 155
وہ خواب گاہِ عرش وہ باغِ جناں کی یاد
پھر مہرباں ہوئی کسی نا مہرباں کی یاد
آنکھوں میں کس کے عارض و لب کے چراغ ہیں
پھرتی ہے یہ خیال میں آخر کہاں کی یاد
پھر گونجنے لگی ہے مرے لاشعور میں
روزِ ازل سے پہلے کے کچھ رفتگاں کی یاد
میں آسماں نژاد زمیں پر مقیم ہوں
کچھ ہے یہاں کا درد تو کچھ ہے وہاں کی یاد
کوئی نہ تھا جہاں پہ مری ذات کے سوا
آئی سکوتِ شام سے اُس لا مکاں کی یاد
دیکھوں کہیں خلوص تو آتی ہے ذہن میں
پیچھے سے وار کرتے ہوئے دوستاں کی یاد
دریائے ٹیمز! اپنے کنارے سمیٹ لے
آئی ہے مجھ کو سندھ کے آبِ رواں کی یاد
منصور آ رہی ہے سرِ آئینہ مجھے
اِس شہرِ پُر فریب میں سادہ دلاں کی یاد
منصور آفاق