ٹیگ کے محفوظات: دفینے

مرے ضمیر! کرم کر مجھے بھی جینے دے

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 17
فضا کا زہر ہی تریاق ہے تو پینے دے
مرے ضمیر! کرم کر مجھے بھی جینے دے
یہ ہم کہ غیر ہیں باوصفِ دعویٰٔ وحدت
جو رازدان ہوں باہم، ہمیں وہ سِینے دے
ہوس سے دُور ہو، اندر ہو پُرسکوں اُس کا
کوئی جو دے تو مری قوم کو دفینے دے
رہِ جنون بس اِتنی سی ڈھیل مانگتا ہوں
ہوئے ہیں زخم جو سینے میں، اُن کو سِینے دے
جو وصف، خاص ہے تجھ سے بروئے کار بھی لا
لغت کو لفظ کو ماجدؔ نئے قرینے دے
ماجد صدیقی

پتہ بتائے کوئی، کب کسی دفینے کا

ماجد صدیقی ۔ غزل نمبر 1
یہ انتظار ہی عنواں ہے اَب تو جینے کا
پتہ بتائے کوئی، کب کسی دفینے کا
بدک کے ثقلِ سماعت سے اہلِ مکّہ کی
جو اہلِ حق ہے مسافر ہے اَب مدینے کا
یقیں اُنہیں بھی خُدا پر ہے بہرِ رزق جنہیں
ہے آسرا کسی پتّھر، کسی نگینے کا
بہ دَورِ نو کسی تنخواہ دار کے گھر کا
حیات، ہفتۂ آخر لگے مہینے کا
ہَوا نے دی سرِ ساحل یہی خبر آ کر
کھُلا نہیں تھا ابھی بادباں سفینے کا
تُو خاک زاد ہے اور جان لے کہ اے ماجدؔ
گُہر نہیں کوئی قطرہ ترے پسینے کا
ماجد صدیقی

نہ جانے کیسی ہوا چل رہی ہے سینے میں

عرفان صدیقی ۔ غزل نمبر 157
بچے گا اب نہ کوئی بادباں سفینے میں
نہ جانے کیسی ہوا چل رہی ہے سینے میں
فضا میں اڑتے ہوئے بادلوں سے یاد آیا
کہ میں اسیر ہوا تھا اسی مہینے میں
وہ رک گیا تھا مرے بام سے اترتے ہوئے
جہاں پہ دیکھ رہے ہو چراغ زینے میں
نکال دی ہے خدا نے نباہ کی صورت
ہمارے سنگ میں اور تیرے آبگینے میں
بدن کی خاک میں کب سے دبا تھا شعلۂ عشق
عجیب چیز ملی ہے مجھے دفینے میں
عرفان صدیقی

خود کو کبھی بوذر کے مدینے سے نکالوں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 270
مرنے سے نکالوں کبھی جینے سے نکالوں ؟
خود کو کبھی بوذر کے مدینے سے نکالوں
کچھ دھوپ چراؤں میں کسی گرم بدن کی
کمرے کو دسمبر کے مہینے سے نکالوں
جراح بلاؤں یا کوئی سنت سپیرا
کس طرح ترے درد کو سینے سے نکالوں
آ پھر ترے گیسو کی شبِ تار اٹھا کر
مہتاب سا بالی کے نگینے سے نکالوں
صحرا سا سمندر کی رگ و پے میں بچھا دوں
لیکن میں سفر کیسے سفینے سے نکالوں
ہے تیر جو سینے میں ترازو کئی دن سے
میں چاہتا ہوں اس کو قرینے سے نکالوں
افلاک سے بھی لوگ جنہیں دیکھنے آئیں
وہ خواب خیالوں کے خزینے سے نکالوں
ہر چیز سے آتی ہے کسی اور کی خوشبو
پوشاک سے کھینچوں کہ پسینے سے نکالوں
ہونٹوں کی تپش نے جو ہتھیلی پہ رکھا ہے
سورج میں اُسی آبلہ گینے سے نکالوں
ممکن ہی نہیں پاؤں ، بلندی پہ میں اتنی
تقویم کے ٹوٹے ہوئے زینے سے نکالوں
نیکی ! تجھے کیا علم کہ کیا لطف ہے اس میں
دل کیسے سیہ کار کمینے سے نکالوں
منصور دہکتے ہوئے سورج کی مدد سے
دریا کو سمندر کے دفینے سے نکالوں
منصور آفاق