ٹیگ کے محفوظات: دستک

دستک

کس نے دروازہ کھٹکھٹایا ہے؟

جا کے دیکھوں تو، کون آیا ہے؟

کون آیا ہے میرے دوارے پر

رات آئی کہاں بچارے پر!

میرے چھپر سے ٹیک کر کاندھا

کون استادہ ہے تھکا ماندہ؟

میری کٹیا میں آؤ، سستا لو

یہ مرا ساغرِ شکستہ لو!

میری چھاگل سے گھونٹ پانی پیو

اک نئے عزم کی جوانی پیو

ٹمٹماتے دیے کی جھلمل میں

جوت سلگا لو اِک نئی دل میں

یہ مرے آنسوؤں کی شبنم لو

پاؤں کے آبلوں کی مرہم لو

یہ مجھے افتخار دو، بیٹھو

سر سے گٹھڑی اتار دو، بیٹھو

میرے زانو پر اپنا سر رکھ کر

طاق پر کاہشِ سفر رکھ کر

نیند کی انجمن میں کھو جاؤ

منزلوں کے سپن میں کھو جاؤ

خواب، وادی و کوہسار کے خواب

دشت و دریا و آبشار کے خواب

خواب اندھیری طویل راہوں کے

کنجِ صحرا کی خیمہ گاہوں کے

جہاں اک شمع ابھی فروزاں ہے

جہاں اک دل تپاں ہے، سوزاں ہے

تم لپٹ جاؤ ان خیالوں سے

اور میں کھیلوں تمہارے بالوں سے

صبح جب نور کا فسوں برسے

سونی پگڈنڈیوں پہ خوں برسے

باگ تھامے حسیں ارادوں کی

تم خبر لو پھر اپنے جادوں کی

جب تلک زیست کا سفینہ بہے

اجنبی اجنبی کو یاد رہے

مجھ کو یہ اپنی یاد دے جاؤ

آؤ بھی، کیوں جھجھکتے ہو، آؤ

تم کہاں ہو؟ کہاں؟ جواب تو دو

او مرے میہماں! جواب تو دو

تم نے دروازہ کھٹکھٹایا تھا!

کس کی دستک تھی؟ کون آیا تھا؟

نیم شب، قافلے ستاروں کے

تیز ہرکارے اَبرپاروں کے

کس نے نیندوں کو میری ٹوکا تھا؟

کوئی جھونکا تھا؟ کوئی دھوکا تھا؟

مجید امجد

اس نے بچھا دی ریت پہ اجرک اتار کے

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 578
پھر شام دشت روح و بدن تک اتار کے
اس نے بچھا دی ریت پہ اجرک اتار کے
کس نے نمازیوں کو بلانے سے پیش تر
رکھا زمیں پہ عرش کا پھاٹک اتار کے
پھرتی ہے رات ایک دیے کی تلاش میں
باہر نہ جانا چہرے سے کالک اتار کے
کرتی ہیں مجھ سے اگلے جہاں کا مکالمہ
آنکھیں میرے دماغ میں اک شک اتار کے
صدیوں سے دیکھ دیکھ کے شامِ زوال کو
رکھ دی ہے میں نے میز پہ عینک اتار کے
بے رحم انتظار نے آنکھوں میں ڈال دی
دروازے پر جمی ہوئی دستک اتار کے
دیوار پہ لگی ہوئی تصویر یار کی
اک لے گیا دوکان سے گاہک اتار کے
گلیوں میں سرد رات اکیلی تو ہونی تھی
میری اداس روح میں ٹھنڈک اتار کے
بستی میں آ گئے ہیں آخر جنابِ قیس
صحرا میں اپنے نقشِ مبارک اتار کے
منصور کیا ہوا ہے تعلق کے شہر کی
دل نے پہن لی خامشی ڈھولک اتار کے
منصور آفاق

جنت کے بنگلے کا پھاٹک اور شراب

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 132
ایک شرابی ہاتھ کی دستک اور شراب
جنت کے بنگلے کا پھاٹک اور شراب
پیاس ہوائے شام میں اپنے بین کرے
ابر ہے بامِ ذات کی حد تک اور شراب
مجھ سے تیری یادیں چھین نہیں سکتے
اُس بازار کے سارے گاہک اور شراب
سات سمندر پار کا ایک پرانا کوٹ
بیچ سڑک کے ٹوٹی عینک اور شراب
سناٹوں کی آوازوں کا ایک ہجوم
شور میں گم ہو جانے کا شک اور شراب
تیری گلی آوازِ سگاں ، مجذوب ضمیر
ڈوب رہی ہے رات کی کالک اور شراب
عمر ہوئی میخانے کے دروازے پر
دست و گریباں میرا مسلک اور شراب
رات کے پچھلے پہر لہو کی صورت تھے
میری رگوں میں گھنگرو ڈھولک اور شراب
کھلتا سرخ سا فیتہ، دوشیزہ فائل
انٹر کام کی بجتی دستک اور شراب
دیکھ کے موسم خود ہی بچھتے جاتے ہیں
صحرا کی سہ پہر میں اجرک اور شراب
ایک گلی میں دو دیواریں ہیں منصور
ساتھ مری بے مقصد بک بک اور شراب
منصور آفاق