ٹیگ کے محفوظات: دسترس

اُس کی خوشبو، نفس نفس میں ہے

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 221
اب جنوں کب کسی کے بس میں ہے
اُس کی خوشبو، نفس نفس میں ہے
حال اس صید کا سنایئے کیا ؟
جس کا صیاد خود قفس میں ہے
کیا ہے گر زندگی کا بس نہیں چلا
زندگی کب کسی کے بس میں ہے
غیر سے رہیو تُو ذرا ہشیار
وہ ترے جسم کی ہوس میں ہے
پاشکستہ پڑا ہوں مگر
دل کسی نغمہِ جرس میں ہے
جون ہم سب کی دسترس میں ہیں
وہ بھلا کس کی دسترس میں ہے
جون ایلیا

نہیں اس قافلے میں اہل دل ضبط نفس بہتر

دیوان اول غزل 206
نہ ہو ہرزہ درا اتنا خموشی اے جرس بہتر
نہیں اس قافلے میں اہل دل ضبط نفس بہتر
نہ ہونا ہی بھلا تھا سامنے اس چشم گریاں کے
نظر اے ابر تر آپھی نہ آوے گا برس بہتر
سدا ہو خار خار باغباں گل کا جہاں مانع
سمجھ اے عندلیب اس باغ سے کنج قفس بہتر
برا ہے امتحاں لیکن نہ سمجھے تو تو کیا کریے
شہادت گاہ میں لے چل سب اپنے بوالہوس بہتر
سیہ کر دوں گا گلشن دود دل سے باغباں میں بھی
جلا آتش میں میرے آشیاں کے خار و خس بہتر
کیا داغوں سے رشک باغ اے صد آفریں الفت
یہ سینہ ہم کو بھی ایسا ہی تھا درکار بس بہتر
قدم تیرے چھوئے تھے جن نے اب وہ ہاتھ ہی سر ہے
مرے حق میں نہ ہونا ہی تھا یاں تک دسترس بہتر
عبث پوچھے ہے مجھ سے میر میں صحرا کو جاتا ہوں
خرابی ہی پہ دل رکھا ہے جو تونے تو بس بہتر
میر تقی میر

لہو کا ولولہ شاید مری ہوس میں نہیں

آفتاب اقبال شمیم ۔ غزل نمبر 67
نہیں کہ آگ تری انگلیوں کے مس میں نہیں
لہو کا ولولہ شاید مری ہوس میں نہیں
کروں زبانِ غزل میں اسے ادا کیوں کر؟
وہ راز جو کہ اشاروں کی دسترس میں نہیں
یہ فصلِ گل ہے، مگر اے ہوائے آوارہ
وہ خوشبوؤں کا ترنم ترے نفس میں نہیں
برائے سیر، خزاں کو کہاں پسند آئے
وہ راستہ کہ گزرگاہِ خار و خس میں نہیں
سمٹ گیا مرے اندر کا ریگ زار کہ اب
جو تھی کبھی وہ کسک نغمۂِ جرس میں نہیں
آفتاب اقبال شمیم

دیکھا نکل گیا نا… تری دسترس سے میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 347
باہر کھڑا ہوں کون و مکاں کے قفس سے میں
دیکھا نکل گیا نا… تری دسترس سے میں
دیکھو یہ پھڑپھڑاتے ہوئے زخم زخم پر
لڑتا رہا ہوں عمر بھر اپنے قفس سے میں
اے دوست جاگنے کی کوئی رات دے مجھے
تنگ آ گیا ہوں نیند کے کارِ عبث سے میں
بے وزن لگ رہا ہے مجھے کیوں مرا وجود
بالکل صحیح چاند پہ اترا ہوں بس سے میں
اک سوختہ دیار کے ملبے پہ بیٹھ کر
انگار ڈھانپ سکتا نہیں خار و خس سے میں
جذبوں کی عمر میں نے مجرد گزار دی
منصور روزہ دار ہوں چودہ برس سے میں
منصور آفاق

مری ذات کب ہے مری دسترس میں

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 303
مقید ہوں میں کن فکاں کے قفس میں
مری ذات کب ہے مری دسترس میں
خبر ہے مگر ڈالتا ہوں کمندیں
اڑانیں تمہاری نہیں میرے بس میں
مری لوحِ تقدیر پر تُو نے لکھا
مسرت کا لمحہ ہزاروں برس میں
تری سرد راتوں کو آغوش دوں گا
بڑی شعلہ افشانیاں ہیں نفس میں
نمل جھیل کے ایک پتھر نے پوچھا
کہاں تیرے وعدے کہاں تیری قسمیں
خزاں خیز موسم میں منصور تجھ سے
ہوئیں پُر نمو قتل گاہوں کی رسمیں
منصور آفاق

تمام رات کوئی میری دسترس میں رہا

منصور آفاق ۔ غزل نمبر 106
میں بدنصیب تھا احمق تھا پیش و پس میں رہا
تمام رات کوئی میری دسترس میں رہا
میں ایک شیش محل میں قیام کرتے ہوئے
کسی فقیر کی کٹیا کے خار و خس میں رہا
سمندروں کے اُدھر بھی تری حکومت تھی
سمندروں کے اِدھر بھی میں تیرے بس میں رہا
کسی کے لمس کی آتی ہے ایک شب جس میں
کئی برس میں مسلسل اسی برس میں رہا
گنہ نہیں ہے فروغ بدن کہ جنت سے
یہ آبِ زندگی، بس چشمۂ ہوس میں رہا
مرے افق پہ رکی ہے زوال کی ساعت
یونہی ستارہ مرا، حرکتِ عبث میں رہا
کنارے ٹوٹ کے گرتے رہے ہیں پانی میں
عجب فشار مرے موجۂ نفس میں رہا
وہی جو نکھرا ہوا ہے ہر ایک موسم میں
وہی برش میں وہی میرے کینوس میں رہا
قدم قدم پہ کہانی تھی حسن کی لیکن
ہمیشہ اپنے بنائے ہوئے قصص میں رہا
جسے مزاج جہاں گرد کا ملا منصور
تمام عمر پرندہ وہی قفس میں رہا
منصور آفاق