ٹیگ کے محفوظات: در ویش

در ویش

زمستان کی اس شام

نیچے خیابان میں،

میرے دریچے کے پائیں،

جہاں تِیرگی منجمند ہو گئی ہے

یہ بھاری یخ آلود قدموں کی آواز

کیا کہہ رہی ہے:

خداوند!

کیا آج کی رات بھی

تیری پلکوں کی سنگیں چٹانیں

نہیں ہٹ سکیں گی؟

خیابان تو ہے دور تک گہری ظلمت کا پاتال،

اور میں اس میں غوطہ زنی کر رہا ہوں

صداؤں کے معنی کی سینہ کشائی کی خاطر چلا ہوں!

یہ درویش،

جس کے اب وجد،

وہ صحرائے دیروز کی ریت پر

تھک کر مر جانے والے،

اس کی طرح تھے

تہی دست اور خاکِ تِیرہ میں غلطاں،

جو تسلیم کو بے نیازی بنا کر

ہمیشہ کی محرومیوں ہی کو اپنے لئے

بال و پَر جانتے تھے،

جنھیں تھی فروغِ گدائی کی خاطر

جلالِ شہی کی بقا بھی گوارا

جو لاشوں میں چلتے تھے

کہتے تھے لاشوں سے:

سوتے رہو!

صبح فردا کہیں بھی نہیں ہے!

وہ جن کے لئے حُریت کی نہایت یہی تھی

کی شاہوں کا اظہارِ شاہنشہی

حد سے بڑھنے نہ پائے!

بھلا حد کی کس کو خبر ہے؟

مگر آج کا یہ گدا،

یہ ہمیشہ کا محروم بھی

اُن اب و جد کے مانند

گو وقت کے شاطروں کی سیاست کا مارا ہوا ہے،

ستم یہ کہ اس کے لئے آج،

مُلّائے رومی کے،

مجذوبِ شیراز کے

زنگ آلود اوہام بھی

دستگیری کو حاضر نہیں ہیں!

خداوند!

کیا آج کی رات بھی

تیری پلکوں کی سنگیں چٹانیں

نہیں ہٹ سکیں گی؟

تجھے، اے زمانے کے روندے ہوئے،

آج یہ بات کہنے کی حاجت ہی کیوں ہو؟

تو خوش ہو

کہ تیرے لئے کھل گئی ہیں ہزاروں زبانیں

جو تیری زباں بن کے

شاہوں کے خوابیدہ محلوں کے چاورں طرف

شعلے بن کے لپٹتی جا رہی ہے!

سیاست نے سوچا ہے

تیری زبان بند کر دے،

سیاست کو یہ کیوں خبر ہو

کہ لب بند ہوں گے

تو کھل جائیں گے دست و بازو؟

وہ بھاری یخ آلود قدموں کی آواز

یک لخت خاموش کیوں ہو گئی ہے؟

نو آموز مشرق کے

نو خیز آئین کے تازیانو،

سکوتِ گدا سے

گدائی تو ساکت نہ ہو گی!

ن م راشد