ٹیگ کے محفوظات: دریابار

ہوئے جس کے لگے کارآمدہ بیکار یا قسمت

دیوان پنجم غزل 1587
اچٹتی سی لگی اپنے تو وہ تلوار یا قسمت
ہوئے جس کے لگے کارآمدہ بیکار یا قسمت
ہوئے جب سو جواں یک جا توقع سی ہوئی ہم کو
نگہ تیز ان نے سو ایدھر نہ کی دو بار یا قسمت
پڑا سایہ نہ اس کی تیغ خوں آلودہ کا سر پر
کیے ہیں یوں تو قسمت ان نے کیا کیا وار یا قسمت
رہا تھا زیر دیوار اس کی میں برسات میں جاکر
گری اس مینھ میں سر پر وہی دیوار یا قسمت
موئے ہم تشنہ لب دیدار کے حالانکہ گریاں تھے
نصیب اپنے کہ سوکھی چشم دریابار یا قسمت
در مسجد پہ ہوکر بے نوا بیٹھے ہیں یا ہادی
ہمیں تھے ورنہ میخانے میں تکیہ دار یا قسمت
نصیبوں میں ہے جن کے عیش وہ بھی میر جیتے ہیں
جیے ہیں ہم بھی جو مرنے کو تھے تیار یا قسمت
میر تقی میر