ٹیگ کے محفوظات: درگاہ

آج وہاں قوالی ہو گی جون چلو درگاہ چلیں

جون ایلیا ۔ غزل نمبر 99
شام ہوئی ہے یار آئے ہیں یاروں کے ہمراہ چلیں
آج وہاں قوالی ہو گی جون چلو درگاہ چلیں
اپنی گلیاں اپنے رمنے اپنے جنگل اپنی ہوا
چلتے چلتے وجد میں آئیں راہوں میں بے راہ چلیں
جانے بستی میں جنگل ہو یا جنگل میں بستی ہو
ہے کیسی کچھ نا آگاہی آؤ چلو ناگاہ چلیں
کوچ اپنا اس شہر طرف ہے نامی ہم جس شہر کے ہیں
کپڑے پھاڑیں خاک بہ سر ہوں اور بہ عزّو جاہ چلیں
راہ میں اس کی چلنا ہے تو عیش کرا دیں قدموں کو
چلتے جائیں ، چلتے جائیں یعنی خاطر خواہ چلیں
جون ایلیا

قدر بہت ہی کم ہے دل کی پر دل میں ہے چاہ بہت

دیوان چہارم غزل 1364
دل نے کام کیے ہیں ضائع دلبر ہے دل خواہ بہت
قدر بہت ہی کم ہے دل کی پر دل میں ہے چاہ بہت
راہ کی بات سنی بھی ہے تو جانا حرف غریب اس کو
خوبی پر اپنی حسن پر اپنے پھرتا ہے گمراہ بہت
حیرانی ہے کیونکر ہووے نسبت اپنی اس سے درست
بندہ تو ہے عاجز عاجز اس کو غرور اللہ بہت
شوق کا خط طومار ہوا تھا ہاتھ میں لے کر کھولا جب
کہنے لگا کیا کرنے لکھے ہے اب تو نامہ سیاہ بہت
سب کہتے ہیں روے توجہ ایدھر کرنے کہتا تھا
شاید یوں بھی ظاہر ہووے ہے تو سہی افواہ بہت
اب تو پیر ہی حضرت ہوکر ایک کنارے بیٹھے ہیں
جب تھی جوانی تب تو ہم بھی جاتے تھے درگاہ بہت
کیا گذری ہے جی پہ تمھارے ہم سے تو کچھ میر کہو
آنے لگی ہے درد و الم سے صاحب لب پر آہ بہت
میر تقی میر

ہمیشہ رہے نام اللہ کا

دیوان سوم غزل 1065
گیا حسن خوبان بد راہ کا
ہمیشہ رہے نام اللہ کا
پشیماں ہوا دوستی کر کے میں
بہت مجھ کو ارمان تھا چاہ کا
جگر کی سپر پھوٹ جانے لگی
بلا توڑ ہے ناوک آہ کا
اسیری کا دیتا ہے مژدہ مجھے
مرا زمزمہ گاہ و بیگاہ کا
رہوں جا کے مر حضرت یار میں
یہی قصد ہے بندہ درگاہ کا
کہا ہو دم قتل کچھ تو کہے
جواب اس کو کیا میرے خونخواہ کا
عدم کو نہیں مل کے جاتے ہیں لوگ
غم اس راہ میں کیا ہے ہمراہ کا
نظر خواب میں اس کے منھ پر پڑی
بہت خوب ہے دیکھنا ماہ کا
لگونہی اگر آنکھ تیری ہو میر
تماشا کر اس کی نظرگاہ کا
میر تقی میر

کیا پوچھتے ہو الحمدللہ

دیوان اول غزل 424
اب حال اپنا اس کے ہے دل خواہ
کیا پوچھتے ہو الحمدللہ
مر جائو کوئی پروا نہیں ہے
کتنا ہے مغرور اللہ اللہ
پیر مغاں سے بے اعتقادی
استغفر اللہ استغفر اللہ
کہتے ہیں اس کے تو منھ لگے گا
ہو یوں ہی یارب جوں ہے یہ افواہ
حضرت سے اس کی جانا کہاں ہے
اب مر رہے گا یاں بندہ درگاہ
سب عقل کھوئے ہے راہ محبت
ہو خضر دل میں کیسا ہی گمراہ
مجرم ہوئے ہم دل دے کے ورنہ
کس کو کسو سے ہوتی نہیں چاہ
کیا کیا نہ ریجھیں تم نے پچائیں
اچھا رجھایا اے مہرباں آہ
گذرے ہے دیکھیں کیونکر ہماری
اس بے وفا سے نے رسم نے راہ
تھی خواہش دل رکھنا حمائل
گردن میں اس کی ہر گاہ و بیگاہ
اس پر کہ تھا وہ شہ رگ سے اقرب
ہرگز نہ پہنچا یہ دست کوتاہ
ہے ماسوا کیا جو میر کہیے
آگاہ سارے اس سے ہیں آگاہ
جلوے ہیں اس کے شانیں ہیں اس کی
کیا روز کیا خور کیا رات کیا ماہ
ظاہر کہ باطن اول کہ آخر
اللہ اللہ اللہ اللہ
میر تقی میر