ٹیگ کے محفوظات: دروں

خیمہِ گُل کے پاس ہی‘ دجلہِ خوں بھی چاہیے

موجِ صبا رواں ہوئی‘ رقصِ جنوں بھی چاہیے
خیمہِ گُل کے پاس ہی‘ دجلہِ خوں بھی چاہیے
کشمکشِ حیات ہے‘ سادہ دلوں کی بات ہے
خواہشِ مرگ بھی نہیں ‘ زہرِ سکوں بھی چاہیے
ضربِ خیال سے کہاں ٹوٹ سکیں گی بیڑیاں
فکرِ چمن کے ہم رکاب‘ جوشِ جنوں بھی چاہیے
نغمہِ شوق خوب تھا‘ ایک کمی ہے مُطربہ!
شعلہِ لَب کی خیر ہو‘ سوزِ دُروں بھی چاہیے
اتنا کرم تو کیجیے‘ بُجھتا کنول نہ دیجیے
زخمِ جگر کے ساتھ ہی دردِ فزوں بھی چاہیے
دیکھیے ہم کو غور سے‘ پوچھیے اہلِ جور سے
روحِ جمیل کے لیے‘ حالِ زُبوں بھی چاہیے
شکیب جلالی

کس قدر خستہ و خوں بستہ دروں ہے میرا

سب پہ ظاہر ہی کہاں حالِ زبوں ہے میرا
کس قدر خستہ و خوں بستہ دروں ہے میرا
میرے اشعار کو تقریظ و وضاحت سمجھو
ورنہ دراصل سخن کن فیکوں ہے میرا
یہ جو ٹھہراوٗ بظاہر ہے اذیّت ہے مری
جو تلاطم مرے اندر ہے سکوں ہے میرا
یہ جو صحراوٗں میں اڑتی ہے یہ ہے خاک مری
اور دریاوٗں میں بہتا ہے جو خوں ہے میرا
وہ جو اخفا میں ہے وہ اصل حقیقت ہے مری
یہ جو سب کو نظر آتا ہے، فسوں ہے میرا
بیچ میں کچھ بھی نہ ہو، یعنی بدن تک بھی نہیں
تجھ سے ملنے کا ارادہ ہے تو یوں ہے میرا
رازِ حق اس پہ بھی ظاہر ہے ازل سے عرفان
یعنی جبریل کا ہم عصر جنوں ہے میرا
عرفان ستار

ہَر بَندِ قَفَس کو توڑا ہے ہَر دامِ فسوں سے گُذرے ہیں

ہر مقتل سے ہو آئے ہیں ہَر موجَہِ خُوں سے گُذرے ہیں
ہَر بَندِ قَفَس کو توڑا ہے ہَر دامِ فسوں سے گُذرے ہیں
اَندیشَہِ فَردا کے ماروں کی صَف میں ہَم کَب شامِل تھے
اے اہلِ خِرَد کُچھ پاسِ اَدَب ہَم لوگ جنوں سے گذرے ہیں
کِس چیز کا غَرّہ ہے اِن کو؟ کِس بات پَر اِتنے نازاں ہیں؟
یہ واعِظ و ناصِح کون سے دَردِ روز اَفزُوں سے گُذرے ہیں
یہ روز بَدَلتے مَوسِم جَب چاہیں جا کَر دَریافت کریں
طُوفانِ حَوادِث حَیراں تھے ہَم اِتنے سکوں سے گُذرے ہیں
کیا جان کی بازی لگنی ہے؟ گر یہ ہے تَو چَلیے یہ ہی سَہی!
ہَم لوگ تَواِس کے عادی ہیں ہَم خاک اُور خُوں سے گُذرے ہیں
بینائی بَغیَرِ دانائی اِلزام ہے اَندھی آنکھوں پَر
کیا اہلِ دَوَل دیکھیں گے ہَم کِس کَربِ دَروں سے گُذرے ہیں
کُچھ کارِ جنوں تھا بے پایاں کُچھ تَنگیِ دامَنِ وَقت بھی تھی
کُچھ ہَم بھی عُجلَت میں ضامنؔ بے "کُن”، "فَیَکُوں” سے گُذرے ہیں
ضامن جعفری

کیا کہوں اب میں’ کہوں یا نہ کہوں‘ سے پہلے

احمد فراز ۔ غزل نمبر 127
سو صلیبیں تھیں ہر اک حرف جنوں سے پہلے
کیا کہوں اب میں’ کہوں یا نہ کہوں‘ سے پہلے
اس کو فرصت ہی نہیں دوسرے لوگوں کی طرح
جس کو نسبت تھی مرے حال زبوں سے پہلے
کوئی اسم ایسا کہ اس شخص کا جادو اترے
کوئی اعجاز مگر اس کے فسوں سے پہلے
بے طلب اس کی عنایت ہے تو حیران ہوں میں
ہاتھ مانوس نہ تھے شاخ نگوں سے پہلے
حرف دل آیا کہ آیا میرے ہونٹوں پہ اب
بڑھ گئی بات بہت سوز دروں سے پہلے
تشنگی نے نگہ یار کی شرمندہ کیا
دل کی اوقات نہ تھی قطرۂ خوں سے پہلے
خوش ہو آشوب محبت سے کہ زندہ ہو فراز
ورنہ کچھ بھی تو نہیں دل کے سکوں سے پہلے
احمد فراز

کس قدر خستہ و خوں بستہ دروں ہے میرا

عرفان ستار ۔ غزل نمبر 4
سب پہ ظاہر ہی کہاں حالِ زبوں ہے میرا
کس قدر خستہ و خوں بستہ دروں ہے میرا
میرے اشعار کو تقریظ و وضاحت سمجھو
ورنہ دراصل سخن کن فیکوں ہے میرا
یہ جو ٹھہراوٗ بظاہر ہے اذیّت ہے مری
جو تلاطم مرے اندر ہے سکوں ہے میرا
یہ جو صحراوٗں میں اڑتی ہے یہ ہے خاک مری
اور دریاوٗں میں بہتا ہے جو خوں ہے میرا
وہ جو اخفا میں ہے وہ اصل حقیقت ہے مری
یہ جو سب کو نظر آتا ہے، فسوں ہے میرا
بیچ میں کچھ بھی نہ ہو، یعنی بدن تک بھی نہیں
تجھ سے ملنے کا ارادہ ہے تو یوں ہے میرا
رازِ حق اس پہ بھی ظاہر ہے ازل سے عرفان
یعنی جبریل کا ہم عصر جنوں ہے میرا
عرفان ستار

سو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سر نگوں وہ بھی

دیوانِ غالب ۔ غزل نمبر 199
بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
سو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سر نگوں وہ بھی
رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلّف سے
تکلّف بر طرف، تھا ایک اندازِ جنوں وہ بھی
خیالِ مرگ کب تسکیں دلِ آزردہ کو بخشے
مرے دامِ تمنّا میں ہے اک صیدِ زبوں وہ بھی
نہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدم
کہ ہو گا باعثِ افزائشِ دردِ دروں وہ بھی
نہ اتنا بُرّشِ تیغِ جفا پر ناز فرماؤ
مرے دریائے بیتابی میں ہے اک موجِ خوں وہ بھی
مئے عشرت کی خواہش ساقیِ گردوں سے کیا کیجے
لیے بیٹھا ہے اک دو چار جامِ واژگوں وہ بھی
مرے دل میں ہے غالب شوقِ وصل و شکوۂ ہجراں
خدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں، وہ بھی
مرزا اسد اللہ خان غالب

دینا تھا تنک رحم بھی بیدادگروں کو

دیوان دوم غزل 932
کیا چہرے خدا نے دیے ان خوش پسروں کو
دینا تھا تنک رحم بھی بیدادگروں کو
آنکھوں سے ہوئی خانہ خرابی دل اے کاش
کر لیتے تبھی بند ہم ان دونوں دروں کو
پرواز گلستاں کے تو شائستہ نہ نکلے
پروانہ نمط آگ ہم اب دیں گے پروں کو
سب طائر قدسی ہیں یہ جو زیر فلک ہیں
موندا ہے کہاں عشق نے ان جانوروں کو
زنہار ترے دل کی توجہ نہ ہو ایدھر
آگے ترے ہم کاڑھ رکھیں گر جگروں کو
پیراہن صدچاک سلاتے ہیں مرا لوگ
تہ سے نہیں مطلق خبر ان بے خبروں کو
جوں اشک جہاں جاتے رہیں گے تو گئے پھر
دیکھا کرو ٹک آن کے ہم دیدہ تروں کو
اس باغ کے ہر گل سے چپک جاتی ہیں آنکھیں
مشکل بنی ہے آن کے صاحب نظروں کو
آداب جنوں چاہیے ہم سے کوئی سیکھے
دیکھا ہے بہت یاروں نے آشفتہ سروں کو
اندیشہ کی جاگہ ہے بہت میرجی مرنا
درپیش عجب راہ ہے ہم نوسفروں کو
میر تقی میر